محنت کشوں کے تمام جائز مطالبات کو حل کرنے کی کوشش کی جائیگی، انیسہ زیب

محنت کشوں کے تمام جائز مطالبات کو حل کرنے کی کوشش کی جائیگی، انیسہ زیب

پشاور( پاکستان نیوز)خیبر پختونخوا کی وزیرِ محنت اور معدنی ترقی انسیہ زیب طاہرخیلی نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت تمام دستیاب وسائل و سہولیات کو بروئے کار لاتے ہوئے حقیقی معنوں میں محنت کش طبقے کی ترقی و خوشحالی کیلئے کوشاں ہے اور لیبر کمیونٹی کے مسائل ومشکلات کے ازالے کیلئے عملی طور پر اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔ سوات میں سلک اور کاسمیٹیکس انڈسٹریز میں کام کرنے والے محنت کشوں کے تمام جائز مطالبات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور ان صنعتی یونٹس کے رجسٹرڈ ورکرز کے فوتگی اور جہیز گرانٹس اور طلباء وظائف کے کیسز کا جائزہ لیکر ان پر فوری عملدرآمد کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز اپنے دفتر پشاور میں سوات کی کاسمیٹکس اور ریشم سازی کی صنعتوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کی ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جنہوں نے اتفاق لیبر یونین کے صدرعبدالودود کی سربراہی میں ان سے ملاقات کی جبکہ وفد میں اتفاق لیبر یونین کے جنرل سیکرٹری زین العابدین ، فضل وہاب و دیگر عہدیدار شامل تھے ۔ اس موقع پر ڈائریکڑ جنرل ایمپلائز سوشل سیکورٹ انسٹی ٹیوشن (ای ،ایس ،ایس آئی)انور خان، ڈائریکٹر لیبر عرفان اللہ ، ڈائریکٹر ایجوکیشن ورکرز ویلفیر بورڈ ڈاکٹر بلا ل و دیگر متعلقہ حکام بھی مو جو د تھے۔ ملاقات میں سوات کی لیبر یونین کے عہدیداروں نے صوبائی وزیر کو عرصہ چار سال سے سوات کی رجسٹرڈ ورکرز کو فوتگی اور جہیز گرانٹ اور بچوں کی وظائف کے التواء، لیبر کالونی میں مزدوروں کو درپیش مسائل اور ورکنگ فوکس گرائمر سکولوں میں ورکرز کے بچوں کے تعلیمی مسائل سے آگاہ کیا اور ان سے ان مسائل کے حل کیلئے تعاون مانگی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے وفد کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ محکمہ محنت ورکرز کے جملہ مسائل کو حل کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے کیونکہ یہی وہ طبقہ ہے جن کی محنت اورغیر متزلزل عزم کی بدولت نہ صرف ہماری صنعتیں چل رہی ہیں بلکہ ملک کی معیشت میں کلیدی کردار اداکررہاہے۔ انہوں نے اس موقع پر محکمہ کے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر تے ہوئے کہا کہ محنت کشوں سے متعلق تمام کیسز کا ترجیحی بنیادوں پر حل نکالا جائے اور ورکرز کے مسائل سے متعلق انکوائریوں میں سال نہ لگائے جائیں بلکہ بر وقت ان کو ریلیف فراہم کی جائے اور محکمہ میں محنت کشوں کیلئے اسانیاں پیدا کی جائیں۔ صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ سوات کے صنعتی ورکرز ، جہیز، ڈیتھ اور سکالر شپ کے کیسز کا آئندہ تین دنوں میں حل نکالا جائے اور لیبر کا لونی سے متعلق مکمل تفصیلات پیش کئے جائیں تاکہ رجسٹرڈ ورکرز کو تکلیف نہ پہنچے اور غیر قانونی قا بضین کی نشاندہی ہوسکے۔

مزید : پشاورصفحہ اول