گزشتہ 3سالوں میں سول ملٹری تعلقات بدستور ناہموار رہے :پلڈاٹ رپورٹ

گزشتہ 3سالوں میں سول ملٹری تعلقات بدستور ناہموار رہے :پلڈاٹ رپورٹ

اسلام آباد(پ ر)گزشتہ تین سال میں سوِل ملٹری تعلقات بدستور ناہموار رہے ، بہتری کی ضرورت شدید اور گنجا ئش کافی زیادہ ہے ۔سوِ ل ملٹری تعلقات کے بارے میں پلڈاٹ کی رپورٹ جاری کردی،خارجہ اور سیکورٹی پالیسیوں کے معاملات میں فوجی قیادت آگے نظر آ رہی ہے جبکہ منتخب حکومت جونیئر پارٹنر لگتی ہے۔ وفاقی حکومت‘ قومی سلامتی کے معاملات میں فیصلہ سازی کے مشاورتی عمل‘ خواہ سوِل۔ ملٹری مشاورت ہو یا سوِل۔ سوِل‘ کے لئے ادارہ جاتی انتظام قائم کرنے یعنی با ضابطہ مشاورت کے ادارے جیسے قومی سلامتی کمیٹی جیسے ادارے فعال کرنے میں ناکام نظر آتی ہے جبکہ کابینہ بدستور غیر متحرک ہے۔وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان ہونے والی 29 ملاقاتوں کے مقابلے میں قومی سلامتی کمیٹی کے صرف دو اجلاس ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز کی وفاقی حکومت گزشتہ تین سالوں کے دوران ملک میں کل وقتی وزیر دفاع مقرر نہیں کر سکی ہے۔ جس شخصیت کے پاس وزارت دفاع کا قلمدان ہے وہ ماضی میں فوج پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے رہے ہیں اور اس طرح حکومتی فیصلے کے صائب ہونے کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں۔آرمی چیف کے ساتھ ون آن ون ملاقاتوں کا وزیر اعظم کا میلان نہ صرف قومی سلامتی کمیٹی بلکہ وزیر دفاع اور قومی سلامتی کے مشیر کے عہدوں کیلئے بھی غیر مناسب ہے۔نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے منتخب حکومت اور فوجی قیادت میں کھلم کھلا اختلافات‘ سوِل ملٹری تعلقات کا ایک افسوسناک رُخ ہے۔وفاقی اور صوبائی کابینہ ہائے‘ پارلیمان اور صوبائی اسمبلیاں‘ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی نگرانی کا ایک جامع اور باضابطہ نظام وضع کرنے سے گریزاں رہی ہیں۔آرمی چیف کی‘ خصوصاً خارجہ پالیسی کے شعبے میں‘ بیرون ملک اور اندرون ملک بڑھتی ہوئی فعالیت سوِل ملٹری تعلقات کا ایک اہم پہلو ہے۔پاکستان مسلم لیگ (نواز)‘ 1999 کے فوجی انقلاب کی تلخی بھلانے میں ناکام نظر آتی ہے اور اس کے عہدیداران کی جانب سے بیانات اس مسلسل تلخی کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں۔05 اکتوبر: وفاقی حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر اگر پاکستان میں سوِل ملٹری تعلقات پر نظر ڈالی جائے تو لگتا ہے کہ فوجی قیادت نے اپنے آپ کو قومی سلامتی کے شعبے میں حتمی ثالث کی حیثیت سے تسلیم کروا لیا ہے اور وفاقی حکومت نے یا تو ایک معاون کا کردار لے لیا ہے یا قومی سلامتی کا ایک متوازی نظام اختیار کر لیا ہے۔ اگرچہ قومی سلامتی کے امور پر حتمی فیصلوں کا اختیار منتخب حکومت کے پاس ہوتا ہے تاہم اس کا استعمال فوج کرتی نظر آ رہی ہے کیونکہ پاکستان‘ سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے آئینی توازن سے مزید دور ہو گیا ہے۔