گلیات میں میڈیکل کالج کا قیام عمل میں لایا جائے، سرکاری اراضی کو قبضہ مافیا سے واگذار کرائیں، وزیر اعلٰی کی اعلٰی حکام کو ہدایت

گلیات میں میڈیکل کالج کا قیام عمل میں لایا جائے، سرکاری اراضی کو قبضہ مافیا ...

  

پشاور (پاکستان نیوز)خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے مشورے پر گلیات میں ایک میڈیکل کالج کے قیام کی منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت کی ہے ۔وہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں محکمہ صحت کے اہم اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان ، وزیرصحت شاہرام خان ترکئی ، قائمقام چیف سیکرٹری اعظم خان ، سیکرٹری قانون ، سیکرٹری صحت اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ گلیات میں ہسپتالوں کی زمین کے ساتھ سرکاری اراضی کا ریکارڈ نکالیں اور قبضہ مافیا سے واگزار کرائیں۔انہوں نے کہاکہ ہسپتالوں میں لوگوں اور سیاح کو سہولیات دیں ۔ وزیراعلیٰ نے گلیات میں اعلیٰ کلاس کا میڈیکل کالج ہونا چاہیئے ۔انہوں نے کہاکہ ہم اپنے ہسپتالوں کو جدید طرز پر ترقی دے رہے ہیں ۔ہیلتھ کیئر کمیشن کو توسیع دی ، صحت انصاف کا رڈ کا اجراء اور ڈاکٹروں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر سروسز بھی بہتر کر رہے ہیں تاکہ عوام کو بہترین طبی سہولیات مہیا کی جا سکیں ۔انہوں نے کہاکہ مذکورہ اقدامات کے نتائج نظر آنا چاہیئے ۔عمران خان نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ نظام کو مضبوط بنائیں اس کے بغیر وسائل ضائع ہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ سٹیٹس کو کو توڑنا ہے کیونکہ وسائل عوام کی فلاح کیلئے ہیں کسی خاص طبقے کیلئے نہیں ہیں ۔عمران خان نے کہاکہ صوبے کے تدریسی ہسپتالوں میں بورڈز مضبوط ہونے چاہئیں ہسپتال خود بخود بہتر چلنا شروع ہو جائیں گے انہوں نے کہاکہ یہ اچھی بات ہے کہ لوگوں کو سہولیات ملنا شروع ہو گئیں ہیں مگر سسٹم کا مضبوط ہونا ضروری ہے تاکہ خدمات کا یہ سلسلہ جاری رہ سکے ۔خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ لوکل گورنمنٹ سسٹم میں منتخب یا غیر منتخب جو بھی کرپشن میں ملوث پایا گیا اُس کو سسٹم سے نکالنے کیلئے ترامیم لائی جائیں کیونکہ ہم نے 11 ارب روپے ویلج کونسلوں کو جاری کئے ہیں تو اب ذمہ داریاں بھی بنتی ہیں عمران خان نے اس فیصلے کی توثیق کی اور کہاکہ سیاست عوامی خدمت کا نام ہے ۔ لوکل گورنمنٹس ایک پلیٹ فارم ہے جہاں سے سیاستدان پیدا ہوں گے ہم ایسا نہیں کر سکتے کہ لوگ سیاست میں انوسٹمنٹ کریں اور عوامی وسائل کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کریں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاورمیں لوکل گورنمنٹ سسٹم سے متعلق اجلاس میں کیا ۔وزیربلدیات عنایت اﷲ خان ، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ، ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ صاحبزادہ سعید اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔اجلاس کے شرکاء کو لوکل گورنمنٹ سسٹم کی کارکردگی سے متعلق پریزنٹیشن دی گئی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمارے بنائے گئے سسٹم میں بدعنوانی کیلئے کوئی راستہ موجود نہیں۔اس نظام میں بہترین لوگوں کو آگے لایا ہے پھر بھی اگر کہیں بد عنوان عناصر موجود ہوں تو اُن کو عبرتناک مثال بنائیں ۔انہوں نے ہدایت کی کہ پولیس سیفٹی کمیشن کو لوکل گورنمنٹ کے ساتھ مربوط کیا جائے ،اس سے مزید بہتری آئے گی ۔یہ ایک تاریخ بن چکی ہے کہ موجودہ حکومت نے عوام کو مضبوط کیا ہے لہٰذا اب نچلی سطح پر اس کی افادیت بھی نظر آنی چاہیئے ۔عمران خان نے کہاکہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر ہے ۔ کرپشن کلچر بن چکا ہے ۔اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا ہے ۔میری ساری جدوجہد ہی اسی مقصد کیلئے ہے ۔میں اس کی اجازت کیسے دے سکتا ہوں ۔

پشاور(پاکستان نیوز)خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے تعلیم کے شعبے کی ترقی کو اپنی حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ ادوار میں تعلیم کے شعبے کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ، ماضی میں ایک پرائمری سکول دو کلاس رومز اور دو اساتذہ پر مشتمل ہوا کر تا تھا جو تعلیم کے شعبے کے ساتھ ایک سنگین مذاق تھا ۔ ہم نے حکومت میں آتے ہی تعلیم کے شعبے کے لئے انقلابی اقدامات اُٹھائے۔ اب ہر پرائمری سکول کم سے کم چھ کمروں ، چھ اساتذہ اور چھ کلاس رومز پر مشتمل ہے اس مقصد کیلئے ہمیں صوبہ بھر کے سکولوں کے لئے 13000اضافی کمرے تعمیر کرنے پڑے اور ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ بھرتی کرنے پڑے۔ اساتذہ کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم عمارتوں اور سڑکوں کو نہیں بلکہ صحت، تعلیم ، پولیس اور پٹواری نظام کی تبدیلی ، کرپشن کے خاتمے اور میرٹ کی بالادستی کو میگا پراجیکٹ سمجھتے ہیں اور مجھے فخر ہے کہ ہم نے تعلیم کے نظام کو کافی حد تک تبدیل کر دیا ہے اور اصل تبدیلی ہی نظام کی تبدیلی ہے ۔ غریب بچوں کو صحیح طریقے سے پڑھانے کے عمل کو جنت کا ایک راستہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں امیر اور غریب کا فرق مٹانے کی اس کوشش میں صوبائی حکومت کا بھر پور ساتھ دیں اور اس سلسلے میں اپنے فرائض انتہائی ایمانداری اور جانفشانی کے ساتھ انجام دیں۔ انہوں نے اساتذہ کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کرے گی۔پرویز خٹک نے اس بات پر افسوس کا اظہارکیا کہ پہلے اساتذہ، ڈاکٹروں اور پولیس کے معاملات پر سیاست ہوتی تھی مگر ہم نے موثر قوانین سازی کے ذریعے تمام شعبوں سے سیاست کا خاتمہ کر دیا جس کے نتیجے میں اب ہر شعبے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ گلیات کی ترقی کیلئے ماسٹرپلان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور تمام شعبوں میں ترقیاتی سکیموں کو جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ترقیاتی کاموں کی وجہ سے گلیات کی شکل بہتر ہورہی ہے، ترقی و بہتری کا یہ عمل جاری رہنا چاہیئے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان بھی اس موقع پر موجو د تھے۔اجلاس کو گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت جاری ترقیاتی سکیموں پر بریفینگ دی گئی اور بتایا گیا کہ انفراسٹرکچر کی بہتری کی وجہ سے گلیات کی شکل تبدیل ہو چکی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ گلیات کی ترقی کیلئے ماسٹر پلان پرعمل درآمد میں کسی چیز کو رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے۔ انہوں نے غیر قانونی تجاوزات و تعمیرات کے خلاف کریک ڈاؤن کو انتہائی نتیجہ خیزقرار دیا اور کہاکہ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث بڑے لوگوں کو پکڑیں تاکہ اس عمل کی حوصلہ شکنی ہو۔ انہوں نے کہا کہ صحت افزاء ماحول کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ درخت نہ کاٹے جائیں اور صفائی کا نظام مضبوط کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے پارکس کو ترقی دینے اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ نے ترقیاتی سکیموں میں شفافیت اور معیار یقینی بنانے کا حکم دیا اور کہاکہ جو لوگ کام نہیں کرتے ان کیلئے کو ئی جگہ نہیں ۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اس موقع پر گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہا ۔ انہوں نے گلیات کرکٹ گراؤنڈ کو قومی اہمیت کا حامل منصوبہ قرار دیا اور کہاکہ پاکستان بھر سے لوگ اس میدان میں کھیلنے کیلئے آئیں گے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری سکولوں کی بہتری کیلئے فراہم کئے گئے وسائل پر نظر رکھیں۔ وسائل کسی کی جیب میں نہیں جانے چاہیئے ہیں بلکہ سکولوں کی ترقی کے مقاصد پر خرچ ہوں اور نتائج نظر آنے چاہئیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منظور شدہ ڈیزائن اور مطلوبہ معیار کے عین مطابق کام ہونا چاہیئے اور وقت کا ضیاع نہ کیا جائے 2017 میں صوبے کے تمام سرکاری سکولوں میں سہولیات کی فراہمی اور تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل یقینی بنانے کیلئے کام کی رفتار تیز کی جائے۔وہ وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں محکمہ تعلیم پر سٹاک ٹیک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان ، وزیر تعلیم محمد عاطف خان،قائمقام چیف سیکرٹری اعظم خان، سٹرٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید، محکمہ تعلیم اور مواصلات و تعمیرات کے انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اس موقع پر اجلاس کو صوبہ بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں کی بہتری کیلئے جاری اقدامات پر بریفینگ دی گئی ۔ اجلا س کو بتایا گیا کہ صوبے کے ہائر سیکنڈری سکولوں میں سہولیات کی فراہمی کا عمل مکمل ہو چکا ہے جبکہ پرائمری اور مڈل کی سطح پر سہولیات کی فراہمی پر عملی کام جاری ہے ۔2018 تک سو فیصد مکمل ہو جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ منظور شدہ ڈیزائن کے مطابق سکولوں میں کمروں کی تعمیر ، باؤنڈری والز اور دیگر سہولتیں یقینی بنائی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ سکولوں میں اساتذہ والدین کمیٹیاں، فنڈز کے شفاف استعمال اور معیار کو یقینی بنائیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اب جو اُستاد جس سکول میں بھرتی ہو گا و ہیں سے ریٹائرڈ ہو گا اسے ترقی بھی اسی سکول میں نتائج کی بنیاد پر دی جائے گی۔ ان کی حکومت میرٹ پر بھرتیاں کر رہی ہے جو اہل ہو گا وہیں آگے آئے گا۔ انہوں نے اساتذہ سے کہاکہ وہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا کریں اور سرکاری سکولوں میں تعلیم کا معیار بلند کرنے کیلئے بھر پور توجہ دیں ان کی حکومت تعلیم کے ذریعے امیر اور غریب کے درمیان موجود خلا کو کم کرنا چاہتی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ اول -