جلد بازی، رسومات، ٹریفک جام، شہریوں کا کیا قصور؟

جلد بازی، رسومات، ٹریفک جام، شہریوں کا کیا قصور؟
جلد بازی، رسومات، ٹریفک جام، شہریوں کا کیا قصور؟

  

’’بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی ‘‘جی! ہاں بات ہی ایسی ہے کہ سوچ سوچ کر تھک گیا ہوں۔ مسئلہ بھی واضح ہے لیکن خوف بھی طاری ہے کہ یہاں نیک نیتی اور بھلائی کی بات پربھی بُرامان لیا جاتا ہے۔گزشتہ ہفتے لاہور میں دو مختلف حادثات میں 8افراد جان کی بازی ہار گئے تو خیال آیا یہ ٹریفک کے مسائل حل کیوں نہیں ہوتے، کیا وجہ ہے کہ نوجوان ون ویلنگ سے باز نہیں آتے اور پھر یہ کار والے نوجوان ہوا کے گھوڑے پر کیوں سوار رہتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ اب لاہور کی سڑکوں پر اژدھام ہو گیا ہے۔ گاڑی پر گاڑی چڑھے جاتی ہے اور موٹرسائیکل سوار اُف اللہ یہ تو کوئی خلائی مخلوق ہیں کہ سڑکوں پر بائیں سے دائیں اور دائیں سے بائیں گھومتے رہتے ہیں، ایسے میں اگر کوئی مصروف سڑک کسی وجہ سے بند کر دی جائے تو پھر ملحقہ سڑکوں، گلیوں اور بازاروں کا جو حال ہوتا ہے وہ توبہ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ ہر کوئی جلدی اور پہلے جانے کی کوشش میں ٹریفک جام کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے اور گلیوں اور چھوٹی سڑکوں پر بھی لوگ آمنے سامنے جم کر گاڑیاں روک لیتے اور کھڑے رہتے ہیں۔

کام کاج اور دفاتر واؒ لے حضرات کو روزانہ معمول کے مطابق آنا جانا ہوتا ہے تو ان کو بروقت دفتر پہنچنے کے لئے آدھ پون گھنٹہ پہلے روانہ ہونا پڑتا ہے کہ راستے کی رکاوٹوں کے باعث جو دیر ہو سکتی ہے اس سے بچ جائے۔لاہور کینال کی دو طرفہ سڑکیں بہت بڑی ہیں، ایسی سڑکیں تو لندن میں بھی کم ہی دکھائی دیتی ہیں لیکن ان سڑکوں پر بھی ٹریفک کا حال بُرا ہی ہوتا ہے۔ ابھی گزشتہ روز دفتر آنے کے لئے نہر کنارے والی سڑک پر مڑے تو ٹریفک جام سی نظر آئی، بہت سے جلد باز حضرات وہیں سے گاڑیاں موڑ کر واپس آ رہے تھے، ہم نے غور کیا تو گاڑیاں رینگ رہی تھیں، دور آگے دیکھا تو وہاں کچھ ہجوم نظر آیا وہاں سے گاڑیاں سنگل لین بناتے ہوئے دائیں سے ہو کر جا رہی تھیں اور اسی وجہ سے ٹریفک بہت سست تھی، اللہ کا نام لے کر چل دیئے اور رینگتے رینگتے اس مقام پر پہنچے جہاں کچھ لوگ جمع تھے تو معلوم ہوا کہ ایک موٹرسائیکل اور رکشا کے ساتھ کار کی بھی ٹکر ہو گئی اور لوگ جمع ہو گئے ہیں، کچھ تکرار بھی محسوس ہوئی۔ بہرحال سست چلتی ٹریفک میں سے ہم بھی گزر ہی آئے۔

مشاہدے میں یہ بھی آیا کہ ہم نے قطار اور رفتار کی پابندی کی۔ ہمارے پیچھے سے آنے والے بہت جلدی میں محسوس ہوئے کہ ہارن بجاتے اور لائٹیں جلاتے راستہ مانگ رہے تھے۔ ہمارے آگے دائیں بائیں بھی گاڑیاں تھیں۔ ہم چاہتے ہوئے بھی راستہ نہیں دے سکتے تھے لیکن پیچھے نئے ماڈل کی سوک والے کو ناگوار گزر رہا تھا اور وہ مسلسل ہارن بجا کر دائیں پہلو سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے، بمشکل ہمیں گنجائش ملی تو ہم نے ان کو راستہ دیا، بس اتنا ہی کرنا تھا کہ وہ تیزی سے نکلے تو ان کے پیچھے بھی ان جیسے بے چین لوگ ہی تھے۔ یوں قطار سی گزرنے لگی اور ہارن پر ہارن بجتے چلے گئے۔ پھر وہی ہوا کہ آگے جا کر ایک گاڑی کو رکاوٹ پیش آئی، ہنگامی بریک لگی اور پھر پہیے چیخے اور اس کے ساتھ ہی ٹھاہ ٹھاہ کی دو تین آوازیں اور گاڑیاں ایک دوسرے کے اندر، اتنی دیر میں ہم گزرنے میں کامیاب ہو گئے تاہم پچھلی طرف دیکھا تو جھگڑا شروع اور ٹریفک جام نظر آیا۔ ہم نے رکنے سے گریز کیا اور بخیریت دفتر آ گئے۔

