محکمہ ہائر ایجوکیشن کی بیوروکریسی طلباء کو بیرون ملک بھیجنے میں رکاوٹ بن گئی

محکمہ ہائر ایجوکیشن کی بیوروکریسی طلباء کو بیرون ملک بھیجنے میں رکاوٹ بن گئی

  

لا ہور (جنر ل ر پو رٹر ) محکمہ ہائر ایجوکیشن کی بیوروکریسی طلباء کو بیرون ملک بھیجنے میں رکاوٹ بن گئی۔امریکہ اور یورپ کی جامعات میں حکومتی سکالر شپ جیتنے والے تینتیس اساتذہ اور طلباء کے پی ایچ ڈی سکالر شپ کیاخراجات روک لیے گئے۔پیف کے تحت پنجاب اور دیگر صوبوں کے مختص کوٹہ میں سے رواں سال کے دوران تینتیس طلبا ء اور اساتذہ کو مختلف مضامین میں پی ایچ ڈی کے سکالرشپ دیئے گئے ہیں۔ لیکن محکمہ ہائر ایجوکیشن کی بیوروکریسی طلباء کو بیرون ملک بھیجنے میں رکاوٹ بن گئی ہے۔طلباء کی ضمانت اور ان کے اخراجات تاحال جاری نہ ہوسکے۔ پیف نے محکمہ ہائر ایجوکیشن کے حکام کو ایک ہفتہ قبل 33 اساتذہ اور طلباء کے پی ایچ ڈی سکالر شپ کیاخراجات پر اجازت نامے کے لیے خط لکھا لیکن محکمانہ غفلت اور بیرون ملک سکالر شپ پالیسی پر عبور نہ ہونے کے باعث طلباء4 کواجازت نہیں دی جاری رہی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ محکمہ ہائرایجوکیشن نے سکالرشپ کے اخراجارت پر این او سی جاری کرنا ہے جو نامعلوم وجوہات کے باعث نہیں کیا جارہا اگر ا?ئندہ دس روز میں محکمے نے اخراجات پر این او سی جاری نہ کیا تو بیرون ممالک پی ایچ ڈی سکالرز کے داخلے منسوخ ہوجائیں گے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ چالیس کروڑ روپے کے اخراجات کے لیے محکمہ ہائرایجوکیشن نے اسٹیٹ بینک کوصرف خط لکھنا ہے۔ دوسری جانب محکمہ ہائرایجوکیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سکالرشپ پر بھیجے جانے والے طلبا کے اخراجات پر محکمہ آڈٹ کاپی کی ضرورت ہے اخراجات پر اجازت سے پہلے بجٹ کا آڈٹ تیار کیا جائے گا جس کے بعد فنڈز کے اجرا پر اسٹیٹ بینک کو خط لکھا جائیگا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -