عمران خان نے کشمیر کازکو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ، سیاسی ومذہبی رہنما

عمران خان نے کشمیر کازکو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ، سیاسی ومذہبی رہنما

 لاہور(جاوید اقبال ‘شہزاد ملک) ملک کی مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے عمران خان کی جانب سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کرکے کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے ان کے طرز عمل سے ثابت ہو گیا ہے کہ وہ ہر کام میں سولو فلائٹ چاہتے ہیں مگر جہاں ملکی سالمیت کا مسلہ ء ہو وہاں سولو فلائٹ نہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اقوام عالم کو اور اپنے ازلی دشمن بھارت کو پیغام جانا چاہئے کہ ہم سب اکھٹے ہیں اور اس کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے افواج پاکستان کے ساتھ ایک پیج پر کھڑے ہیں ۔ ایک دن پہلے اے پی سی میں تو انہو ں نے اپنا وفد بھیج دیا لیکن اسمبلی جس کی سب سے زیادہ اہمیت اور ایک قانونی فورم ہے وہا ں سے راہ فرار اختیار کرکے کوئی اچھا پیغام نہیں دیا گیا اپوزیشن ہو یا حکومت سب سے زیادہ طاقتور پلیٹ فارم اسمبلی ہی ہے جہاں سے دنیا بھر کو متحد ہو کر پیغام دیا جا سکتا ہے ۔ اس حوالے سے اپنے ردعمل میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے چئیرمین راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ حکومت نے تو قومی ایشوز پر پاکستان کی قومی قیادت کو متحد کرنے کے لئے پہلے اے پی سی بلائی اور پھر اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بلایا تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ قوم اور سیاست دان کشمیر کے ایشو پر ایک پیج پر ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور دشمن کے دانت کھٹے کردیں گے۔پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری اطلاعات نور اللہ صدیقی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس پر اپنے ردعمل میں کہاکہ اپوزیشن مطالبے کے باوجود کلبھوشن یادیو کا نام وزیر اعظم کے منہ سے نہ نکلوا سکی پاکستان کے عوام حکومتوں کی مصلحتوں اور پالیسیوں سے بالا ہو کر کشمیر کے عوام سے پیار کرتے ہیں اور استصواب رائے کے حق کی حمایت کرتی ہے نجانے کیوں وزیر اعظم بھارت کے خلاف کھل کر بات کرنے سے ڈرتے ہیں ؟ پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ سمجھ سے بالا تر ہے جب انہوں نے ایک روز قبل اے پی سی میں شرکت کر لی تھی تو پھر اب بائیکاٹ کیوں عوامی نمائندے اسمبلی میں آکر بات کرتے ہیں اس سے بھاگتے نہیں ہیں پی ٹی آئی کو اپنے فیصلوں پر غور کرنا چاہئے اور جہاں پر ملکی ایشوز ہوں وہاں پر زاتی سیاست کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔اے این پی کے رہنما حاجی عدیل نے کہا کہ تحریک انصاف اور اس کے سربراہ نہ وزیراعظم کو مانتے ہیں نہ ہی پارلمنٹ کو وہ بتائیں کہ آخر ان کا اپنا ایجنڈا کیا ہے اور وہ کس کی سوچ کے مطابق کام کررہے ہیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت نہ کرکے انہوں نے پارلیمنٹ کی توہین کی ہے جب وہ ملک کے سب سے بڑے قانون ساز ادارے میں آنا اپنی توہین سمجھتے ہیں تو پھر وہ کس منہ سے جمہوریت کی بات کرتے ہں انہوں نے ایسا کرکے کوئی اچھی روائت نہیں ڈالی ہے۔جے یوپی کے سر براہ پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ عمران خان نے اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کرکے درحقیقت بھارت کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے ان کے طرز عمل سے لگتا ہے کہ انہیں ملک سے زیادہ اپنی اناء پسند ہے اور وہ صرف کرسی کے حصول کے لئے دوڑ دھوپ کررہے ہیں وزیراعظم نے انڈیا کو سخت پیغام دینے کے لئے اے پی سی اور مشترکہ اجلاس بلا کر دور اندیشی کا مطاہرہ کیا بھارت کو پتہ چل گیا ہے کہپاکستان کی سیاسی عسکری قیادت اور وعوا م ایک پیج پر کھڑے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری اطلاعات سینٹر کامل علی آغا نے کہا کہجب اے پی سی ہو گئی ھی تو میرے خیال میں اس مشترکہ اجلاس کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ اے پی سی میں سب جماعتوں کے سربراہوں نے اپنا پنا موقف تفصیل کے ساتھ دیدیا تھا ۔

مزید : کراچی صفحہ اول