برصغیر کا مستقبل؟

برصغیر کا مستقبل؟
 برصغیر کا مستقبل؟

  


(آخر میں مذکورہ فلم  دیکھیں)

پاکستان اور بھارت کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے واقعات ہو رہے ہیں۔دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کرتے ہیں ،مگر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ملک ایٹمی قوت ہیں اس لئے کہا جا رہا ہے کہ ان کے درمیان جنگ نہیں ہو سکتی، کیونکہ جنگ کا مطلب مکمل تباہی ہے۔ دونوں ملکوں کے پاس اتنی بڑی تعداد میں ایٹمی ہتھیار موجود ہیں کہ یہ دونوں کئی مرتبہ ایک دوسرے کو مکمل طورپر تباہ کر سکتے ہیں۔ دانشوروں کا خیال ہے کہ معاملات سرحدی جھڑپوں تک محدود رہیں گے اور تھوڑے بہت خون خرابے کے بعد حالات معمول پر آ جائیں گے۔ دنیا کو ایٹم بم کی تباہ کاریوں سے روشناس کرانے کا اعزاز امریکہ نے حاصل کیا تھا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر امن کے عالمی علمبرداروں نے دنیا کو بتایا تھا کہ ایٹمی تباہ کاری کیا ہوتی ہے؟ کہا جاتا ہے کہ اگر جاپان پر ایٹم بم نہ بھی گرائے جاتے تو اس نے ہتھیار ڈال دینے تھے، مگر امریکہ ایٹم بم کو استعمال کرنے کا موقع ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے ایٹم بم استعمال کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے ساتھ امریکہ دنیا میں سپرطاقت کے طور پر سامنے آیا۔ سوویت یونین انتشار کا شکار ہوا ،مگر اس نے اپنی کسی علیحدہ ہونے والی ریاست کے خلاف ایٹم بم استعمال کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ جرمنی کو جب فتح کر لیا گیا تو نازی فوجوں کے پاس خطرناک کیمیائی گیس کے بڑے ذخائر ملے۔ یہ گیس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتی تھی ،مگر ہٹلر نے کبھی اس گیس کو استعمال کرنے کی جرات نہیں کی، تاریخ کا المیہ دیکھئے کہ امریکیوں نے عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کا پراپیگنڈا کیا اور اس پراپیگنڈے کی بنیاد پر عراق پر انسانی تاریخ کی بدترین بمباری کی۔ دنیا کو یہ نوید سنائی گئی کہ صدام حسین ایک بڑا ڈکٹیٹر ہے اور اس کی رخصتی کے بعد ہی عراق میں امن قائم ہو گا۔ جمہوریت کی حکمرانی قائم ہو گی اور لوگ امریکیوں کو نجات دہندہ کے طور پر یاد کریں گے، مگر امریکی مداخلت نے مشرق وسطیٰ میں ایک ایسی تاریخی تباہی کا آغاز کیا جس کا خاتمہ ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔ چند عشرے پہلے جو عرب ممالک اسرائیل کے لئے خطرہ بنے ہوئے تھے اب خود ان کا وجود خطرے میں پڑا ہے۔ آج مشرق وسطیٰ انسانی تاریخ کے بدترین المیوں کا تجربہ کر رہا ہے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی میں امریکیوں نے جو خوفناک تباہی پھیلائی تھی افغانستان اور عراق کے انسانی المیے اس سے کہیں بڑھ کر المناک تصویریں پیش کر رہے ہیں۔

آج بھی امریکی نریندرمودی کے ساتھ ہیں۔ وہ نریندر مودی کو عالمی لیڈر بنانے پر تلے بیٹھے ہیں اور نریندر مودی امریکیوں کو خوش کرنے کے لئے پاکستان کی تباہی کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ چین کو آنکھیں دکھا سکتا ہے اور اس خطے کو ناقابل بیان مصائب میں جھونک سکتا ہے۔ اگر آپ سنجیدگی کے ساتھ برصغیرکے مستقبل کے متعلق کوئی اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو آپ کو نریندرمودی کو سمجھنا ہو گا اور ہمارے خیال کے مطابق نریندر مودی کو سمجھنے کے لئے ایک ڈاکومنٹری فلم بڑی اہم ہے۔ 2002ء کے فسادات پر ڈاکومنٹری فلم The Final Solution نامی فلم یوٹیوب پر موجود ہے۔ اس کو بھارت میں نہیں دکھایا جا سکتا۔ انڈین سنسر بورڈ کے مطابق یہ بھارت کے مفادات کے خلاف ہے، مگر اس ڈاکومنٹری کو پوری دنیا میں دیکھا گیا ہے، اس ڈاکومنٹری میں انتہائی معروضی انداز میں واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ فنی اعتبار سے بھی یہ فلم غیر معمولی ہے، مگر اسے بھارتی جمہوریت کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر بھی پیش کیا جا سکتا ہے کہ جہاں ایک ہندو ایک ایسے سچ کو جرات مندی سے پیش کر رہا ہے جس سے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم بولتے نظر آ گئے ہیں اور اس میں ہندو انتہاپسندی کا جنون اپنی بدترین صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ لوگ جو تحریک پاکستان کو بھول گئے ہیں انہیں یہ ڈاکومنٹری پاکستان کے ناگزیر ہونے کا یقین دلاتی ہے۔ اس میں صرف درد بولتے ہیں۔ اس ڈاکومنٹری میں بتایا گیا ہے کہ انتخابات سے قبل بی جے پی نے گجرات میں پارٹی کی قیادت نریندر مودی کے سپرد کر دی تھی اور پھر سب نے دیکھا کہ نریندر مودی نے بی جے پی کو مقبول جماعت بنانے کے لئے کیسے کیسے ہتھکنڈے استعمال کئے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ گجرات کے فسادات، گودھرا ٹرین کے سانحے پر فوری ردعمل ہے، مگر یہ ڈاکومنٹری بتاتی ہے کہ یہ قتل عام باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے کیا گیا تھا۔

فلم کا آغاز 2002ء کے انتخابات کے بعد واقعات سے ہوتا ہے جس میں مسلمانوں کے خلاف نعرے لگائے جاتے ہیں۔ ان کو گالیاں دی جاتی ہیں اور پھر ایک مسلمان بچہ بتاتا ہے کہ اس نے کس طرح اپنے قریبی اہل خانہ کو قتل ہوتے دیکھا تھا۔ فلم میں نریندر مودی کی ’’گرویاترا‘‘ کے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ مودی نے پورے گجرات کا دورہ کیا تھا۔ وہ اس یاتراکو دور دراز دیہات تک لے کر گئے تھے اور انہوں نے ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو آگ لگانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم میں ان اجتماعی قبروں کو دکھایا گیا ہے، جہاں بڑی تعداد میں مسلمانوں کو دفنایا گیا تھا۔اس گھر کو دکھایا گیا ہے، جہاں سے جعفری کو نکال کر تشدد کے بعد آگ لگا دی گئی تھی۔ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ کس طرح جعفری ہندو بلوائیوں کے حملہ آور ہونے سے پہلے نریندر مودی‘ وزیراعظم اور دوسرے تمام اہم لیڈروں کو فون کرتے رہے تھے۔

گجرات کے فسادات کا آغاز ہندو یاتریوں کی ٹرین میں آگ لگنے کے بعد ہوا تھا جس میں ہندو جل کر ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سلسلے میں جو تحقیقات کرائی گئیں ان میں زیادہ تر یہی امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا، مگر نریندر مودی اور بی جے پی قیادت نے اس واقعے کو مسلمانوں کے خلاف جذبات کو آگ لگانے کے لئے استعمال کیا۔ نریندر مودی کو ہیرو بننے کے لئے ولن کی ضرورت تھی۔ ٹرین کے واقعہ نے اسے مسلمانوں کو ولن بنانے اور خود ہیرو بننے کا موقعہ فراہم کیا تھا اور ایک چالاک سیاستدان کی طرح نریندر مودی نے اس واقعے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا تھا۔ خشونت سنگھ نے گجرات کے فسادات سے متاثر ہو کر End of India کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی تھی جس میں اس نے بھارت کے مستقبل کے متعلق ناامیدی کااظہار کیا تھا۔ اس دانشور بھارتی سکھ صحافی کا خیال تھا کہ انتہاپسندی بھارت کو مکمل طور پر تباہ کر دے گی۔ آج جسٹس کھوسلہ بھی کھل کر یہی بات کر رہے ہیں کہ آر ایس ایس بھارت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ گجرات کے فسادات کے بعد امریکی حکومت نے نریندر مودی پر امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ ان فسادات سے بھارت کا سیکولر امیج بہت متاثر ہوا تھا۔ جب دنیا نریندر مودی کو گجرات کے مسلم کش فسادات کاذمہ دار قرار دے رہی تھی تو خود بھارتی ہندو انہیں اپنا لیڈر قرار دے رہے تھے۔ فسادات کے بعد ہونے والے انتخابات میں گجرات میں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی اور نریندر مودی صوبے کے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے۔ ایک چھوٹی سی دکان سے چائے بیچنے والے لڑکے کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے نریندر مودی کے لئے یہ بہت بڑی کامیابی تھی، مگر نریندر مودی کی کامیابی کا سفر ختم نہیں ہوا۔ ان پر گجرات کے فسادات کے حوالے سے جو تنقید ہوتی تھی اس نے انہیں بھارت کے ہندوؤں کا لیڈر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ نریندر مودی اپنی کامیابی کا راز مسلم دشمنی میں تلاش کر چکے تھے۔

