ایف آئی اے کا جعلی ڈائریکٹر ساتھیوں سمیت گرفتار ، اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف

ایف آئی اے کا جعلی ڈائریکٹر ساتھیوں سمیت گرفتار ، اہلکاروں کے ملوث ہونے کا ...

  

 لاہور(محمد یونس باٹھ) ایف آئی اے کا جعلی ڈائریکٹر بن کر سادہ لوح شہریوں سے رقم بٹورنے والا تین ساتھیوں سمیت گرفتار ،50ہزار روپے نقدی برآمد ۔ملزمان بیرون ملک سے پاکستان آنے والے سادہ لوح شہریوں کا تعاقب کر کے ان کے گھر پہنچ جاتے تھے اور انہیں سائبر کرائم میں ملوث ہونے کی دھمکی دیکر بلیک میل کر کے رقم بٹورتے تھے ۔ملزمان نے ایک گاڑی رینٹ پر حاصل کر رکھی تھی وہ اپنے شکار کو سی آئی اے لاہور آفس پہنچنے کا کہہ کربعد ازاں کسی وی آئی پی ہوٹل میں بلوا کر وہاں ڈیل کرتے تھے۔ایک متاثرہ پارٹی نے ڈیل کرنے سے قبل ایف آئی اے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان انور کو اس بارے میں آگاہ کیا ۔جنہوں نے گزشتہ روز جعلی ایف آئی اے کی ٹیم کو چھاپہ مار ٹیم بھجوا کر رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے ان کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے ۔بتایا گیا ہے کہ ایک شخص جس کا نام فہیم تھا اور وہ لاہور کے علاقہ موہلنوال کا رہائشی تھا اس نے اپنے ساتھ دو مزید اہلکاروں کو ملا کر ایف آئی اے کی ٹیم تشکیل دے رکھی تھی اور وہ ایک رینٹ کی گاڑی لیکر گزشتہ دو ماہ سے سادہ لوح لوگوں کو لوٹنے میں مصروف تھے ۔فہیم خود کو ڈائریکٹر ایف آئی اے ظاہر کرتا تھا جبکہ اس کے دیگر ساتھیوں میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سلیمان اور محمد فضل جو کہ انسپکٹر اور ایک ڈرائیور بھی شامل تھا ۔فہیم نے دو روز قبل عبد الصمد بسریا جو کہ ایگریکٹو ممبر پنجاب بار کونسل ہیں ان کے گھر میں اپنے اہلکاروں کو بھجوایا کہ آپ سائبر کرائم میں ملوث ہیں ،جس پر عبد الصمد بسریا کے مطابق وہ ایف آئی اے کی ٹیم کے اہلکاروں کو اپنے گھر دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا جس پر اہلکاروں نے کہا کہ خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں آپ ہمارے ساتھ رابطے میں رہیں ہم آپ کو انکوائری سے کلیئر کر دیں گے۔آپ صبح ایف آئی اے لاہور کے دفتر آ جائیں وہاں ہم آپ کی ملاقات ڈائریکٹر ایف آئی اے سے کروائیں گے جو آپ کی تمام انکوائریوں کو ختم کر دیں گے اس پر اس نے گھر آنے والے اہلکاروں کویہ کہہ کر بھجوا دیا کہ وہ صبح آفس آ جائے گا۔اس بارے میں اس نے تحقیق کی۔ عبد الصمد کے مطابق اسے معلوم ہوا کہ یہ کوئی جعلی ٹیم ہے اور ایف آئی اے کے نام پر سادہ لوح شہریوں کوہراساں کر کے ان سے رقم بٹور رہی ہے ۔اس بارے میں انہوں نے ڈائریکٹر ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ آپ ان جعلی اہلکاروں سے ملاقات کریں اور ہمیں بھی ان کی نشاندہی کریں ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے ۔عبد الصمد کے مطابق وہ گزشتہ روز ایف آئی اے لاہور کے دفتر پہنچ گیا اور اس نے گھر آنے والے اہلکاروں کو فون کر کے پوچھا کہ وہ کہاں ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ان کے ڈی جی اسلام آباد سے لاہور آ رہے ہیں، ڈائریکٹر فہیم صاحب کی ان سے ملاقات ہے، آپ مال روڈ پر واقع اواری ہوٹل میں آ جائیں وہاں ملاقات کر لیتے ہیں جس پر وہ اپنے ایک دوست کے ہمراہ اواری ہوٹل پہنچ گیا جہاں فہیم اپنے دو اہلکاروں کے ہمراہ بیٹھا تھا جس پر عبد الصمد نے ان سے ملاقات کی تو اسی دوران ان کی آپس میں جب ڈیل چل رہی تھی تو ایف آئی اے لاہور کے اصلی اہلکار وں نے انہیں پکڑ لیا ۔گرفتار ہونے والے فہیم اور اس کے ساتھیوں نے روزنامہ’’ پاکستان ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ ایئر پورٹ سے آنے والے ایسے افراد کو جو بیرون ملک سے آتے تھے ان کا تعاقب کر کے ان کے گھر پہنچ جاتے تھے اور انہیں سائبر کرائم میں ملوث قرار دیکر ایف آئی اے میں مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دیکر دیہاڑی لگاتے تھے اور یہ کام انہوں نے پچھلے کئی ماہ سے شروع کر رکھا تھا ملزمان کے مطابق انہوں نے ایف آئی اے کے کچھ اہلکاروں کو بھی اپنے ساتھ ملا رکھا تھا ۔

مزید :

علاقائی -