ٹی وی کی سربراہی کے لئے قابلیت؟

ٹی وی کی سربراہی کے لئے قابلیت؟
ٹی وی کی سربراہی کے لئے قابلیت؟

  

کپتان کی قلندرانہ بددماغی اور گستاخانہ جوانمردی نے الزامات وبہتانات کے دفتر کے دفتر مرتب کر دیئے ہیں۔غلط فہمیوں کے جنگلوں کے جنگل اور دفتروں کے دفتر کو ابتر کون کرے گا ؟فلک کو اپنے دفاع کی حاجت نہیں ہوتی اور سمندر کی مہیب وسعت اور ہولناک پاٹ کی حقیقت کا اعتراف غیر ضروری ٹھہرا۔لیکن ٹھہریئے کہ جب جھولے میں جھوٹ کی پرورش و پرداخت ہوتی رہے تو پھر اس پر سچ کا دھوکہ ہونے لگتا ہے۔ارسطو کا خدا قرآن کے خدا سے یکسر مختلف تھا مگر مسلم سائنس دانوں کو حقیقت کی تہہ تک پہنچنے میں اک زمانہ لگا ۔نجم سیٹھی کے 35پنکچر وں کے قصے کے غبارے سے تو ہوا نکل چکی ۔پی ٹی وی کے سربراہ کے ذاتی پیر ہن پر پڑے دھبے دھلنے میں شاید اتنا وقت نہ لگے ۔با شعور اور باخبر خوب جانا کئے کہ کپتان کی مجلس آرائی محض فسانہ سرائی کے لئے ہی ہوتی ہے ۔فرمایا انہوں نے ۔۔۔’’پی ٹی وی کے اوپر کس کو بٹھایا ہے ،ایک ان کے گھر کا پرانا درباری ۔اس کو ہیڈ بنایاہے۔سارے اداروں میں اپنے لوگ بٹھا رکھے ہیں‘‘۔دیکھئے دماغ،دلیل اور قلم بہکنے لگے ہیں کہ باتیں کئی ہیں اور ان کی ترتیب سوجھتی نہیں،بات بنائے بنتی نہیں۔بظاہر تو اعتراض عامیانہ سا ہے لیکن ذرا گہرائی میں جھانکئے تو اس کی زد براہ راست کسی بھی وزیراعظم کے استحقاق اوراختیارات پر پڑتی ہے ۔بات قاسمی کی سربراہی کی ہے تو سہی البتہ بہت آگے تک جاتی ہے ۔کوئی جائے اور جا کر مرزا رفیع سودا کی جماعت اور شیخ ابراہیم ذوق کی جمعیت کو سمجھائے اور پھر وہ آگے کپتان کو سمجھائیں یا بتلائیں ۔۔۔ہماری بلا سے ۔عوام کسی منتخب وزیراعظم کو جب مینڈیٹ دے دیتے ہیں ،پھر وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ٹھہرا کہ وہ کسی ادارے کی سربراہی کے لئے بکر کو نامزد کرے کہ زید کو۔یہ کسی بھی وزیراعظم کا ناقابل تنسیخ اور ناقابل چیلنج حق ہے اور یہ حق فائق ہے ۔سچ پوچھئے توبات نواز شریف کی بھی نہیں کہ مسئلہ وزیراعظم کے استحقا ق کا ہے۔کہا جاتا ہے کہ پیچھے رہ جانے والے آگے نکل جانے والوں پر خوا مخوا سنگ باری اور چاند ماری کرتے رہتے ہیں۔

خان کی محرومی کا تخیل تو ارضی ہے مگر مداوے کی علویت کچھ اور چاہتی ہے۔پو چھا جانا چاہئے کہ پی ٹی وی کی سربراہی کے لئے بنیادی شرائط وجواز کیا ہے؟اہل فکر،اہل نظر،اہل دانش اوراہل ذوق حسن اور فن کے معاملے میں کوئی رو رعایت نہیں کرتے کہ بلا تامل و تکلف حقیقت کا اظہار ہو۔قاسمی صاحب کے فن اور قابلیت میں تو شاید غیروں کو بھی کلام و ابہام نہ ہو۔ہو نہ ہو ایک چیز ان کی قابلیت کو نااہلیت میں بدلتی ہے کہ وہ کپتان کے صف دوستاں میں سے نہیں اور بس۔دید نہیں شنید ہے کہ شاہراہ دستور پرایک صحافی سیاسی جماعت کا جھنڈا اٹھا کر نکل آیا تھا۔قابلیت کے معیار پر شاید کپتان اس محترم موصوف پرصاد کریں۔قاسمی کی اس سے بڑھ کر اور قابلیت کیا ہو کہ وہ مدتوں صحافت و سیاست کے سحر گزیدہ رہے ہیں۔اپنے تمام تر دانشوارانہ تحلیل وتجزیے کے باوجود آج بھی صدا گزیدہ ہیں۔انہوں نے سربراہی سے برس ہا برس پہلے پی ٹی وی کے ڈراموں کو بھی تخلیقی انجیکشن لگایا۔اپنی سفارت کے دوران لکھت سے تائب بھی ہوئے تو اس طرح کہ پرانی لذتوں سے اب بھی مشام جاں معطر ہوئے جاتے ہیں۔طنزو مزاح میں گندھی ان کی تحریر پڑھو تو روح میں بالیدگی ،نظر میں توانائی اور قلب میں رعنائی آتی جاتی ہے۔بس بھئی بس !کپتان کوان چیزوں سے کیا لینا کہ یہ دیئے تو رات کی ضرورت تھے ۔