نریندر مودی نے برسراقتدار آنے کے بعد کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کے لئے اقدامات کا آغاز کرنا شروع کر دیا۔ راکیش شرما کی فلم کے آخری مناظر میں ان ہندوؤں کو دکھایا گیا ہے جن کے نزدیک بھارت میں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے، مگر اس میں وہ معصوم بچہ دوبارہ نظر آتا ہے جس نے اپنے خاندان کو قتل ہوتے دیکھا تھا۔ اس سے سوال کیا جاتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر کیا کرے گا؟ بچہ بڑی معصومیت سے جواب دیتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر ہندوؤں کو قتل کرے گا۔ نریندر مودی نے شاید یہ ڈاکومنٹری نہیں دیکھی، مگر اسے بتایا جا رہا ہے کہ برہان مظفر وانی کی صورت میں یہ بچہ جوان ہو چکا ہے۔ حالات نے اس بچے کے ہاتھ میں بندوق تھما دی۔ جاوید اختر کہتے ہیں کہ میں مذہب پر یقین نہیں رکھتا، مگر وہ بھی دکھ کا اظہار ضرور کرتے ہیں کہ بھارت میں یہ نعرے لگائے جاتے ہیں کہ ’’مسلمانوں کے دو ہی استھان۔ پاکستان یا قبرستان۔‘‘

بھارتی فلموں میں کشمیریوں کو بتایا جاتا ہے کہ ’’دودھ مانگو گے کھیر دیں گے۔ کشمیر مانگو گے‘ چیر دیں گے۔‘‘ ۔۔۔مگر کشمیری اپنا حق فراموش کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔ نہرو نے کشمیریوں کو یقین دلایا تھا کہ انہیں استصواب رائے کا حق دیا جائے گا۔ بہت سے ہندو راہنما بھی کشمیریوں کے حقوق کی بات کرتے رہے ہیں، مگر آج بھارت کی قیادت نریندر مودی کے ہاتھوں میں ہے جس نے ہندو انتہا پسندی کے حوالے سے اقتدار حاصل کیا ہے اور وہ ایسے مشیروں میں گھرے ہوئے ہیں جو ’’را‘‘ کے ان افسروں سے متاثر ہیں جو انہیں بتاتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنایا تھا؟ کس طرح انہوں نے سکم کی ریاست کو بھارت کا حصہ بنایا تھا اور کس طرح سیاچین پر بھارتی قبضہ کرایا تھا؟۔۔۔ مگر نریندر مودی کو شاید کوئی یہ بتائے کہ را نے سیاچین گلیشیئر پر قبضہ تو کرا دیا تھا ،مگر اس کے بعد یہاں عشروں سے ایک ایسی جنگ ہو رہی ہے جس میں ہزاروں فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور یہاں ہونے والے سالانہ اخراجات اربوں ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ اس رقم سے بھارت کے کئی صوبوں میں غربت دور کی جا سکتی تھی۔ بھارت نے بنگلہ دیش ضرور بنا لیا، مگر اس کے بعد بھارت میں علیحدگی کی کئی درجن تحریکیں شروع ہو گئیں اور چند سال قبل من موہن سنگھ نے نکسل باڑی تحریک کو بھارت کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ سری لنکا میں ’’را‘‘ کی مداخلت نے جن انسانی المیوں کو جنم دیا ان میں راجیوگاندھی کی موت بھی ایک بڑا المیہ تھی۔ ’’را‘‘ کی پالیسیوں نے صدیوں سے پرامن رہنے والے جنوبی بھارت میں بھی تشدد کے بیج بو دیئے ہیں۔ ’’را‘‘ بھارت کے لئے جو کامیابیاں حاصل کر رہی ہے، درحقیقت ان سے بھارت کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

آج سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تشدد کی سیاست کے ذریعے عروج حاصل کرنے والے نریندر مودی کو امن کی برکات کے متعلق قائل کیا جا سکتا ہے۔ کیا امریکی قیادت میں اتنی بصیرت ہے کہ وہ چین کی مخالفت میں یہاں آگ و خون کے نئے طوفان نہیں اٹھائے گی۔ نریندر مودی جس راستے پر جا رہے ہیں اس سے اس خطے میں نئے ہیروشیما اور ناگاساکی بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ خودکش بمبار کی ذہنیت سے قومی لیڈروں کو محفوظ رکھنا خاصامشکل نظر آ رہا ہے، مگر ہمیں امید کی کرن پاکستان اور بھارت کے ان دانشوروں کی سرگرمیوں میں ضرور نظر آ رہی ہے جو امن ہی کو واحد راستہ سمجھتے ہیں۔ بھارت میں ایسے راہنما موجود ہیں جو پاکستان میں افغانستان جیسے حالات نہیں دیکھنا چاہتے اور انہیں یقین ہے کہ ایک مضبوط پاکستان ہی بھارت کی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتاہے، مگر کیا امن کی امید ایسی سیاسی قیادت سے کی جا سکتی ہے جس نے تشدد کو فروغ دے کر اقتدار حاصل کیا ہو؟ یہ چند ایسے سوال ہیں جن پر جتنا زیادہ غور کیا جائے، اتنا ہی برصغیر کے مستقبل کے متعلق تشویش میں اضافہ ہوتا ہے۔ویڈیو دیکھیں

Gujarat-genocide-of-minorities-in-India by dailypakistan

مزید : کالم