کوئی حزب اقتدار ہے نہ حزب اختلافات, وطن کے دفاع کیلئے سب پاکستانی ہیں :نواز شریف

کوئی حزب اقتدار ہے نہ حزب اختلافات, وطن کے دفاع کیلئے سب پاکستانی ہیں :نواز ...

  

 سلام آباد (این این آئی،آئی این پی ،مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم محمدنوازشریف نے کہاہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر سمیت بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتاہے ، بے روزگاری اور غربت کے خلاف جنگ ٹینکوں اور بارود سے نہیں لڑی جاسکتی،،غربت اور بے روزگاری آگ اور خون کے کھیل سے ختم نہیں ہوتی جس زمین میں بارود بویا جائے وہاں پھول نہیں کھل سکتے،بھارتی رویے کے باعث خطے کا امن خطرے میں ہے، کشمیر مسلسل �آتش فشاں کی طرح سلگ رہا ہے،بھارتظالمانہ کارروائیوں سے کشمیریوں کو ان کے حق سے محروم نہیں کر سکتا نہ ہی تحریک آزادی کشمیر کو روکا جاسکتاہے ،برہان وانی کشمیر انتفادہ علامت ، ان کی شہادت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو فیصلہ کن موڑ پر لے آئی ،بھارت مسئلہ کشمیر کی توجہ دنیا سے ہٹانے کیلئے الزام تراشی پر اتر آیا ہے، کشمیر کے معاملے پر حکومت سفارتی محاذ پر سرگرم ہے،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے کئے گئے وعدے پورے کرے،مقبوضہ کشمیر میں زخمیوں کی طبی امداد کی جائے، مظا لم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں،اقوام متحدہ کو چار نکات پیش کئے،انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو خط لکھے ، ملک میں کوئی حزب اختلاف ہے نہ حزب اقتدار،پاکستان کے دفاع کیلئے ہم سب صرف اور صرف پاکستانی ہیں ،وطن کی حرمت کا قرض چکانے کیلئے ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کرینگے ، ہماری امن کی خواہش کو پروقار خودمختار قوم کی خواہش سمجھا جائے،کسی کی دھونس کو خاطر میں نہیں لائیں گے،ہم جنگ کے خلاف ہیں اور خطے میں پائیدار امن چاہتے ہیں۔ وہ بدھ کو یہاں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور ایل اوسی پر بھارتی جارحیت پر غور کے لئے بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔وزیراعظم نے کہاکہ تمام رہنماؤں کو معلوم ہے کہ مشترکہ اجلاس بلانے کافیصلہ ں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور ایل اوسی پر بھارتی جارحیت پر غور کے لئے کیاگیا ۔وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر مسلسل �آتش فشاں کی طرح سلگ رہا ہے،بھارت کشمیریوں کو ان کے حق سے محروم نہیں کر سکتا،برہان وانی کی شہادت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو فیصلہ کن موڑ پر لے آئی۔ معصوم لوگوں کے چہرے مسخ کرنے سے تحریک کا راستہ نہیں روکا جاسکتا، اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی ایجنڈے پر موجود ہیں، کشمیریوں کے خون نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 7 لاکھ بھارتی قابض فوج کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبایا نہ جا سکا، آج ہم پھر کشمیریوں کی �آزادی کے عزم کااعادہ کرتے ہیں، کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دے کر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔نواز شریف کا کہنا ہے کہ بھارت عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں سے کشمیریوں کو محروم نہیں کر سکتا، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کشمیر سے متعلق کیے گئے وعدوں کو پورا کرے، کشمیریوں کی جاری آزادی کی تحریک کو بھارتی فوج روک نہیں سکتی۔انہوں نے کہا کہ ہم جنگ کے خلاف ہیں،ہم نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو خطوط لکھے ، پاکستان کے دفاع کے لیے ہم صرف اورصرف پاکستانی ہیں،کشمیرسمیت تمام معاملات مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں،کسی کی دھونس کو خاطرمیں نہیں لائیں گے۔وزیر اعظم نوازشریف نے یہ بھی کہا کہ ہم جنگ کے خلاف ہیں،خطے میں پائیدارامن چاہتے ہیں،بے روزگاری اورغربت کے خلاف جنگ بارود سے نہیں لڑی جاسکتی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارتی حکمرانوں کی خواہش ہے کہ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے میں مقابلہ ہو تو یہ کام بارود، آگ اور خون کے ذریعے ممکن نہیں،جن کھیتوں میں بارود بویا جائے وہاں پھول نہیں کھلتے، بے روزگاری اورغربت کے خلاف جنگ بارود ، آگ اور خون کے ذریعے ممکن نہیں، اْن کی خواہش ہے کہ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے میں مقابلہ ہو لیکن بے روزگاری اورغربت کے خلاف جنگ بارود سے نہیں لڑی جاسکتی۔انہوں نے کہاکہ کشمیری سردھڑ کی بازی لگا کر تحریک آزادی کو چلا رہے ہیں ،وزیر اعظم نے کہا کہ تحریک آزادی کی باگ ڈورکشمیری نوجوانوں کے ہاتھ میں آگئی ہے۔ اہل کشمیر کے ساتھ پاکستان کا تاریخی رشتہ ہے، پاکستان کشمیریوں سے ہر قسم کا تعاون برقرار رکھے گا، آج ہم پھر کشمیریوں کی آزادی کے عزم کااعادہ کرتے ہیں۔مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا، ہم نے ہر ممکن کوشش کی بھارت مذاکرات کی میز پر آئے لیکن بھارت نے ہمیشہ مذاکرات کی بات کو مسترد کیا اور مذاکرات کی حوصلہ شکنی کی۔ کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دے کر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا مذاق اڑایا جارہا ہے لیکن بھارت عالمی برادری سیکیے گئے وعدوں سے کشمیریوں کو محروم نہیں کر سکتا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ میں 4 مطالبات رکھے، بھارتی جیلوں سے کشمیری قیدیوں کورہاکیاجائے، کشمیریوں پر عائد سفری پابندیاں ختم کی جائیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کشمیر سے متعلق کیے گئے وعدوں کو پورا کرے۔وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیرسمیت تمام معاملات مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں، ہم جنگ کے خلاف ہیں، خطے میں امن چاہتے ہیں، بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان پر الزام تراشی کر رہا ہے، اڑی حملے کی ذمہ داری بغیرتحقیقات کے پاکستان پرڈال دی گئی۔ کسی کی دھونس کو خاطرمیں نہیں لائیں گے۔ ہم ہرقسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں، ہم حقیقی معنوں میں عوام میں تبدیلی لانے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔

