سانحہ کربلا اور تاریخی واقعات کی کسوٹی

سانحہ کربلا اور تاریخی واقعات کی کسوٹی
سانحہ کربلا اور تاریخی واقعات کی کسوٹی

  


واقعہ کربلا ہماری تاریخ کا المناک ترین باب ہے ۔نبی مہربانﷺ کی رحلت کے نصف صدی بعد آپؐ کے محبوب نواسے کو ان کے پورے اہل و عیال کے ساتھ اس بے دردی کے ساتھ تہ تیغ کر دینا اموی حکومت کے دامن پر سیاہ ترین دھبہ ہے۔ اس کا سبب محض یہ تھا کہ اموی حکمران یزید کی حکومت باقی نہ رہ سکتی تھی اگر امام حسین زندہ رہتے ۔یزید اور اس کے لاؤ لشکر نے جس سنگدلی اور شقاوت کا مظاہرہ کیا وہ ہر لحاظ سے قابلِ مذمت ہے ۔ان واقعات کا علمی تجزیہ تو ہونا چاہیے مگر افراط و تفریط کا شکار ہو کر تاریخ کو اپنی من مانی تعبیر کے سانچے میں نہیں ڈھالنا چاہیے۔ اسلام کے نظامِ خلافت کو جاننے والے صحابہ کرام بخوبی سمجھتے تھے کہ یزید اپنے کردار کے لحاظ سے خلافت کی عظیم ذمہ داری کے لئے بالکل نااہل ہے۔ ان حالات میں اہلِ حجاز کے مشورے سے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ نے حجاز میں اپنی خلافت قائم کی اور یہاں کے تمام لوگوں نے ان کے ہاتھ پر برضا و رغبت بیعت کی۔ دوسری طرف اہلِ کوفہ نے ہزاروں کی تعداد میں خطوط لکھ کر حضرت حسین بن علیؓ کو کوفہ آنے کی دعوت دی، یہ سب واقعات تاریخ میں محفوظ ہیں۔ ابن اثیر ج۲، ص ۰۵۲، تاریخ طبری ج۴، ص ۵۲۲، الکامل لابن الاثیر، ج۲، ص ۰۵۔۹۴ پر وہ تمام تفصیلات موجود ہیں جو اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ یزید حضرت معاویہؓ کا بیٹا ہونے کے علاوہ کسی لحاظ سے بھی اس قابل نہیں تھا کہ کوئی فرد یہ سوچتا کہ زمامِ اقتدار اس کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔

حضرت احنف بن قیسؓ کے بارے میں ابن الاثیر نے صراحت سے لکھا ہے کہ اگرچہ وہ حضرت معاویہؓ کے قریبی ساتھی تھے لیکن ان کی اس سوچ سے کہ وہ اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین مقرر کریں، انھیں سخت اختلاف تھا۔ جب حضرت معاویہؓ نے ان سے اس موضوع پر رائے لینا چاہی تو انھوں نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ آپؓ کے سامنے سچی بات کہتے ہوئے لوگ ڈرتے ہیں لیکن خداخوفی کا تقاضا ہے کہ بات سچی کی جائے۔ امیر المومنین! آپ بخوبی جانتے ہیں کہ یزید کی راتیں کہاں بسر ہوتی ہیں اور دن کیسے گزرتے ہیں۔ آپؓ کے سامنے اس کا ظاہر و باطن سب عیاں ہے۔ پھر آپ اسے کس طرح اپنا جانشین بنا رہے ہیں؟ حضرت معاویہؓ حلیم الطبع انسان تھے۔ اپنے دوست کی اس بات سے بد مزہ تو ہوئے لیکن خاموشی اختیار کی۔ البتہ انھوں نے مصمم ارادہ کر رکھا تھا کہ اپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنائیں گے۔ کبار صحابہ کی مخالفت کے باوجود حضرت معاویہؓ نے اپنے نااہل بیٹے کو اپنا جانشین مقرر کر دیا۔

