غلطی ہائے مضامین و اشعار!

غلطی ہائے مضامین و اشعار!
 غلطی ہائے مضامین و اشعار!

  

غلطی ہائے اشعار و مضامین کی طرف توجہ دلانے کا اصل مقصد نیک نیتی سے یہ ہوتا ہے کہ کسی مضمون، کالم یا منھ زبانی تقریر میں ادا کئے ہوئے غلط سلط اشعار کی آئندہ کے لئے تصحیح ہو سکے اور سُننے پڑھنے والے گمراہ نہ ہوں نہ ہر لکھی پڑھی سُنی چیز کو سَند مان کر حرزِ جاں بنا لیں بلکہ بقول میر:

مُستند ہے میرا فرمایا ہُوا

تو لیجئے کچھ غلطی ہائے مضامین و اشعار:

ایک کتاب سید اکبر حسین زیدی(سابق پوسٹ ماسٹر) کی آپ بیتی بعنوان’’خاندانی شجرہ اور میری زندگی کے حالات‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ کتاب میں موصوف نے کئی جگہ اُردو، فارسی اشعار بھی اپنی نثر کو توانائی بخشنے کے لئے استعمال کئے ہیں، مگر یہ خیال نہیں رکھا کہ شعر ہر طرح نک سُک سے بھی درست ہو صفحہ 250 پر ایک مشہور زمانہ شعر کو رقم کرنے میں غلطی نہیں ’’بلنڈر‘‘ کی انتہا کر دی گئی ہے۔ درستی اِس لئے ضروری ہے کہ قارئین اِسی شکل میں شعر کو صحیح نہ سمجھ لیں اور یوں بھی ضروری ہے کہ اگر کبھی مذکورہ کتاب کا دوسرا ایڈیشن چھپ سکے تو شعر کی تصحیح کی جا سکے۔ شعر یُوں چھپا ہے:

آج مسجدوں کی انتہا کر دوں

شوق جائے یا جبیں نہ رہے

جبکہ صحیح شکل و صورت میں یہ شعر یوں ہونا چاہئے:

آج سَجدوں کی انتہا کر دوں

شوق مٹ جائے یا جبیں نہ رہے

رواں سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ پنجاب محترمہ ڈاکٹر غوث پاشا نے جو بجٹ تقریر پڑھ کر سُنائی۔ اس کے دوران میں انہوں نے جہاں ’’جنابِِ عالی‘‘ کو جَنیبِ عالی‘‘ کہا وہیں شہباز شریف کو ’’شراب شریف‘‘ کہہ گئیں۔چلئے یہ تو ’’سِلپ آف ٹنگ‘‘ ہوئی زبان ہے،گوشت کا لوتھڑا رہٹ گئی، پِھسل گئی جانے دیجئے، مگر انہوں نے حضرت علامہ اقبال کا ایک مشہور شعر غلط سلط سُنایا جبکہ ’’بالِ جبریل‘‘ میں ’’زمانہ‘‘ کے عنوان سے جو نظم ہے اُس میں متعلقہ اشعار صحیح دُرست حالت میں اس طرح سے ہیں:

جو تھا نہیں ہے،جو ہے نہ ہو گا یہی ہے اک حرفِ محرمانہ

قریب تر ہے نمود جس کی اسی کا مشتاق ہے زمانہ

ہَوا ہے گو تُند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے

وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیئے ہیں انداز خسروانہ

روزنامہ ’’پاکستان‘‘27جولائی2016ء کی خبر کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے وزارتِ علیا سے سبکدوش کئے جانے کے بعد پیپلزپارٹی کی قیادت کے فیصلے پر ایک مشہورِ زمانہ شعر کے ایک مصرع کو غلط سلط دو حصوں میں توڑ مروڑ کر بقول خود شعر سنایا:

ہم تو کرتے ہیں سر تسلیم خم

جو مزاجِ یار میں آئے

جبکہ اصغر حسین اصغر لکھنوی کا یہ مکمل شعر درست شکل میں یوں ہے!

