سرینگر، احتجاجی مظاہروں میں شامل سرکاری ملازمین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

سرینگر، احتجاجی مظاہروں میں شامل سرکاری ملازمین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

  

سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی انتظامیہ نے حالیہ انتفادہ کے دوران بھارت مخالف احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے والے 130سے زائدسرکاری ملازمین کوگرفتار کر کے جیل بھجوانے کیلئے ڈوزیر تیار کر لیا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مقامی ذرائع ابلاغ نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے احتجاجی مظاہروں یا پتھراؤ کے واقعات میں بلواسطہ یا بلا واسطہ طورملوث سرکاری ملازمین پر بھی کالاقانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ابتدائی مرحلے میں130سے زائد سرکاری ملازم لیڈروں ، ملازم انجمنوں کے عہدیداروں اور دیگر ملازمین کی گرفتار ی کے بعد ان پر کالاقانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر نے کا عمل شروع کردیاگیا ہے ۔ بیشتر ملازمین پر الزام ہے کہ وہ پولیس اور بھارتی فورسز پر پتھراؤ میں ملوث ہیں جبکہ کئی ملازمین پر احتجاجی مظاہروں میں شرکت اور پتھراؤ کے واقعات میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ اس ضمن میں کٹھ پتلی انتظامیہ نے بھارتی خفیہ اداروں کے ساتھ مل کر سرکاری ملازمین کی ایک فہرست مرتب کی ہے جن پرکالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کیا جائیگا ۔ذرائع نے بتایا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے احتجاجی مظاہروں میں شریک تمام سرکاری ملازمین کے خلاف مرحلہ وار کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ا نہوں نے بتایا کہ چوبیس گھنٹے سے زائد عرصے تک پولیس کی حراست میں رہنے والے ملازمین خود بخود معطل قرار پائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ان ملازمین کو بعد میں نوکری سے برطرف بھی کیا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں 8جولائی کو حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان وانی کے ماورائے عدالت قتل کے بعد سے جاری حالیہ انتفادہ کے دوران بھارتی پولیس اب تک چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران6ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتارکرچکی ہے اور ان میں سے سینکڑوں افراد کوکالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت وادی سے باہر مختلف جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔گرفتار شدگان میں مختلف آزادی پسند رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے جنہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کیاگیا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -