مبینہ سرجیکل سٹرائیک کے بعد بھارتی میڈیا بدحواس ہوگیا،من گھڑت کہانیوں سے زہر اگلنے لگا

مبینہ سرجیکل سٹرائیک کے بعد بھارتی میڈیا بدحواس ہوگیا،من گھڑت کہانیوں سے ...

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی فوج اور مودی سرکار پاکستانی حدود میں سرجیکل سٹرائیک کا جھوٹا دعویٰ کرنے کے بعد بڑی مشکل میں پھنسی ہوئی ہے جبکہ ہندوستانی میڈیا اپنی بزدل فوج اورمودی سرکار کے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے ’’من گھڑت اور بے بنیاد ‘‘ سٹوریاں گھڑنے میں مصروف ،’’انڈین ایکسپریس‘‘ اور ’’زی نیوز ‘‘جھوٹ پر جھوٹ بول کر بھارتی عوام اور دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے سر توڑ کوششیں کرنے لگا۔تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے پاکستانی حدود میں سرجیکل سٹرائیک کے بے بنیاد اور جھوٹے دعوؤں کو جہاں پاکستانی حکومت اور پاک فوج نے مسترد کیا وہیں بھارتی اپوزیشن ،کانگریس ،نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال ،غیر جانبدار حلقے اور عوامی سطح پر سرجیکل سٹرائیک کے دعوؤں کی ’’صداقت‘‘ کے لئے ’’ویڈیوثبوت‘‘ عام کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے تو دوسری طرف بھارتی میڈیا اپنی فوج اور مودی سرکار کے جھوٹے دعویٰ کو سچا ثابت کرنے کے لئے’’ بھونڈے انکشافات ‘‘کے ذریعے ایسی من گھڑت سٹوریاں سامنے لا رہا ہے جنہیں سن کر بے اختیار ہنسنے کو دل کرتا ہے۔مشہور ہندوستانی اخبار ’’انڈین ایکسپریس ‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سرجیکل سٹرائیک کے ثبوت حاصل کر لئے ہیں ،مقامی لوگوں اور ’’عینی شاہدین‘‘ نے سرجیکل سٹرائیک کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس روز بھاری ہتھیاروں کی مسلسل آواز یں آتی رہیں ،کئی لوگ مارے گئے جبکہ دہشت گردوں‘‘ کے کئی ٹھکانوں کو انہوں نے جلتے ہوئے بھی دیکھا۔بھارتی اخبار نے دعویٰ کیا کہ لائن آف کنٹرول کے قریب رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ’’لشکر طیبہ ‘‘ نے بڑی خاموشی کے ساتھ سرجیکل سٹرائیک میں مارے جانے والے’’مجاہدین ‘‘ کی لاشوں کو دفنانے کے لئے ٹرکوں کے ذریعے’’ خفیہ‘‘ مقام پر منتقل کیا اور صبح ہوتے ہی خفیہ طور پر ان کی نماز جنازہ ادا کر کے بعض میتوں کودفنا دیا گیا اور بعض کو مجاہدین کے کیمپوں میں لیجایا گیا۔بھارتی اخبار نے ’’انکشاف ‘‘ کرتے ہوئے کہا کہ سرجیکل سٹرائیک میں ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ چالہاناکی مقامی مسجد میں ادا کی گئی جبکہ ’’شہید ‘‘ ہونے والوں کے لئے مسجد میں دعا بھی کی گئی اس موقع پر لشکر طیبہ کے مجاہدین بڑی تعداد میں موجود تھی۔بھارتی اخبار کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول سے 4کلو میڑ دور ی پر واقع گاؤں ڈھنڈیال کے مرکزی بازار میں ایک بلڈنگ ’الہوائی برج ‘ جہاں سے مجاہدین ٹرکوں میں سامان لوڈ کر کے کپواڑہ میں داخل ہوتے ہیں ،چلہانا میں واقع کیمپ اور بلڈنگ کا کمپاؤنڈ لشکر طیبہ کے مجاہدین استعمال کرتے ہیں۔ بھارتی انگریزی اخبار کا کہنا تھا کہ’’ مبینہ عینی شاہدین ‘‘ کی شناخت ان کے اور انکی فیملیوں کے تحفظ کے پیش نظر چھپائی جا رہی ہیں۔دوسری طرف بھارت کی مشہور نجی پراپیگنڈہ مشین ’’زی نیوز ‘‘ نے اپنے طور پر ’’ بڑا انکشاف ‘‘ کرتے ہوئے کہا کہ اٹھائیس اور 29ستمبر کی رات ہندوستانی فوج کی جانب سے کی جانے والی سرجیکل سٹرائیک میں مجاہدین کے ساتھ پاک فوج کے کئی جوان بھی موجود تھے جو اس حملے میں مارے گئے اور پاکستانی فوج کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔زی نیوز نے بے بنیاد اور جھوٹی شر انگیز ی پھیلاتے ہوئے کہا کہ سرجیکل سٹرائیک کے بعد لشکر طیبہ کے مجاہدین ’’چل ہانا ‘‘ کی مسجد میں جمع ہوئے اور بھارت کو حملے کی دھمکیاں دیتے رہے۔مودی حکومت اور بھارتی فوج کے جھوٹے سرجیکل سٹرائیک کے دعویٰ کے بعد بھارت میں اپوزیشن جماعتوں اور عوامی سطح پر اس ’نام نہاد آپریشن ‘ کے ثبوت مانگنے کے بڑھتے ہوئے مطالبے کو ’’ٹھنڈا ‘‘ کرنے کے لئے ’’زی نیوز ‘‘ کا دعویٰ تھا کہ سرجیکل سٹرائیک کی 3ذرائع ( ڈرون کیمروں ،سیٹلائٹ اور فوجی کمانڈوز کے ہیلمنٹ میں لگے کیمروں ) سے ویڈیو فوٹیج بنائی گئی ،لیکن بھارتی حساس ادارے اور فوج ان ویڈیو فوٹیج کو بطور ثبوت سامنے لانے کے خلاف ہے جس کی وجہ سے ابھی تک ان ثبوتوں کو سامنے نہیں لایا جارہا ۔

بھارتی میڈیا

مزید : صفحہ اول