مقبوضہ کشمیر احتجاجی ریلی بھارتی فوج کا لاٹھی چارج پیلٹ گن کا استعمال ،60کشمیری زخمی

مقبوضہ کشمیر احتجاجی ریلی بھارتی فوج کا لاٹھی چارج پیلٹ گن کا استعمال ...

  

 سری نگر ( اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں مجاہد کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے 89 روز بعد بھی بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری ٗ بھارتی فوج کے خلاف نکالی گئی احتجاجی ریلی پر سکیورٹی فورسز کا لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کا استعمال ٗ مزید 60 سے زائد کشمیری زخمی ہوگئے ٗ سری نگر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ٗ چیک پوسٹوں پر سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ٗ گھر گھر تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ بھی نہ تھم سکا ٗ ایک درجن سے زائد بے گناہ نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا ٗ پائین شہر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف مشتعل نوجوان کرفیو کی پرواہ کئے بغیر گھروں سے باہر نکل آئے ٗ 2 فوجی گاڑیوں کو نذر آتش کردیا ٗ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس تاحال معطل ٗ سکول بھی نہ کھل سکے ٗ کرفیو کے باعث مقبوضہ وادی کی آدھی سے زائد آبادی گھروں میں محصور ہوکر رہ گئی ٗ ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء کی بدستور قلت ٗ نہتے کشمیریوں کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کو 89 روز گزر گئے مگر وادی میں حالات معمول پر نہ آسکے گزشتہ روز بھی بھارتی فورسز کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 60 سے زائد کشمیری زخمی ہوگئے جبکہ ایک درجن سے زائد نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا ۔ سری نگر میں ہڑتال کے دوران سخت سیکورٹی چیکنگ کے مناظر دیکھنے کو ملے جبکہ بائی پاس سے لیکر بٹہ مالو سمیت سرینگر میں داخل ہونے والے تمام راستوں پر سخت پہرے بٹھا دئیے گئے تھے۔سیول لائنز علاقے میں بائی پاس،سونہ وار،ٹی آر سی کراسنگ،بڈشاہ پل،پلیڈم چوک،کنٹرول روم،نتی پورہ،بٹہ مالو اور دیگر علاقوں کی سڑکوں پر پولیس ٹاسک فورس کے خصوصی ناکے لگائے گئے تھے اور آنے جانے والے لوگوں سے پوچھ گچھ کے علاوہ گاڑیوں کی چیکنگ کی جا رہی تھی۔راہگیروں کے شناختی کارڑوں کو بھی چیک کیا جا رہا تھا اور موٹر سائیکلوں پر سوار لوگوں کو روک کر گاڑیوں اور اسکوٹروں کے دستاویزات کی جانچ پرتال کی جارہی تھی۔شہر میں اچانک تلاشیوں کی وجہ سے لوگ بھی ہکا بکا رہ گئے تاہم یہ سلسلہ دن بھر جاری رہا۔پولیس کے ایک اعلی افسر نے بتایا کہ حالات میں بہتری آنے کے ساتھ ہی مجاہدین کی سرگرمیوں سے متعلق کچھ اطلاعات موصول ہوئیں تھی جس کے بعد اہلکاروں کو متحرک کیا گیا۔ادھرشہر کے بلائی علاقوں میں بڑی تعداد میں نجی ٹرانسپورٹ کو سڑکوں پر چلتے ہوئے دیکھا گیا ۔ کئی بازاروں میں آٹو سڑکوں پر دوڑتے ہوئے دیکھے گئے جبکہ کئی ایک جگہ اکا دکا سومو گاڑیاں بھی نظر آئیں۔البتہ شہر میں تمام طرح کی دکانیں ،کاروباری ادارے،بازار،بینک،تعلیمی ادارے،پٹرول پمپ اور سرکاری و غیر سرکاری دفاتر بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا ۔کئی علاقوں میں بازار بھی کھلے تھے۔ امکانی احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پائین شہراوردیگر حساس علاقوں میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے جس دوران پولیس اور سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکاروں تعینات کر دیا گیا تھا۔پائین شہرمیں ہڑتال کا زیادہ اثر دیکھنے کو ملا اور وہاں اور ہر طرح کے کاروباری اور تجارتی ادارے بند رہے۔ ادھر بٹہ مالو میں طالبات کا ایک جلوس برآ مد ہوا جبکہ اس سے قبل یہاں فورسز اورمظا ہرین کے درمیان جھڑ پیں ہو ئیں۔عینی شاہدین کے مطابق طالبات نے بٹہ مالو اڈہ کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاہم فورسز اور پولیس نے انکی پیش قدمی کو روکتے ہوئے ٹیر گیس کے گولے داغے جس کی وجہ سے طالبات میں بھگڈر مچ گئی اور گرنے پڑنے سے نصف درجن طالبات زخمی ہوئیں۔

مزید :

علاقائی -