مسئلہ کشمیر کے حل تک خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا،پاکستان

مسئلہ کشمیر کے حل تک خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا،پاکستان

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) کشمیر خطے کا ’’فلیش پوائنٹ‘‘ بن چکا ہے اس لئے جب تک اس کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اور کشمیری عوام کی آزادی کی خواہش پوری نہیں ہوتی پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اس پاکستانی موقف کا اظہار سینیٹر مشاہد حسین اور ڈاکٹر شذرہ منصب علی خان نے پاکستانی سفارت خانے میں امریکی میڈیا کو ایک بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ پارلیمنٹ کے یہ ارکان وزیراعظم نواز شریف کی کشمیر کے مسئلے پر آگاہی پیدا کرنے والی مخصوص کمیٹی میں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا 8 جولائی کو کشمیری لیڈر برہان وانی کی ماورائے عدالت ہلاکت کے بعد کشمیر میں آزادی کی تحریک کا نئے سرے سے آغاز ہوگیا ہے۔ بھارت زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان پر اوڑی حملے کا الزام لگا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ لائن آف کنٹرول کے ساتھ اوڑی کے علاقے کا الیکٹرانک طریقے سے باڑ کے ذریعے احاطہ کیا ہوا ہے جس کا پار کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں سینیٹر مشاہد حسین نے بتایا کہ سرحد کو پار کرنے کا بھارتی الزام بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جو ظالمانی کارروائیوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ اس سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پر الزامات لگا رہا ہے۔ ڈاکٹر شذرہ منصب علی خاں نے مقبوضہ وادی میں بھارتی جبر و تشدد کی مثال دیتے ہوئیے بتایا کہ وہاں گزشتہ اسی روز سے کرفیو نافذ ہے اور گزشتہ دو مہینوں میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ڈیڑھ سو افراد پیلٹ گن کی فائرنگ سے بینائی سے محروم ہوگئے ہییں جبکہ پانچ سو افراد جزوی طور پر اندھے ہوچکے ہیں جبکہ بارہ ہزار افراد زخمی ہوئے۔ لیڈروں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ آزاد دنیا کے لیڈر کے طور پر مقبوضہ کشمیر کے محکوم عوام کی آواز کو پوری دنیا تک پہنچانے میں مدد کرے۔ ڈاکٹر شذرہ کا کہنا تھا کہ رائے کے ذریعے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔

مزید : صفحہ آخر