عدالت نے خاتون اغواء کے مقدمے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری روک دی

عدالت نے خاتون اغواء کے مقدمے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری روک دی

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس وقار احمدسیٹھ اور جسٹس قلندرعلی خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے خاتون کے اغواء کے مقدمے میں نامزد ملزموں کے خلاف کاروائی روک دی اورصوبائی حکومت اورمتعلقہ حکام سے جواب مانگ لیافاضل بنچ نے امین الرحمان ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ کی سماعت کی تو اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ درخواست گذار حبیب الرحمان اور فلک نیازپرتھانہ خان رازق شہید کی حدود سے ایک خاتون کو اغواء کرنے کاالزام ہے تاہم اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان پہلے ہی انکوائری کاحکم جاری کرچکی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں نامزد ملزمان کو لاپتہ خاتون کے رشتہ دارغیرضروری طورپر پولیس کے ذریعے ہراساں کررہے ہیں سپریم کورٹ پہلے ہی انہیں ضمانت پررہاکرچکی ہے اورعدالت عظمی میں جب کسی کیس کی انکوائری جاری ہوتو پولیس کے پاس اس معاملے میں اختیار ہی نہیں لہذاسپریم کورٹ کے فیصلے تک ملزموں کے خلاف کوئی بھی اقدام غیرقانونی ہے عدالت نے دلائل مکمل ہونے پرپولیس کو درخواست گذاروں کے خلاف کاروائی سے روک کرجواب مانگ لیاہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر