کوہاٹ میں محرم الحرام کے دوران جامع سکیورٹی پلان تیار کر لیا گیا

کوہاٹ میں محرم الحرام کے دوران جامع سکیورٹی پلان تیار کر لیا گیا

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کوہاٹ میں محرم الحرام کے دوران کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے جامع سیکیورٹی پلان تیار کر لیا گیا ہے۔سیکیورٹی کے لحاظ سے شہر کی پانچ امام بارگاہیں اور گیارہ مساجد انتہائی حساس قرار دئیے گئے ہیں۔ضلع بھر میں دفعہ 144نافذ کرتے ہوئے اہم شاہراہوں و چوراہوں اور جلوسوں کی گزرگاہوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرکے چار ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کردئیے گئے ہیں جبکہ مجالس اور ماتمی جلوسوں کی نگرانی کیلئے پولیس کیساتھ ساتھ دیگر انتظامی اداروں کی خدمات بھی حاصل کر لئے گئے ہیں۔شہر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کی مانیٹرنگ کیلئے جدید مواصلاتی نظام سے آراستہ ایک خصوصی کمانڈ پوسٹ کے علاوہ چھ کنٹرول رومز قائم کردئیے گئے ہیں اور شہر کے گرد واقع پہاڑوں پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں۔بم و بارودی مواد کا پتہ لگانے کیلئے بم ڈسپوذل سکواڈ اور کھوجی کتوں کی ٹیموں کو بازاروں اورامام بارگاہوں و مساجد اور جلوس کی گزرگاہوں کی سویپنگ پر متعین کیا گیا ہے۔عشرہ محرم الحرام کے دوران قیام امن اور کسی بھی ممکنہ گڑ بڑ کی روک تھام اورمشکوک و غیر مقامی افراد کی نگرانی کی غرض سے حساس اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ سفید کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروں کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں جبکہ عاشورہ محرم الحرام تک افغان مہاجرین کی شہر میں داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں اپنے کیمپوں تک محدود کرنے کی ہدایات جاری کردئیے گئے ہیں۔ساتویں ،نویں اور دسویں محرم الحرام کی جلوسوں کے پرامن انعقاد کیلئے کوہاٹ شہر کو سیل اور تمام ٹرانسپورٹ اڈوں کو بند رکھا جائے گا اور اندرون شہر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے حوالے سے ٹریفک پولیس کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں ضلع کوہاٹ کو دیگر شہروں سے ملانے والی شاہراہوں پر گاڑیوں اور اشخاص کی چیکنگ کوسخت اور مؤثر بنانے کیلئے پولیس کی موبائل اور پیادہ دستوں کی گشت میں مزید اضافہ کیا جائے گااور سیکورٹی امور کو فول پروف بنانے کی غرض سے پولیس کی مدد کیلئے فوج سٹینڈ بائی رہے گا۔مجالس و ماتمی جلوسوں اور محرم الحرام کے جلسوں د دیگر پروگراموں کی باریک بینی سے ویڈیو فلم بندی کو یقینی بنانے کی خاطر جدید مووی کیمروں سے لیس ٹیکنیکل سٹاف کو اہم ذمہ داریاں حوالے کردی گئی ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر