کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا ،انور زیب خان

کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا ،انور زیب خان

  

باجوڑ ایجنسی (نمائندہ پاکستان )کسی بھی غیر ملکی جارحیت کے خلاف پورے قبائل یک جاں ہے انورزیب خان ۔مشکلات اور موجودہ حالات میں قبائلی عوام پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں ان خیالات کا اظہار چیف آف راغگان انورزیب خان نے صحافیوں کو خصوصی انٹریو دیتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ فاٹا میں سیکورٹی فورسز ،لیویز فورس اور عمائدین کی قربانیاں سنہری حروف سے لکھے جائینگے ہندوستان کشمیر یوں پر انسانیت سوز مظالم جاری رکھ کر عالمی توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان کے ساتھ جنگ کی باتیں کر کے کچھ نہیں کر سکتا قبائل نے ہر مشکل وقت میں وطن عزیز کے سرحدوں کی تحفظ کی خاطر اپنی جان ھتیلی پر رکھ کر لازوال قربانیاں دی ہیں اور آنے والے وقت میں بھی ہر اول دستہ کا کردار ادا کریگی ہم اپنی تمام تر قوت اور وسائل کو استعمال کر کے ملک کے چھپے چھپے کی حفاظت کریں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فاٹا میں اصلاحات کرنے کے لئے عوام کے خواہشات اوررسم ورواج کا پورا پورا خیال رکھا جائے ایسے فیصلے مسلط نہ کیے جائیں جو ملک وقوم کے لئے نقصان دہ ہو کیونکہ قبائل پہلے سے شدید مشکلات سہہ چکے ہیں سیاسی لیڈرز اپنی زاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عوام کی معیاری زندگی بہتر بنانے کے لئے مشترکہ کوششیں کریں انہوں نے مزید کہا کہ امن اور عوام کی خدمت کا جذبہ لے کر میدان میں نکلا ہوں فاٹا میں اصلاحات کیے جانے کے بعد اس کو واضح کر کے عوام کو میڈیا کے زریعے اگاہی مہم چلائی جائے آج فاٹامیں آدھا تیر ادھا بٹیر کے مصداق کے مطابق یہاں ایجنسی میں نہ تو ایف سی آر لاگو ہیں اور نہ کوئی دوسرا قانون یہاں پائیدار امن کے لئے غربت، بے روزگاری کا خاتمہ کرنا ہوگا اور تعلیم کی شرح میں اضافے کے لئے فاٹا کے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی بھرتیوں کا سلسلہ شروع کرنا ہوگا تعلیم کے بغیر امن ایک ادھورا خواب رہے گا کیونکہ یہاں 300بچوں اور بچیوں کے لئے صرف ایک استاد موجود ہے کس طرح یہ بچے مستقبل کے معماران ہونگے ؟فاٹا میں یونیوورسٹی کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ،گورنر خیبر پختونخوا سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا میں صحت ،تعلیم اور نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کریں اور منشیات کے کاروبار کرنے والوں کے ہاتھ روکیں کیونکہ اس سے نوجوان نسل تباہی کی طرف گامزن ہو گی ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -