صوبائی احتساب کمیشن کس طرح ایک ایسے شخص کی انکوائری کر رہا ہے جیسے نیب پہلے ہی بند کر چکا ہے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

صوبائی احتساب کمیشن کس طرح ایک ایسے شخص کی انکوائری کر رہا ہے جیسے نیب پہلے ...

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس مظہر عالم میانخیل نے کہا ہے کہ صوبائی احتساب کمیشن کس طرح ایک ایسے کیس کی انکوائری کررہا ہے جسے نیب پہلے ہی بند کرچکاہے بظاہرتو اس میں بہت کچھ دکھائی دے رہا ہے تمام امورمیں قانون اورآئین کو مدنظررکھ کرہی کاروائی کرنی چاہئیے فاضل چیف جسٹس نے یہ ریمارکس گذشتہ روز خیبرپختونخوااحتساب کمیشن کے ہاتھوں ورکرزویلفیئربورڈ کے سکینڈل میں گرفتار سابق رکن قومی اسمبلی سردار مشتاق کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران دئیے فاضل بنچ نے اس موقع پرسردارمشتاق کی عبوری ضمانت منظورکرتے ہوئے ا نہیں فوری طورپررہا کرنے کے احکامات جاری کئے دورکنی بنچ چیف جسٹس مظہرعالم میانخیل اور جسٹس اکرام اللہ پرمشتمل تھا فاضل بنچ نے رٹ کی سماعت شروع کی تو ان کے وکیل ناصراسلم نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گذار کوٹ نجیب اللہ کاجاگیردارہے اورسابق رکن قومی اورصوبائی اسمبلی رہ چکاہے 2008ء میں نیب نے ایک شکایت پران کے خلاف ورکرزویلفیئربورڈ کو اپنی سستی اراضی مہنگے داموں نجی طورپر فروخت کرنے سے متعلق انکوائری شروع کی تھی تاہم وہ انکوائری عدالتی حکم پرناکافی ثبوتوں کی بناء پربند کردی گئی انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس انکوائری کے بعد وہاں کے مقامی افراد نے مختلف سیاسی مخالفتوں کے باعث درخواستیں دی تھیں تاہم نیب اس میں انکوائری کرچکاتھااس بناء اس پرکوئی عملدرآمد نہیں ہوا2013ء کے انتخابات میں درخواست گذار کے ایک رشتہ دار نے وہاں سے الیکشن لڑامگروہ ناکام رہا ا وران کاموقف تھا کہ موجودہ درخواست گذار کی مخالفت کے باعث وہ الیکشن ہارچکاہے اس بناء ان میں اختلافات زیادہ ہوگئے مگرجو الیکشن ہارچکاتھاوہ احتساب کمیشن میں بطورڈائریکٹرتعینات ہوا اورانہوں نے ایک مرتبہ پھرنیب کی جانب سے بند کی گئی انکوائری شروع کی اورآخرکار تمام قوانین اورقواعدوضوابط کو پس پشت ڈالتے ہوئے درخواست گذارکوگرفتارکرلیاجس سے اس کی بدنامی ہوئی انہوں نے بتایا کہ یہ گرفتاری خودعدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے لہذامذکورہ گرفتاری کوکالعدم قرار دے کردرخواست گذار کو ضمانت پررہا کیاجائے اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم جسمانی ریمانڈ پرہے اوراسے کیس کاعلم نہیں لہذاانہیں جواب داخل کرنے کیلئے مہلت دی جائے فاضل بنچ نے دلائل مکمل ہونے پر درخواست گذاردرخواست گذار کو دس لاکھ روپے کی دونفری ضمانت پررہا کرنے کے احکامات جاری کردئیے جبکہ احتساب کمیشن کونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر