’’صدیق الفاروق کے گھر سے‘‘

’’صدیق الفاروق کے گھر سے‘‘
 ’’صدیق الفاروق کے گھر سے‘‘

  

یہ تین روز پہلے سوموار کی رات تھی اور میں چیئرمین متروکہ وقف املاک صدیق الفاروق کی رہائش گاہ پر اپنے بہت سارے سینئر ساتھیوں کے ساتھ موجود تھا ،یقین کریں اگر معاملہ صرف کھانے کا ہوتا تو میں بھی خاموشی سے نکل چکا ہوتا، یہ گورنر پنجاب رفیق رجوانہ کے اعزاز میں ایک تقریب تھی اور لمبی تقریریں ہو رہی تھیں، آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تقریریں تو شاید اتنی زیادہ طویل نہیں تھیں مگر مقررین کی فہرست تھوڑی طویل ضرور تھی، جناب الطاف حسن قریشی نے اپنی تقریر کی قربانی دے ڈالی اور جناب مجیب الرحمان شامی نے مختصر کر ڈالی جس پر سامعین کی طرف سے انہیں خاموش مگر مسکراہٹوں بھرا خراج تحسین پیش کیا گیا، یہ ایک خوشگوار تقریب تھی جس میں صدیق الفاروق کی خدمات کو سراہا جا رہا تھا مگر چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ منگل کی شب وہاں ان کے جواں سال بیٹے علی فاروق کے ناگہانی انتقال پر آنسو بہائے جا رہے تھے۔ ایک باپ کے لئے نوجوان بیٹے کی اچانک موت سے بڑا صدمہ کیا ہو سکتا ہے ، تعزیت کرتے ہوئے کیا الفاظ استعمال کئے جا سکتے ہیں ، کس طرح یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، ہاں، اپنے ایمان کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے کہ فیصلے اللہ رب العزت کی ذات کرتی ہے، حضرت علی ؑ نے فرمایا تھا کہ انہوں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا اور اگر ہر کسی کے خواب پورے ہونے لگیں تو ہر کوئی اپنی ذات میں خود ایک خدا بن جائے۔ ذکر تو اسی تقریب کا کرنا تھا، مگر اب اس تقریب اور کالم کے درمیان ایک قبر کی تازہ مٹی حائل ہو چکی ہے، اب صرف ان پھولوں کی خوشبو ہی نہیں رہی جو مہمانوں کی آمد پر میز پرسجائے گئے تھے،بلکہ اب وہ پھول بھی نظر میں ہیں جو میت پر اور قبر پر ڈال دئیے گئے، یہاں انا للہ ا نا الیہ راجعون سے آگے مزید کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

ایک طویل عرصہ ہوا کہ کالم نگاروں ، دانشوروں اور ایڈیٹروں کی محفلوں نے ایسا ہونا چھوڑ دیا کہ وہاں تقریری مقابلے ہوں، یہ محفلیں عموماً تبادلہ خیال پر مبنی ہوتی ہیں جن میں ایک دوسرے سے پوچھنے اور سیکھنے کا زیادہ بہتر موقع ملتا ہے، مگر ان تقاریر میں کچھ الگ ، کچھ خاص بات تھی، یہ ہمارے غیر مسلم دوستوں کی طرف سے پاکستانیت کا بھرپور اظہار تھا۔ میں نے اس تقریب بارے کہا، یہ سیاسی کارکنوں کی وفاداری بھی عجیب و غریب شے ہوتی ہے، ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ سیاسی کارکن کسی شخصیت کے غلام نہیں ہونے چاہئیں، مگر دوسری طرف وہی سیاسی کارکن عزت ، رتبے اور مقام کے حامل قرار پاتے ہیں جو مشکل وقت میں اپنی قیادت کے ساتھ رہتے ہیں۔مسلم لیگ نون کے کارکنوں کے لئے پرویز مشرف کا دور ایک بڑی آزمائش تھی جب مسلم لیگی قیادت خود جلاوطن ہو چکی تھی مگر صدیق الفاروق اور رفیق رجوانہ جیسے بے شمار کارکن وفاداریاں نبھا رہے تھے۔ تب کہا جاتا تھا کہ اب مسلم لیگ (ن) کے اندر میرٹ صرف مشرف دور میں قربانیاں دینا ہی ہو گا، مگر سیاست اور اقتدار بہت ظالم چیزیں ہوتی ہیں اور بعض اوقات بہت سارے دانیال عزیز ، امیر مقام اور افضل ساہی قربانیاں دینے والوں کی نسبت زیادہ عزیز، امیر، افضل اور مقام والے ٹھہرتے ہیں۔ مارشل لائی قوتوں کے مظالم کے باب میں صدیق الفاروق کے ساتھ عجب واقعہ درج ہے، آمریت سے لطف اندوز ہونے والے صدیق الفاروق کو گرفتار کر کے کوئی الزام عائد کرنا ہی بھول گئے تھے۔صدیق الفاروق بتا رہے تھے کہ ننکانہ صاحب میں بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے، جس طرح حج کے ٹور آپریٹرز ہوتے ہیں اسی طرح ہندووں اورسکھوں کے لئے بھی یاترا آپریٹرز ہوں گے، ننکانہ صاحب کی ٹاون پلاننگ بھی ہورہی ہے اور یہ اس سطح کی ہے کہ وہاں چھوٹے ائیرپورٹ کے طور پر ائیر سٹرپ بھی بنائی جائے گی۔ سکھوں اور ہندوؤں کا مقدس پانی بھی اسی طرح بوتلوں میں ایکسپورٹ ہو گا، جس طرح آب زم زم ہم مسلمانوں کو فراہم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہفتے، اتوار کی چھٹی نہ کرنے اور دن میں بارہ سے سولہ گھنٹے کام کرنے کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ دو برس کام کرتے ہوئے ایک برس ضائع ہوگیا، صدیق الفاروق نے دو برس پہلے اکتوبر کی دو تاریخ کو بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تھا،ان کی تعیناتی سے پہلے متروکہ وقف املاک بورڈ انتہائی کرپٹ ادارے کی شہرت رکھتا تھا، اسے سونے کی کان سمجھا جاتا تھا، اس کی انتہائی قیمتی زمینوں پر قبضے ہوتے تھے، جب محفل میں کسی کا نام نہیں لیا گیا تو میں بھی کیوں لوں مگر یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ اگر کرپشن ایسی نہ ہوتی تو عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کے لئے نتائج بھی ویسے نہ ہوتے۔دوستوں کی گواہی تھی کہ صدیق الفاروق نے دو برسوں میں ڈھیر سارے برسوں کا کام کر ڈالا ہے۔ بورڈ کی خاتون رکن بتا رہی تھیں کہ صدیق الفاروق کے اندر عجب جیالا چھپا ہے، جب کہیں سے رپورٹ آتی ہے کہ متروکہ وقف املاک کی زمین پر قبضہ واپس لیا گیا ہے تو قبضہ گروپوں کی طرف سے مزاحمت اور حملے کے تمام تر خطرات کے باوجود کہتے ہیں کہ اس رپورٹ کو فائنل کرنے سے پہلے خود دیکھ کر آئیں گے، جاتے ہیں، دیواروں پر چڑھ چڑھ کر تسلی کرتے ہیں۔