ہم شاید بوڑھے ہو گئے کہ یادداشت متاثر ہوئی۔ واپسی پر شادمان کا راستہ لیا کہ ایف سی کالج یونیورسٹی والے پل سے نہر والی سڑک پر پہنچ جائیں گے۔ آگے آنے پر معلوم ہوا کہ اگلے چوک تک نہیں جا سکتے۔ ٹریفک روک لی گئی اور دوسرے راستے سے گزرنے کے لئے کہا جا رہا ہے۔ اچانک یاد آیا کہ آگے تو مذہبی تقریب ہوتی ہے اور ہر روز سہ پہر سے رات گئے تک یہاں سے ٹریفک نہیں گزر سکتی۔ مجبوراً بھیڑ بھاڑ ہی میں ہمیں شادمان چوک سے فیروزپور روڈ کی طرف گزرنا پڑا، فیروز پور روڈ پر ٹریفک رینگ رہی تھی کہ اس پر لوڈ زیادہ ہے۔ بمشکل مسلم ٹاؤن موڑ سے ہوتے ہوئے وحدت روڈ پر آئے، یہاں بھی بھول ہوئی کہ مسلم ٹاؤن کے اندر سے یونیورسٹی روڈ (نہر) پر مڑ جاتے لیکن ٹریفک کی رو میں یاد نہ رہا، بھیکے وال موڑ پر پھر مسلہ درپیش تھا کہ چوک سے سیدھا جانے والی سڑک بند تھی کہ یہاں بھی مذہبی تقریب کا مسئلہ تھا اور سیکیورٹی کے حوالے سے دو طرفہ سڑکیں ٹریفک کے لئے ممنوع قرار دے دی گئی تھیں اس کے بعد اقبال ٹاؤن مین سڑک کی طرف مڑنا لازم ہوگیا اور پھر بہت مشکل سے کریم بلاک مارکیٹ سے ہوتے ہوئے نئی سڑک کے چوک تک آئے تو یہاں بھی ٹریفک جام ملی۔ ایک نئی پریشانی یہ تھی کہ یہاں گدھا گاڑیوں کے علاوہ موٹرسائیکلوں کی بہتات تھی اور یہ نوجوان لڑکے کسی ایک طرف رک کر انتظار نہیں کر رہے تھے، بلکہ دائیں بائیں اور درمیان میں سے جہاں بھی معمولی سی جگہ ہوتی گزر کر آگے چلے جاتے تھے ان نوجوانوں پر کیا منحصر کہ یہاں تو خاصے سمجھدار اور عمر والے حضرات بیوی بچوں کو بٹھائے یہی حرکت کرتے نظر آئے۔ اس کے بعد ایک نیا مسئلہ تھا کہ اشارہ بند ہو جانے پر بھی دوسری طرف سے آنے والے رکتے نہیں تھے اور خطرناک طریقے سے گزر رہے تھے۔ مجبوراً جس ٹریفک کے لئے سگنل گرین ہوا اسے کچھ انتظار کرنا پڑا، چنانچہ ایک ہی اشارے پر اتنی دیر انتظار کرنا پڑا کہ دو تین بار کے بعد باری آئی اور پھر گنجائش نکلی۔

یہ ایک روز یا کسی ایک وقت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہر روز کا معاملہ ہے، ٹریفک پولیس مبہم مہم چلاتی ہے۔ ٹریفک وارڈنز دور کھڑے ہو کر تماشہ دیکھتے اور چالان کرتے ہیں، یہ نظارہ ہر روز اور ہر چوک میں ہوتا ہے، کوئی پرسان حال نہیں۔ ہمارا سوال ہے کہ کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ اس صورت حال کو درست کرنے کے لئے ایک مربوط اور منظم مہم شروع ہو جس کے ذریعے قطار اور اشارے کی پابندی پر مجبور کیا جائے اور غلط روی کی ایسی سزا دی جائے کہ اس کے مرتکب توبہ کر لیں اور پھر کیا وہ وقت بھی نہیں آیا کہ جلسے، جلوس اور مذہبی رسومات والے حضرات سے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے یہ طے کیا جائے کہ شہریوں کی پریشانی کس طرح کم کی جا سکتی ہے۔ مرکزی سڑکیں بند ہوں گی تو یہ مسائل بھی پیدا ہوں گے۔شہری پریشان ہوں گے بسا اوقات مریض اور میت کو بھی راستہ نہیں ملتا اور ایمبولینس کا سائرن ہوا میں ہی بجتا رہ جاتا ہے۔ اب اس ساری صورت حال پر سنجیدگی سے غور کرکے مربوط مہم کی ضرورت ہے۔

مزید :

کالم -