عوامی شکایات اور وفاقی محتسب کی شاندار کارکردگی

عوامی شکایات اور وفاقی محتسب کی شاندار کارکردگی

وفاقی محتسب سلمان فاروق نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وفاقی محکموں سے متعلق عوامی شکایات کو دو ماہ کی بجائے ضلع اور تحصیل کی سطح پر25 دِنوں میں نمٹانے کا کام کامیابی سے جاری ہے۔ عموماً افہام و تفہیم سے80فیصد شکایات کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ وسائل اور وقت کے ضیاع کو روکنے کے لئے وفاقی محتسب کا سارا نظام ’’پیپر لیس‘‘ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔وفاقی محتسب نے یہ بھی بتایا کہ تمام انٹرنیشنل ایئر پورٹس پر اوورسیز پاکستانیز کی شکایات کے حوالے سے سہولت ڈیسک بنا دیئے گئے ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران36ہزار شکایات موصول ہوئیں، ارجنٹ ڈیل کے ذریعے ہر شکایت کو ایک گھنٹے کے اندر اندر نمٹا دیا گیا۔وفاقی محتسب سلمان فاروقی نے جو اعداد و شمار بتائے اور ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے جو تفصیلات بیان کی ہیں، وہ بلاشبہ قابلِ تعریف ہیں۔ شکایات کا ازالہ دو ماہ سے25یوم کے اندر کرنے کا تجربہ کامیابی سے جاری ہے۔ سرکاری محکموں میں عوام کو بنیادی طور پر یہ شکایت ہوتی ہے کہ اُن کی شکایات پر توجہ نہیں دی جاتی اور مسئلہ حل ہونے کی بجائے پیچیدہ ہوتا رہتا ہے۔ عموماً شکایات بجلی، گیس، نادرا، پاسپورٹ، انشورنس اور پی آئی اے سے متعلق ہوتی ہیں۔ بیشتر شکایات فوری توجہ دینے اور افہام و تفہیم کی پالیسی کے باعث دِنوں میں ختم ہو جاتی ہیں۔ وفاقی محتسب کے مطابق صرف 20فیصد شکایات فوری طور پر اِسی لئے ختم نہیں ہوتی ہیں کہ سرکاری محکمہ یا پھر شکایت کنندہ اپنے موقف پر ڈٹا رہتا ہے، تو پھر مزید وقت دینا پڑتا ہے۔ یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ2014ء تک دو ماہ کے اندر معاملہ نمٹایا جاتا تھا، اگلے سال یہ مدت کم کر کے ڈیڑھ ماہ کر دی گئی۔ رواں سال سے ضلع اور تحصیل کی سطح پر25دِنوں میں شکایات کا ازالہ کرنے کا تجربہ کامیابی سے جاری ہے۔ ایک نیا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت جس ادارے کا مسئلہ ہوتا ہے اُسی ادارے کا ایک مجاز افسر نامزد ہو گا، پندرہ دِنوں میں شکایت کا ازالہ کرے گا۔ یہ صورتِ حال حوصلہ افزا ہے، جس کے لئے وفاقی محتسب اور اُن کی ٹیم قابلِ مبارک باد ہے۔ تاہم جن شکایات کا ازالہ اِس لئے نہیں ہوتا، کہ متعلقہ محکمہ وفاقی محتسب کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کرتا، ایسی شکایات کا ازالہ بھی یقینی بنایا جائے۔ وفاقی محتسب کے ادارے کا رخ پریشان حال لوگ اِس لئے بھی کرتے ہیں کہ وہاں مالی وسائل اور وقت کا ضیاع نہیں ہوتا۔ وفاقی محتسب کو اپنی اتھارٹی منوانے کے لئے دو چار شکایات کے ازالے کے لئے میرٹ اور انصاف کا بول بالا کر کے مثال قائم کرنی چاہئے۔

مزید : اداریہ