جو صدیق الفاروق کو قریب سے نہیں جانتے وہ انہیں واقعی طالبان سمجھتے ہیں جیسا کہ جنوبی ایشیاء میں طویل ترین عرصے یعنی بتیس برس تک بشپ کے طور پر خدمات سرانجام دینے والے بشپ آف لاہور الیگزینڈر جان ملک نے کہا، جب انہیں متروکہ وقف املاک بورڈ کا رکن بننے کی پیشکش کی گئی تو وہ ہچکچا گئے، ایک بورڈ کی کرپٹ شہرت اور دوسرے پانچوں وقت کے نمازی صدیق الفاروق کی طالبانیت کی وجہ سے، دلچسپ بات یاد آئی کہ صدیق الفاروق نے اپنی تقریر مکمل کر لی تو کہا ایک مرتبہ سب مل کر درود شریف پڑھ لیں کہ ہم شروع میں پڑھنا بھول گئے اور پھر ہم سب نے درود ابراہیمی پڑھا ۔ الیگزینڈر جان ملک نے اپنی تقریر میں گواہی دی کہ صدیق الفاروق اپنے مذہب پر عملدرآمد کرنے کے باوجود بہت روشن خیال ہیں، وہ دوسروں کی مذہبی عقائد اور شخصیات کی توہین نہیں کرتے، انہیں عزت دیتے ہیں۔ یکم محرم الحرام کو جب یہ تقریب ہور ہی تھی تو اس روز اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس ہو چکی تھی،مودی کو پیغام دیا جا چکا تھا کہ پوری قوم ایک ہے اور میرے خیال میں اتنی اہم،جامع اور ہمہ گیر کانفرنس صدیق الفاروق کی رہائش گاہ پر تھی۔ ہمارے ہندو رکن پنجاب اسمبلی کانجی رام، ہمارے سکھ رکن پنجاب اسمبلی رمیشن سنگھ اروڑا، ہمارے بشپ آف لاہور الیگزینڈر جان ملک سب مُودی کو للکار رہے تھے، اپنے وطن کے تحفظ کے لئے کٹ مرنے کا عہد کر رہے تھے۔ ان کا جذبہ اور خلوص دیکھ کر میرا وہ دکھ کم ہوا جو چند روز قبل بھارت کے مسلمانوں کی طرف سے پاکستانی پرچم جلانے پر ہوا تھا۔ ہمیں مان لینا چاہئے کہ اب ہماری حب الوطنی کی بنیاد وہ ریاستی نظام بن چکا ہے، جس کی بنیاد انگریز نے رکھی تھی۔ ہندووں، سکھوں اور مسیحیوں کے لئے بھی پاکستان کا دفاع اور ترقی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ مسلمانوں کے لئے ہو سکتی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ وہ ہمارے غیر مسلم ساتھیوں کی اتنے خلوص اور دیانت داری سے خدمت کر یں گے کہ وہ پکار اُٹھیں گے کہ اگر ایک سچا ، پکا مسلمان اتنااچھا ہو سکتا ہے تو ان کا رب کتنا اچھا ہو گا، اس رب کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کا دیا ہوا نظام کیا خوب ہو گا، یہی بات صدیق الفاروق نے کہی کہ وہ اپنے غیر مسلم بھائی اور بہنوں کی یہ سوچتے ہوئے خدمت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ جب اپنے رب اور اس کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہوں تو سرخرو ہوں۔ وہ قرآن کی اس آیت کی ایک نئے انداز میں تفسیر کرتے ہوئے نظر آ رہے تھے کہ دوسرے کے جھوٹے خداؤں کو بھی برا نہ کہو تاکہ وہ تمہارے سچے خدا کے بارے غلط بات نہ کریں۔ صدیق الفاروق متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین کے طور پر دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کی خدمت اور ان کے خداؤں کی عز ت اس لئے کر رہے ہیں تاکہ ان کے سچے خدا اور سچے مذہب کی عزت کی جائے۔ آج ہمارے مذہب کے دشمن اس کے وقار کے درپے ہیں تو ایسے میں اپنے اسلام کی عزت کی بڑھوتری کے لئے کام کرنا میری نظر میں سب سے افضل عمل ہے، ایک جہاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ میری دعا ہے کہ جہاں ان کی اس نیت اور فعل کا اجر انہیں ملے، ایک باپ کی نیکی، عجز، اخلاص اور خدمت کے صدقے اس کا نوجوان بیٹا بھی جنت الفردوس میں جگہ پائے۔ آمین

مزید :

کالم -