ایم کیو ایم اور قائد پر پابندی کیلئے درخواست کی سماعت، وزارت داخلہ سٹینڈنگ کونسل کی غیر سنجیدگی پر ہائیکورٹ برہم

ایم کیو ایم اور قائد پر پابندی کیلئے درخواست کی سماعت، وزارت داخلہ سٹینڈنگ ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں قائم 3رکنی فل بنچ نے ایم کیو ایم پر پابندی لگانے اور الطاف حسین کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کے معاملے پر بادی النظر میں وفاقی حکومت کی غیرسنجیدگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو وضاحت کے لئے طلب کر لیاہے۔فاضل بنچ کے روبرو آفتاب ورک اوردیگر درخواست گزاروں کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ الطاف حسین نے پاکستان مخالف تقریر کی اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگوائے، وفاقی حکومت کو ایم کیو ایم پر پابندی اور الطاف حسین کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواستیں دی گئیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے، کمرہ عدالت میں موجود وزارت داخلہ کے سیکشن افسر نے بنچ کو آگاہ کیا کہ اس معاملے پر وزارت قانون سے رائے مانگی گئی ہے، عدالت نے وزارت داخلہ کی طرف سے وزارت قانون کو بھجوائی گئی دستاویزات کا جائزہ لیا اور وفاقی حکومت کی وکیل سٹینڈنگ کونسل حنا حفیظ اللہ خان سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے وزارت داخلہ کی ان دستاویزات کا جائزہ لیا ہے جس پر سٹینڈنگ کونسل نے کہا کہ وہ اس فائل کو نہیں پڑھ سکیں جس پر فل بنچ نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا وفاقی حکومت کی یہ سنجیدگی ہے کہ وزارت داخلہ کی فائل پر انتہائی عام طریقے سے نوٹنگ کی گئی ہے، یہ عمل ظاہر کرتاہے کہ وفاقی حکومت اس معاملے کو حل کرنے میں کتنا سنجیدہ ہے، سٹینڈنگ کونسل نے موقف اختیار کیا کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے، واضح جواب داخل کرانے کیلئے وقت دیا جائے، عدالت نے وفاقی حکومت کی وکیل کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی کو 17اکتوبر کے لئے طلبی کا نوٹس جاری کیا تو وفاقی حکومت کی وکیل نے کہا کہ وہ مصروفیت کے باعث پیش نہیں ہو سکیں گے ،یہ حکم واپس لے کر وزارت داخلہ کو جواب داخل کرانے کی مہلت دی جائے جس پر درخواست گزاروں کے وکیل اظہر صدیق نے نشاندہی کی کہ اورنج لائن ٹرین کیس میں اٹارنی جنرل طلب نہ کرنے کے باوجود پیش ہوتے رہے ہیں تو پھر اس اہم کیس میں کیوں پیش ہونے سے کترا رہے ہیں، فل بنچ نے تمام دلائل سننے کے بعد اٹارنی کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔اس کیس کی مزید 17اکتوبر کو ہوگی ۔

مزید : صفحہ آخر