گلاب کے پھول کی تشبیہہ کتنی ہی دلکشا اور دلربا ہو مگر ماننا پڑے گا کہ حسنِ نزاکت کی ادائیںیہاں کہاں!گل خطمی خوشنما سہی پر اتنا خوبصورت تو نہیں۔تسلیم و تائید کہ جتنی گھن گھرج ،ڈھٹائی اور دریدہ دہنی سے کپتان دھنک کو دھوپ ،سفیدی کو سیاہی،ظلمت کو ضیا اور صر صر کو صبا باور کراتے ہیں۔۔۔قاسمی کے دفاع میں ایسا اور اتنا زورکہاں۔مولانا فضل الرحمان ایسا مسکت جواب عنایت کرنے والا کہاں سے لائیں جو مخالف کا سر پھوڑے اور حریف کا زور توڑے۔کپتان کی گستاخ صدا کے منادی اکثر مولانا ہی رہے ہیں،پرادھرچند دنوں سے انہوں نے شریف برادران کے قریبیوں کو نیزے کی انی پررکھ لیا ہے۔کون جانے کہ بس کوئی گھڑی آئی چاہتی ہے جب صدق و کذب اور رطب و یابس کو وقت الگ الگ چھانٹ دے گا۔پاپی پروپیگنڈے کی بات چیزے دیگر است ورنہ قاسمی تو کبھی بھی درباری نہیں رہے ۔ہاں شریف برادران سے ان کی قربت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور یقینابہت سوں کو یہی کرب ہے ۔زمانہ سازوں اور ابن الوقتوں نے ہر دور میں دوستی کے قرینے بدلے مگر قاسمی ایک ہی در کے ہو رہے ۔انہیں اپنی بلند قامتی کے لئے کسی کو کہنی مارنی پڑی نہ کسی کی سرو قامتی کا سہارا لینا پڑا ۔وہ محنت و جدو جہد کے بل بوتے پر آگے بڑھتے گئے اور نوبت باایں جا رسید کہ پی ٹی وی کی سربراہی انہیں خود پیش کی گئی۔ پروپیگنڈے میں بڑی طاقت ہوتی ہے اوراگر وہ سیاست و خطابت کی زبان میں ہو تو کہیں بڑھ کر ہے ۔کہا جاتا ہے جو لوگ حقیقت کی آوازاورراست کی دھار سے زخمی نہیں ہوتے ،وہ پروپیگنڈے کی زبان کے آگے سپر ڈال دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ تو پروپیگنڈے کی بے پناہ قوت سے واقف ہی نہیں ہوتے ۔پیہم پروپیگنڈا تو بسا اوقات ہوش و حقیقت کو بہائے لے جاتا ہے ۔جذبات کے قتیل پھر چیخ اٹھتے ہیں۔۔۔دیکھا دیکھا تبدیلی کے علمبردار نے کتنی اچھی اور سچی بات کہی۔کڑوا ترین سچ تو یہ ہے کہ خان صاحب کے نزدیک سیاست ایک ذمہ داری نہیں بلکہ پروپیگنڈا کی جنگ ہے یا محض قصہ گوئی کی چاشنی ہے۔پیغمبروں کو پہاڑوں سے،تخلیق کاروں کو تنہائی سے ،سائنس دانوں کو تجسس وتفکر سے اور کچھ کپتان اور شیخ رشیدایسے سیاست دانوں کو پیہم پروپیگنڈا ،سیاسی گپ شپ اور لطیفہ بازی سے خاص انس رہا ہے ۔

مزید :

کالم -