چارسدہ میں معدنیات کی مد میں ڈرائیوروں سے وصولی جاری

چارسدہ میں معدنیات کی مد میں ڈرائیوروں سے وصولی جاری

  

چارسدہ(بیورورپورٹ) چارسدہ میں روزانہ کی بنیاد پر معدنیات کے مد میں گاڑی ڈرائیوران سے لاکھوں روپے غیر قانونی طریقہ سے وصول کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ صوبائی حکومت نے سال 2015-16 کے لئے معدنیات کے ٹینڈر میں ریت کی فی ٹن قیمت تین روپے مقرر کی تھی جس سے ایک ٹرک ریت کی قیمت زیادہ سے زیادہ 20روپے بنتی ہیں لیکن ٹرک ڈرائیوران سے اس مد میں 200روپے وصول کئے جاتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت نے صوبے کے دوسرے اضلا ع کی طرح چارسدہ میں بھی سال 2015-16معدنیات کے سپلائی کے لئے نرخ مقرر کیا تھا جس میں ریت کے سپلائی کے لئے فی ٹن قیمت تین روپے مقرر کئے تھی جبکہ ایک ٹرک میں زیادہ سے زیادہ 5ٹن ریت آجاتی ہے جس سے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس کی قیمت 15روپے بنتی ہیں لیکن ان ٹرک ڈرائیوران سے فی ٹرک 200روپے محصول غیر قانونی طریقہ سے وصول کی جاتی ہے ، چارسدہ میں اس وقت مختلف دریاؤں سمیت ڈھیری زرداد اور دوسرے علاقوں سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں ٹرک معدنیات نکالی اور سپلائی کی جاتی ہے جس میں زیادہ تر ریت اور مٹی شامل ہیں جس کی سرکاری ٹینڈر کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر قیمت ہزاروں روپے بنتی ہیں لیکن کچھ بااثر افراد اس مد میں گاڑی ڈرائیوران سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے جمع کرتے ہیں جس کے خلاف اب ٹرک ڈرائیوران بھی احتجاج کرنے لگے ہیں ،اس حوالے سے محصول وصول کرنے والو ں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے بااثرا فراد کے کہنے پر جمع کرتے ہیں جو کہ سراسر غیر قانونی ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -