4 ہزار قبائلیوں کے شناختی کارڈ بلاک کرنے پر نادرا سے جواب طلب

4 ہزار قبائلیوں کے شناختی کارڈ بلاک کرنے پر نادرا سے جواب طلب

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس مظہرعالم میانخیل اور جسٹس اکرام اللہ خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے مہمندایجنسی کے قبیلے طوطاخیل کے 4ہزار سے زائد قبائلیوں کے قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے پر نادراحکام سے 14ر وزمیں جواب مانگ لیاہے فاضل بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز غلام محی الدین ملک کی وساطت سے دائرسلام درویش وغیرہ کی رٹ پٹیشن پر جاری کئے اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ درخواست گذار مہمندایجنسی کے قبیلے طوطاخیل سے تعلق رکھتاہے اوروہ رہائشی و پیدائشی اسی علاقے کے ہیں جبکہ درخواست گذارکے قبیلے سے تعلق ر کھنے والے4ہزار3سو51قبائلیوں کے قومی کمپیوٹرائزڈشناختی کارڈ بلاجواز طورپربلاک کردئیے گئے ہیں جبکہ مذکورہ علاقہ پاکستان کی حدود میں آتاہے اورسابق گورنرافتخارحسین شاہ نے اس علاقے کو مہمند ایجنسی کاسب ڈویژن بھی قرار دے چکے ہیں اورتمام قبائل فاٹاکے ڈومیسائل ہولڈرہیں اورشناختی کارڈفارمز باقاعدہ طورپر پولیٹکل انتظامیہ سے تصدیق شدہ ہیں اورقانون نافذ کرنے والے ادارے بھی درخواست گذاروں کو باقاعدہ طورپر قبائل ڈیکلیئرکرچکے ہیں اس کے باوجود ان کے شناختی کارڈ بلاک کئے گئے ہیں اور کلیئرنس ہونے کے باوجود ان کے شناختی کارڈ ریلیزنہیں ہورہے ہیں لہذادرخواست گذاروں کو شناختی کارڈ جاری کئے جائیں فاضل بنچ نے ابتدائی دلائل کے بعد نادراحکام سے جواب مانگ لیا۔

مزید :

پشاورصفحہ اول -