اگر بخشے زہے قسمت نہ بخشے تو شکایت کیا

سر تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے

محسنِ قوم، محافظِ پاکستان عظیم ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے اپنے مقبولِ عام کالم ’’سحر ہونے تک‘‘ مطبوعہ ’’جنگ‘‘ پیر12ستمبر2016ء کو شامی جالندھری کی کتاب ’’عروجِ خیال‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’پروفیسر مصباح الدین شامی نے مجھے بتایا کہ، اُن کے والدِ محترم کا کلام ان کے پاس تقریباً 70سال سے محفوظ ہے۔ مَیں نے مشورہ دیا کہ میرے عزیز دوست اور اعلیٰ شاعر جناب ناصِر زیدی کو مسودہ دے دیں، وہ اس کی قدر و اہمیت کو جان کر یقیناًنہایت احتیاط سے بہت اچھے طریقے سے شائع کر دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ناصِر زیدی نے توقعات سے کہیں زیادہ مہارت دکھائی اور ایک بیش بہا اعلیٰ کتاب کی شکل دے دی۔ کتاب دیکھتے ہی داغ مرحوم کا یہ شعر یاد آ گیا:

خط اُن کا بہت خوب ہے تحریر بھی اچھی

اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!

محترم ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے میرے بارے میں جو چند جملے دِل سے لکھے اور میری قدر افزائی کی اُن کا شکریہ ادا ہو ہی نہیں سکتا۔ ایک سخن گسترانہ بات البتہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ نہ کہوں، نہ لکھوں تو غلطی پھیلتی ہی چلی جائے گی۔ داغ دہلوی کا متذکرہ شعر ہر گز اس شکل میں درست نہیں، جس میں ڈاکٹر صاحب لکھ گئے۔ صحیح شعر دراصل یُوں ہے، قارئین نوٹ فرما لیں:

خط اُن کا بہت خوب، عبارت بہت اچھی

اللہ کرے حُسنِ رقم، اَور زیادہ!

محترمہ سیمہ انوار نے اپنے کالم ’’نقطہ نظر‘‘ میں ذیلی عنوان ’’مارشل لاء سے پہلے‘‘ مطبوعہ روزنامہ ’’خبریں‘‘ ہفتہ 27اگست میں ایک بہت ہی مشہور شعر اِس طرح درج فرمایا ہے:

رات بھر پیتے رہے صبح توبہ کر لی

رند کے اندر ہے جنت بھی ہاتھ سے نہ گئی

متذکرہ صورت میں شعر کے دونوں مصرعوں کا ’’دھڑن تختہ‘‘ ہو گیا ہے۔ اس اُول جُلول شکل کے بجائے صحیح شکل و صورت میں یہ شعر اس طرح ہے:

شب کو مَے خُوب سی پی صبح کو توبہ کر لی

رند کے رِند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

اور یہ بھی بتا دوں کہ شعر کس کا ہے؟ تو یہ شعر ہے حضرتِ جلال لکھنوی کا اور صحیح اِس طرح ہے جیسے مَیں نے لکھا ہے کہ:بقول میر:

مُستند ہے میرا فرمایا ہُوا

ہمارے پیارے دوست شکیل فاروقی سابق کنٹرولر پی بی سی ریڈیو پاکستان سے ریٹائرمنٹ کے بعد باریش ہو گئے ہیں اور ریشِ مبارک سمیت روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ میں ’’قلم برداشتہ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں۔ منگل 4اکتوبر2016ء کی اشاعت میں پنے کالم کے ذیلی عنوان ’’سرگرم سفارت کاری کی ضرورت‘‘ کے تحت آخر میں ایک مشہورِ زمانہ شعر بغیر شاعر کے نام کے اِس طرح رقم کیا ہے:

اُٹھو وگرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی

دیکھو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

جبکہ دوسرے مصرعے کے آغاز میں ’’دیکھو‘‘ نہیں شاعر نے ’’دوڑو‘‘ کہہ رکھا ہے۔ یہ شعر دراصل جسٹس شاہ دین ہمایوں کا ہے اور بالکل صحیح یُوں ہے:

اُٹھو وگرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی

دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

مزید :

کالم -