ایمنسٹی انٹرنیشنل کی روزنامہ کشمیر ریڈرز کی اشاعت پر پابندی کی شدید مذمت

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی روزنامہ کشمیر ریڈرز کی اشاعت پر پابندی کی شدید مذمت

سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بین الاقومی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کٹھ پتلی انتظامیہ کی طرف سے سرینگر سے شائع ہونیوالے انگریزی روزنامہ ’’کشمیر ریڈر‘‘ کی اشاعت پر پابندی کو اظہار رائے کی آزادی کیلئے ایک دھچکا قرار دیتے ہوئے پابندی فوری طورپر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر آکار پٹیل نے ایک بیان میں کہا کہ مذکورہ اخبار نے حالیہ مہینوں کے دوران وادی میں جاری تشدد کی وسیع کوریج کی اور بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کو ااْجاگر کیاہے اور انتظامیہ کے اس اقدام سے ظاہر ہوتاہے کہ اخبار کو اسکی رپورٹنگ کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر ایڈیٹرز گلڈ نے بھی اس پابندی کو جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کے خلاف قرار دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اشاعت پر پابندی کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکمنامے میں اخبار میں شائع ایسی کسی رپورٹ کی نشاندہی نہیں کی ہے، جو تشدد کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ پابندی کا یہ مبہم حکمنامہ اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے کہ اخبار کو اس کی رپورٹنگ کیلئے نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کی پامالیوں کی رپورٹنگ کے حوالے سے میڈیا کا کردار اہمیت کا حامل ہے اور حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ آزادی صحافت اور اطلاعات تک رسائی کے لوگوں کے حق کا احترام کرے۔ادھر کشمیر ریڈر‘ کی اشاعت پر پابندی کے خلاف پریس کالونی سرینگر میں دوسرے روز بھی ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کا احتجاج جاری رہا ۔ صحافیوں نے سرینگرمیں دھرنا دینے کے علاوہ گھنٹہ گھر چوک تک ریلی نکالی اور اخبار کی اشاعت پر قدغن کی شدید مذمت کی ۔ مظاہرے میں شامل صحافیوں کا کہنا تھا کہ کشمیر ریڈر کی اشاعت پر پابندی عائد کر کے انتظامیہ نے جمہوریت کے چوتھے ستون مسمار کرنے کی کوشش کی۔مظاہرین نے اخبار کی اشاعت پر قدغن فوری طورپر ختم کرنے کامطالبہ کیا ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ عالمی ذرائع ابلاغ کی طرف سے کشمیر کے نامسائد حالات سے متعلق جو خبریں آتی ہیں وہ حقیقت سے بعید ہوتی ہیں اور اس صورتحال میں مقامی اخبارات ہی لوگوں کی آواز کو اعلیٰ ایوانوں تک پہنچاتے ہیں اور ان پر قدغن عائد کرنا جمہوریت کے منافی اقدام ہے ۔ پریس کالونی سرینگر میں مظاہرے اور دھرنے میں وادی سے شائع ہونے والے تمام اخبارات اور ٹی وی چینلوں سے وابستہ نامہ نگاروں، ایڈیٹروں ،فوٹو جرنلسٹوں اور دیگر عملے نے شرکت کی ۔

مزید : عالمی منظر