صدر محمودعباس کو شمعون پیریز کے آخری رسومات میں شرکت پر تنقید کا سامنا

صدر محمودعباس کو شمعون پیریز کے آخری رسومات میں شرکت پر تنقید کا سامنا

  

غزہ (اے پی پی) فلسطینی صدر محمود عباس کو اسرائیل کے سابق صدر اور وزیراعظم شمعون پیریز کی آخری رسومات میں شرکت مہنگی پڑ گئی ہے اور انھیں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اپنے اہم وطنوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔صدرعباس کے ناقدین سوشل میڈیا پر عربی زبان میں تحریریں اور ویڈیوز پوسٹ کررہے ہیں اور ان کا زیادہ تر زور بیان شمعون پیریز کے سیاسی اور عسکری ورثے پر ہے۔

انھیں 1990ء میں فلسطینیوں کے ساتھ طے پائے اوسلو معاہدے کا معمار قرار دیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر انھیں اور مرحوم فلسطینی صدر یاسرعرفات کو مشترکہ طور پر امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔لیکن اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرنے والے دو عرب ممالک مصر کے صدر اور اردن کے شاہ نے شمعون پیریز کی آخری رسوم میں شرکت سے گریز کیا ہے جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس وہاں جا پہنچے تھے۔ان کی حریف فلسطینی جماعت حماس نے شمعون پیریز کے جنازے میں شرکت پر ان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے فلسطینی اصولوں سے انحراف کیا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -