کشمیریوں پر جاری بد ترین ظلم کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی :عمر عبداللہ مودی حکومت پر برس پڑے

کشمیریوں پر جاری بد ترین ظلم کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی :عمر عبداللہ مودی ...

سری نگر (مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ جموں وکشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ اور بھارت نواز نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ نے وادی کشمیر میں عوام کے خلاف گذشتہ تین ماہ سے جاری مبینہ کریک ڈاؤن اور مظالم پر ریاست کی بھارت نواز مخلوط حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مظلوم کشمیریوں پر جاری بدترین ظلم کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار اور سینکڑوں افراد پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگا کر مستقل امن قائم نہیں کیا جا سکتا ،بھارت زمینی حقائق تسلیم کرکے تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کرے، نئی دہلی نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کشمیر میں حالات بات چیت کے ذریعے ٹھیک ہوسکتے ہیں لیکن ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔بھارتی نجی چینل ’’ای ٹی وی ‘‘ کے مطابق عمر عبد اللہ کا کہنا تھا کہ نئی دہلی کی طرف سے کشمیریوں کو تھکا کر جاری احتجاج اور ہڑتال کو ختم کرنے کی پالیسی انتہائی خطرناک ہے، جب لوگوں کی تھکاوٹ دوبارہ دور ہوگی تو حالات پھر سے وہی رخ کرنے کا قوی امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نئی دہلی وادی میں جاری ہڑتال اور احتجاج کو طاقت کے بل بوتے پر ٹھیک کرنے کی غلطیاں دہراتی رہے گی تب تک یہاں دیر پا امن کی کوئی ضمانت نہیں، نئی دہلی کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کی حقیقت کو تسلیم کرکے تمام فریقین کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرکے دیرپا امن کی بنیاد ڈالے۔ انہوں نے ریاستی حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وادی میں جاری بے چینی کو ختم کرنے کے لئے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے وہ قابل تشویش اور قابل افسوس ہے، رات کی تاریکی میں چھاپہ مار کارروائیاں اور آبادیوں میں گھس کر مکانوں کی توڑ پھوڑ اور مکینوں کی مارپیٹ اب روز کا معمول بن کر رہ گیا ہے، بجلی ٹرانسفامروں پر گولیاں چلا کر انہیں ناکارہ بنایا جارہا ہے ، لوگ اب بجلی ٹرانسفامروں کے اردگرد ریت کے تھیلے نصب کرکے ان ٹرانسفامروں کی حفاظت کرتے ہیں۔دھان کی فصل اور شالی کو آگ لگانے کی کارروائی کو ظلم و جبر کی حد قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ کاشت کاروں کی سال بھر کی محنت ان کی آنکھوں کے سامنے نذر آتش کی جارہی ہے ۔

مزید : صفحہ اول