یزید کی خلافت پورے عالمِ اسلام میں قبول نہیں کی گئی تھی۔ عراق، حجاز، مصر اور دیگر بہت سے علاقوں میں یزید کی مخالفت کی جارہی تھی۔ اہلِ کوفہ نے حضرت امام حسینؓ کو نہ صرف خطوط لکھے بلکہ کئی وفود بھی ان کی خدمت میں بھیجے۔ ان لوگوں کے مسلسل اصرار اور پُر زور مطالبے پر آپؓ نے عراق کی طرف رختِ سفر باندھا۔ اس دوران مکہ، مدینہ اور پورے حجاز میں موجود صحابہ کرامؓ یزید کی ناجائز حکومت اور سیدنا حسینؓ کے سفرِ کوفہ پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔ اکثر صحابہؓ کی رائے یہ تھی کہ امام حسینؓ کو حجاز ہی میں مقیم رہنا چاہیے۔ اہلِ کوفہ کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اور حضرت حسینؓ کے تایازاد بھائی اور بہنوئی حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ کی جچی تلی رائے یہ تھی کہ وہ قابلِ اعتماد لوگ نہیں ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت حسینؓ نے اس کے باوجود کوفہ جانے کا فیصلہ کیوں کیا؟ جہاں تک انسانی تدبیر، حکمت اور دور اندیشی کا تعلق ہوسکتا ہے، حضرت حسینؓ نے بلاشبہ اس کا اہتمام کیا تھا۔ انھوں نے خود کوفہ جانے سے قبل اپنے معتمد ساتھی اور تایا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ بھیجا۔ انھوں نے کوفہ جاکر حالات کا جائزہ لیا اور مفصل خط میں موافق اور سازگار حالات کی رپورٹ دی۔ بعد میں اچانک حالات نے جو پلٹا کھایا تھا، اس کی اطلاع سیدنا حسینؓ تک بروقت نہیں پہنچ پائی تھی۔ راستے میں ایک مقام پر آپؓ کو اس دور کا مشہور شاعر فرزدق ملا جو کوفہ سے آرہا تھا۔ وہ آپ کا بڑا مدّاح تھا۔ اس سے آپ نے وہاں کے احوال پوچھے تو اس نے واضح الفاظ میں کہا ’’قلوب الناس معک وسیوفھم مع بنی امیہ‘‘(الکاملج۳، ص ۷۷۲) یعنی ان کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں مگر ان کی تلواریں بنو امیہ کے ساتھ ہوں گی‘‘۔

کوفہ میں بنو امیہ کی طرف سے حضرت نعمان بن بشیرؓ گورنر تھے۔ ہر چند کہ گورنر دربارِ بادشاہت کا مقرر کردہ تھا مگر وہ خود بھی موروثی بادشاہت پر انشراحِ صدر نہیں رکھتا تھا۔ دوسری جانب بصرہ کا گورنر عبید اللہ بن زیاد، حضرت معاویہؓ کا معتمد ترین شخص تھا مگر ان کی وفات کے بعد یزید بوجوہ اس سے نالاں تھا اور اسے معزول کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ حضرت مسلم بن عقیلؓ کی بیعت کی اطلاعات گورنر ہاؤس کے علاوہ دمشق کے شاہی دربار میں بھی پہنچ رہی تھیں۔ بنو امیہ نے جاسوسی کا ایک بہت موثر نظام قائم کر رکھا تھا۔ جاسوسوں کے ذریعے حضرت نعمان بن بشیرؓ کی شکایات مسلسل یزید کو مل رہی تھیں۔ کسی جاسوس نے ان سے ملاقات کرکے کہا کہ حکومت کے خلاف یہاں بغاوت ہو رہی ہے اور آپ گورنر ہوتے ہوئے خاموش ہیں۔ یا تو آپ کمزور ہیں یا آپ کے عزائم کچھ اور ہیں۔ نعمان بن بشیرؓ جاسوس کے ارادوں کا ادراک نہ کرسکے اور انھوں نے کہا: میں گورنری کی قوت کو استعمال کرکے احکامِ الہٰی کے خلاف سرکشی اور خلقِ خدا پر ظلم نہیں ڈھاسکتا۔ جاسوس نے فوراً یہ اطلاع دمشق بھیج دی۔ اس پر یزید نے اپنے کچھ معتمد درباریوں سے مشورہ کیا تو انھوں نے اسے کہا کہ اگر آپ کے والد معاویہؓ آج زندہ ہوتے تو وہ ابن زیاد کی خدمات سے ضرور فائدہ اٹھاتے۔ (جاری ہے)

مزید : کالم