غیر سیاسی موضوع کی تلاش میں ایک کالم

غیر سیاسی موضوع کی تلاش میں ایک کالم
 غیر سیاسی موضوع کی تلاش میں ایک کالم

  


بہت دن سے سیاسی کالم ہی لکھا جا رہا ہے۔ سیاست کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ سیاست کے منظر نامہ پر سین اس قدر تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں کہ نظر ہٹانے کا موقع ہی نہیں ملتا،لیکن جس طرح ہر چیز کی زیادتی بری ہے،اِسی طرح سیاست کی زیادتی بھی بری ہے، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اگر اس مُلک میں سیاست نہیں ہے تو کیا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اگر سیاست نہیں تو کرکٹ ہے، لیکن کرکٹ میں بھی تو سیاست ہے، جس قدر دلچسپی ہم سیاست میں رکھتے ہیں اتنی ہی دلچسپی ہم کرکٹ میں بھی رکھتے ہیں۔ بلا شبہ پاکستان کی کرکٹ کا حال بھی قومی سیاست کا ہی ہے۔ کہیں بہت اچھی ۔ کہیں بہت بری۔ کبھی کوئی بہت اچھا اور کبھی سب بہت برے۔ ایک دن بہترین اور ایک بدترین،جس طرح ہمارے ملک کی سیاست کے بارے میں کوئی لمبی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح ہماری کرکٹ کے بارے میں بھی کوئی لمبی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ ہمارے کھلاڑی بھی ایک میچ میں اچھا اور اگلے میں برا کھیلنے کے عادی ہیں۔ یہ بابر اعظم نے بہت دن بعد ایسی امید دی ہے کہ مسلسل اچھی کارکردگی بھی دی جا سکتی ہے۔

لیکن ایک د وست نے کہا کہ یہ سٹاک ایکسچینج مسلسل اچھی کارکردگی دکھا رہی ہے۔ میں نے کہا نظر نہ لگا دینا۔ کیونکہ یہ وہی سٹاک ایکسچینج ہے جو ایک دور میں بری طرح بیٹھ بھی چکی ہے۔ سٹاک ایکسچینج چالیس ہزار کی نفسیاتی اور ریکارڈ حد کو عبور کر چکی ہے۔ مسلسل بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ پاک بھارت جنگ کے بادل جب منڈلانے لگے تو بھارت کی ممبئی سٹاک ایکسچینج گر گئی تھی، جس نے بھارت میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ممبئی ایکسچینج کے اس گرنے کو بھارتی پنڈتوں نے کہا کہ بھارت کا سرمایہ دار جنگ نہیں چاہتا اور بھارت کی معیشت جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اِس لئے بھارت جنگ نہیں کرے گا۔ سٹاک ایکسچینج کے بارے میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ ایک جوا ہے، لیکن اگر جوا بھی ہے تو سرمایہ کار اچھے حالات میں ہی جوا کھیلتا ہے۔

گو کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے بادل چھٹ رہے ہیں اور جنگی ماحول کمزور ہو رہا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ دونوں طرف کا الیکٹرانک میڈیا شدید کوشش کے باوجود بھی دونوں ممالک کی جنگ نہیں کروا سکا ۔ اِسی طرح نرنیدر مودی ابھی سیاسی طور پر بھی شدید مشکل میں ہیں، جبکہ ان کے مقابلے میں عمران خان کی شدید کوشش کے باوجود بھی حکومت اتنی مشکل میں نہیں ہیں۔ سرجیکل سٹرائیک کا معاملہ بھی مودی کی جان نہیں چھوڑ رہا۔ وہ اپنے ملک میں ہی لوگوں کو قائل نہیں کر پا رہے ۔ اِسی لئے انہوں نے اپنی کابینہ کے ارکان پر بھی پابندی لگا دی ہے کہ وہ سرجیکل سٹرائیک کے بارے میں کوئی بات نہ کریں، حالانکہ امید تو یہ کی جا رہی تھی کہ وہ بھارتی اپوزیشن کے دباؤ میں سرجیکل سٹرائیک کی ویڈیو جاری کریں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم پاکستان میں جانتے ہیں کہ جب ایسی کوئی ویڈیو ہے ہی نہیں تو وہ جاری کیا کریں گے، لیکن اگر یہ صورتِ حال پاکستان میں ہو تی تو عمران خان وزیراعظم کو تب تک وزیراعظم ماننے سے انکار کر دیتے ۔ عدالتوں میں وزیراعظم کی نااہلی کے لئے ریفرنس دائر ہو جاتے۔ پارلیمنٹ کے بائیکاٹ کا علان ہو جاتا لیکن نہ جانے بھارت میں ایسا کیوں نہیں ہو رہا۔

اب جب نہ سیاست پر لکھنا ہے نہ کرکٹ پر لکھنا ہے نہ سٹاک ایکسچینج پر لکھنا ہے نہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی اندرونی مشکلات پر لکھنا ہے تو کیا لکھنا ہے۔ ایک دوست کا کہنا ہے کہ لوڈ شیڈنگ پر لکھیں۔ میں نے کہا یہ بھی کوئی موضوع ہے۔ اس میں کون سی نئی بات ہے جو لکھی جائے۔ کئی برسوں سے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے بجلی آرہی ہے۔ بجلی جا رہی ہے۔ ہاں اگر لوڈ شیڈنگ ختم ہوگئی ہے تو ضرور لکھا جائے۔ اگر بجلی سستی ہو گئی ہے تو ضرور اس پر لکھا جائے۔

لیکن پھر بھی میرے دوست کا اصرار ہے کہ جو آج کل لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اس کے پیچھے بھی پاک بھارت جنگ کا معاملہ ہے۔ میں نے کہا کہ پاک بھارت جنگ کا کیا معاملہ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ چند آئی پی پی مالکان نے پاک بھارت جنگ کے ماحول کی وجہ سے حکومت کو بجلی فراہم کرنے سے انکار کیا ہے اور ان کا موقف ہے کہ سرکلر ڈیٹ کی رقم بہت بڑھ چکی ہے اور ایسے میں اگر پاک بھارت جنگ ہو گئی تو آئی پی پی کی رقم مزید ڈوب جائے گی،لہٰذا حکومت جنگ سے پہلے ہمارے پیسے دے۔ اس لئے اب حکومت ان سے مذاکرات کر رہی ہے۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر یہ بھی شور ہے کہ سعودی عرب نے میاں نواز شریف کے وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد جو امداد دی تھی وہ اس نے واپس مانگ لی ہے۔ ویسے تو آجکل سعودی عرب کے اپنے حالات اچھے نہیں ہیں ، لیکن ہمارے بھی کوئی اچھے نہیں۔ اِس لئے حکومت کو مشورہ یہی ہے کہ اس رقم کی بھی قسطیں بنائی جائیں۔ اکٹھے دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

دوست کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس کے پاس بھی کچھ نہیں وہ پاک چین اقتصادی راہداری پر اظہارِ خیال شروع کر دیتا ہے۔ میرے پاس بھی اگر کوئی موضوع نہیں ہے تو پاک چین اقتصادی راہداری پر قلم کے تیر چلا سکتا ہوں۔اگر حکومت کے خلاف لکھنا ہے تو مغربی روٹ پر لکھنا شروع کر دوں۔ اگر حکومت کے حق میں لکھنا ہے تو اس کی اہمیت پر لکھنا شروع کر دوں۔ میں نے کہا مغربی روٹ پر کیوں نہ لکھوں۔ دوست کا کہنا ہے کہ روٹ کوئی بھی ہو مشرقی یا مغربی۔ ہے تو پاک چین اقتصادی راہداری کا، لیکن شاید یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں۔

مزید : کالم