مہمند ایجنسی میں 35 لاکھ غیر معیاری سپورٹس کے سامان کی نذر

مہمند ایجنسی میں 35 لاکھ غیر معیاری سپورٹس کے سامان کی نذر

  

مہمند ایجنسی (نمائندہ پاکستان) مہمند ایجنسی، 35 لاکھ روپے بجٹ میں غیر معیاری سپورٹس سامان اور برائے نام تقسیم نے سپورٹس اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ کارکردگی کی قلعی کھول دی۔ لسٹ میں درج درجنوں کلبز تا حال سامان سے محروم۔ 2015-16 سپورٹس اینڈ کلچر کے چار کروڑ خطیر رقم کے خرچ پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا۔ مختلف پروگرامز میں لیویز کی بد نظمی نے مزہ کرکرا کر دیا۔ پی اے مہمند کی طرف سے انکوائری مقرر کرنے کا عندیہ۔ تفصیلات کے مطابق مہمند ایجنسی میں گزشتہ دنوں سپورٹس سامان کی من مانی تقسیم اور بد نظمی کے خلاف سپورٹس ایسوسی ایشنز اور کھلاڑیوں کے احتجاج کے باؤجود لسٹ میں درج محروم رہنے والے مختلف کھیلوں کے ٹیموں کو تاحال سامان نہیں مل سکا ہے۔ نہ ہی ایجنسی سپورٹس اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ نے کسی قسم کے اقدامات اُٹھائے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ایجنسی کے سالانہ فنڈ میں مختص تقریباً 35 لاکھ روپے کے سپورٹس سامان کی اصل قیمیت 13 لاکھ 30 ہزار تک اور معیار انتہائی پست ہے۔ جس کو چھپانے کیلئے تقسیم کی تقریب میں ایجنسی سپورٹس منیجر نے بے ترتیبی پیدا کر کے کام میں رکاؤٹ ڈالا تو وہاں موجود لیوی اہلکاروں اور غیر درج شدہ نان سپورٹس افراد نے فائدہ اُٹھایا۔ اور سامان کے کئی کئی کٹس حاصل کی، جو کھیل کیلئے نہیں فروخت کرنے کیلئے لئے گئے۔ سپورٹس سامان کی تقسیم میں بد نظمی پیدا ہونے کے بعد سپورٹس ڈیپارٹمنٹ سامان کا ڈھیر واپس لے گئے۔ جبکہ فٹ بال ایسوسی ایشن نے موقعہ پر سامان ناقص ہونے پر واپس کر کے تقریب سے واک آؤٹ کیا اور دیگر کلبز کے ہمراہ سپورٹس ڈیپارٹمنٹ اور ایجنسی سپورٹس منیجر سعید اختر کے خلاف مظاہرہ کر کے انکوائری کا مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں 35 لاکھ روپے سپورٹس سامان کی تقسیم کے بارے میں ایک سینئر سپورٹس عہدیدار نے بتایا کہ اگر سپورٹس کلبز کی مشاورت سے 35 لاکھ روپے کا سامان خریدا جاتا تو مہمند ایجنسی کا کوئی گاؤں اور کلب محروم نہیں رہتے۔ اس بارے میں ایجنسی سپورٹس منیجر سعید اختر نے بتایا کہ مہمند ایجنسی میں سپورٹس سامان کیلئے 3413900/- روپے مختص تھے۔ جس کی خریداری سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ تقسیم کے روز بد نظمی لیویز اہلکاروں نے پیدا کی۔ انہوں نے پولیٹیکل انتظامیہ کے فراہم کردہ اعداد و شمار سے بھی انکار کیا اور تسلیم کیا کہ لسٹ میں درج تمام ٹیموں کو سامان نہیں ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سامان تقسیم کی ذمہ داری پولیٹیکل انتظامیہ کی تھی۔ سیاسی فلاحی اور سپورٹس تنظیموں نے 2015-16 میں ایجنسی کے سالانہ ترقیاتی فنڈز سے تقریباً 4 کروڑ روپے سپورٹس اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ کی مد میں خرچ کرنے اور آمد و خرچ کی تفصیلات پیش نہ کرنے پر خطیر رقم میں بد عنوانیوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اور پی اے مہمند سے انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف پولیٹیکل ایجنٹ مہمند محمود اسلم وزیر نے اس بارے میں مکمل انکوائری کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -