صوبے کی تاریخ میں پہلی بار لوکل گورنمنٹ کی خودمختار نظام کی بنیاد ڈالی، عنایت اللہ

صوبے کی تاریخ میں پہلی بار لوکل گورنمنٹ کی خودمختار نظام کی بنیاد ڈالی، ...

صوابی( بیورورپورٹ)صوبہ خیبر پختونخواکے سینئر وزیر برائے بلدیات عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ اتحادی حکومت نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار لوکل گورنمنٹ کی ایک خود مختار نظام کی بنیاد ڈالی ہے اس نظام میں نچلی سطح پر بھی ویلج کونسل ہی طاقتور کونسل ہے جو خود نہ صرف ترقیاتی سکیمیں تیار کررہی ہے بلکہ اس کی منظوری بھی دیتی ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ٹی ایم اے ہال صوابی میں جماعت اسلامی ضلع صوابی کے زیر اہتمام مشاورتی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا جس سے سابق صوبائی وزیر زکوٰۃ حافظ حشمت خان ، سابق ایم این اے بختیار مانی ، ضلعی امیر محمود الحسن ، تحصیل ناظم واحد و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ وزیر بلدیات عنایت اللہ خان نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کے نئے نظام کی بدولت تر قیاتی کاموں کے لئے ویلج کونسل کو اب دس لاکھ کی بجائے بیس سے چالیس لاکھ روپے ملتے ہیں ۔جب کہ صوبائی حکومت نے 113میں سے 33ارب روپے لوکل گورنمنٹ سسٹم کو فراہم کر دی ہے جب کہ تحصیل کونسل کے لئے مزید گرانٹ دینگے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی صوبے کے تعلیم ، ایگریکلچر اور صحت سمیت آٹھائیس شعبوں میں پالیسی تیار کر کے دے گی اور اس کے لئے وہ پوری طرح ڈاکومنٹس تیار کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے ستر فی صد لوگ زراعت سے وابستہ ہے۔ اگر ایگریکلچر کے شعبے کے لئے صحیح پالیسی بنائی جائے تو اس سے صنعت ترقی کرئیگا انہوں نے کہا کہ ہمیں خوراک میں خود کفیل ہونا ہو گا امریکہ ایٹم بم کے بعد خوراک میں ہی میں خود کفیل ہے اپنا خوراک پیدا کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ صوبے میں چھ بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں اے این پی ، جے یو آئی ، پی پی پی ، مسلم لیگ ن ، پی ٹی آئی اور قومی وطن پارٹی کو اقتدار کر نے کا موقع ملا ہے جب کہ جماعت اسلامی دو بار اقتدار میں جونیئر پارٹنر رہ چکا ہے انہوں نے کہا کہ ہمارا صوبہ خیبر پختونخوا تیل ، معدنیات ، جنگلات ، پانی اور دیگر وسائل سے مالا مال صوبہ ہے ۔ اگر ان وسائل کو برؤے کار لایا جائے تو خیبر پختونخوا سے سنگا پور بن سکتا ہے اور ہمارے عوام کو لوڈ شیڈنگ ، بد امنی ، بے روزگاری سے نجات ملنے سے وہ مشرقی وسطی مزدوری کے لئے نہیں جاینگے۔ ہمارے وطن میں صلاحیت موجود ہے لیکن اخلاص اور دیانت کی ضرورت ہے تاکہ وہ بچوں کا مستقبل روشناس کر ا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا تو یہ سب سے بڑا صوبہ بن جائیگا پاکستان کے ساتھ دُنیا کا دوسرا بڑا گوادر بندر گاہ موجود ہے وسائل سے بھرہ وطن پھر بھی دہشت گردی ، بد امنی ، بے روزگاری ، لوڈ شیڈنگ اور دیگر مسائل کا شکار ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر صاحب ثروت لوگوں نے ملک میں کارخانے لگائے تو نوجوان نسل ملازمتوں کے لئے دربدر کی ٹھوکریں نہیں کھائیں گے۔ پاکستان میں چالیس فی صد لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں

مزید : پشاورصفحہ اول