نوا زشریف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اپوزیشن لیڈر خوشید شاہ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ہرفورم پر کشمیر کو متنازعہ علاقہ مان چکا،کشمیر کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔اپوزیشن لیڈر خوشید شاہ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا،پاکستان سات دہائیوں سے کشمیروں کے حقوق کی جنگ لڑ رہاہے ،بھارت نہتے کشمیریوں کے سے تھ دہشت گردی کر رہا ہے ،پاکستان کشمیریوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے ،کبھی ہم کرکٹ ڈپلومیسی کا شکار ہوئے تو کبھی آگرہ میں فوٹوسیشن پر قربان ہو گئے،یہ دیکھنا ہو گا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کمزور کیوں ہے ،اپوزیشن کے مطالبے پر آج کا مشترکہ اجلاس رکھا گیا۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم عالمی برادری پر دباؤ ڈالتے رہتے تو اور خلاء نہ آتا تو کشمیری آج اتنی مشکلات میں نہ ہوتے،بھارت نے ہمیں سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی،سارک کانفرنس کے ملتوی ہونے کے بعد ہمیں اپنی کوتاہیوں پر غور کرنا چاہئے، کیوں کہ ایسا کریں گے تو ہی صحیح راستے ملیں گے،پاک بھارت جنگیں کشمیر کی وجہ سے لڑی گئیں،بھارتی حکومت نے ایل او سی ہی نہیں سفارتی حملے بھی کئے،سارک کانفرنس میں نہ آنے والے افغانستان کیلئے ہم نے اپنی معیشت تباہ کر دی۔انہوں نے کہا ہے کہ ایسی روایت رہی ہے کہ جو ایوان میں طے ہوا اس پر عمل نہیں ہوا،امید کرتا ہوں کہ جو طے ہو گا اس پر عمل بھی ہو گا،اقوام متحدہ میں منظہ وہرنے والی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،ایسے بھی دور آئے کبھی کرکٹ ڈپلومیسی اور کبھی دوستی آڑے آئی،پانچ ملکوں نے سارک کانفرنس میں آنے سے انکار کر دیا ،بھارت نے سارک کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم اپنے آپ کو کیوں اکیلا سمجھتے ہیں ،اپوزیشن بھی اتنی ہی محب وطن ہے جتنی حکومت ہے،اقوام متحدہ میں منظور ہونے والی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،اس وقت سب سے اہم یہی ہے کہ اپنے آپ کو سفارتی طورپر مضبوط کریں۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کشمیری عوام اور ان کی قیادت وزیر اعظم نواز شریف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایٹم بم صندوق میں رکھنے کے لئے نہیں، پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہوا تو ایٹم بم چل بھی سکتا ہے لیکن اس حد تک جانے کی ضرورت نہیں، دو ایٹمی ملکوں میں جنگ سے پہلے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔پوری قوم پاک فوج اور کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، کشمیریوں کو متفقہ پیغام دیتے ہیں کہ آپ تنہا نہیں ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کشمیری عوام کو بھوک اور افلاس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بھارتی فوج کشمیر میں قتل عام کر رہی ہے، ہزاروں کشمیری اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر دنیا کے ضمیر کو جگانا چاہتے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں 90 روز سے کرفیو نافذ ہے، وزیر اعظم کے پیغام کو دنیا بھر میں پھیلانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر مسلم ممالک کے سربراہان کا اجلاس بلایا جانا چاہئے، او آئی سی کا اجلاس بلا کر امت مسلمہ کو اس مسئلے پر ایک کیا جانا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کے لئے تیار نہیں، ہمیں عالمی فورم پر کشمیریوں کی وکالت کرنا ہو گی۔مولانا فضل الرحمٰن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت نے خطے کو بنجر بنانے کی دھمکی دی ہے، ہماری زراعت کو تباہ کیا جا رہا ہے اور دریاؤں پر ڈیم بنائے جا رہے ہیں، ہماری ایک جامع پالیسی ہونی چاہئے۔

مزید :

صفحہ اول -