یہ بات پلڈاٹ کی رپورٹ بعنوان ’’پاکستان میں سوِل ملٹری تعلقات کی صورت حال: یکم جون 2015 تا 31جولائی 2016‘‘ جس میں موجودہ حکومت کا تیسرا سال بھی شامل ہے‘ میں کہی گئی ہے جسے آج جاری کیا گیا۔پاکستان مسلم لیگ نواز کی وفاقی حکومت کی غالباً سب سے بڑی ناکامی‘ 2013 میں قومی سلامتی کمیٹی اور اْس کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کے باوجود قومی سلامتی کے بارے میں فیصلہ سازی کے مشاورتی عمل کو باضابطہ شکل دینے میں اس کی نااہلی ہے۔ موجودہ حکومت کے تیسرے سال میں دیکھنے میں آیا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے ذریعے قومی سلامتی کے امور پر فیصلہ سازی کو منضبط نہ کرنے سے درج ذیل نتائج سامنے آئے:اپنی تشکیل سے لے کر جولائی 2016 تک قومی سلامتی کمیٹی کے صرف 6 اجلاس ہوئے جس کا اوسط وقفہ 6 ماہ کا بنتا ہے جبکہ پاکستان کو سکیورٹی کے بے بہا چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے ممالک جہاں قومی سلامتی کے اس سے کہیں کم مسائل ہیں‘ جیسے برطانیہ‘ وہاں وزیر اعظم کابینہ کے اجلاس سے پہلے ہر ہفتے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتا ہے۔ اس نظام کو باضابطہ شکل دینے سے گریز اس طرح بھی نظر آتا ہے کہ وزیر اعظم‘ اس کمیٹی کے اجلاس منعقد کرنے کی بجائے آرمی چیف سے براہ راست معاملات طے کرنے کا انتخاب کرتے ہیں جس سے نہ صرف مشاورتی عمل کو باضابطہ بنانے کے عمل کو ضرر پہنچتا ہے بلکہ وفاقی وزیر دفاع اور قومی سلامتی کے مشیران کے عہدے بھی کم موثر ہو جاتے ہیں یہ حقیقت متعدد واقعات سے ظاہر ہے:یکم جون 2015 سے 31جولائی 2016 تک وزیر اعظم نے آرمی چیف سے 29 ملاقاتیں کیں جبکہ قومی سلامتی کمیٹی کے صرف دو اجلاس ہوئے۔ ان میں سے 10 ملاقاتیں (کل ملاقاتوں کا 34 فیصد) ون آن ون تھیں،انچارج وفاقی وزیر برائے دفاع‘ خواجہ محمد آصف‘ ایم این اے‘ ان ملاقاتوں میں سے صرف 6 میں شریک ہوئے (وزیر اعظم اور آرمی چیف کی کل ملاقاتوں کا 21 فیصد) دوسری طرف قومی سلامتی پر وزیر اعظم کے مشیر (22 اکتوبر 2015 سے پہلے سرتاج عزیز اور اس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ناصر خان جنجوعہ) ان میں سے 10 ملاقاتوں میں شریک ہوئے (وزیر اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف کے مابین ہونے والی ملاقاتوں کا 34 فیصد )وفاقی حکومت تین سالہ دور اقتدار میں قومی سلامتی کی جامع پالیسی تشکیل دینے میں ناکام رہی ‘ اس پالیسی کا مسودہ‘ قومی سلامتی کمیٹی کی رہنمائی میں قومی سلامتی ڈویژن کو تیار کرنا تھا۔قومی سلامتی اور قومی سلامتی ڈویژن میں کچھ اصلاحات بھی ضروری ہیں۔دنیا بھر میں قومی سلامتی کونسلوں کی طرح کے اداروں کے برعکس‘ جو مشاورتی نوعیت کے ہیں‘ پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے قواعد کے مطابق اس کی تعریف یہ ہے کہ ’’قومی سلامتی کے امور پر فیصلہ سازی کا سب سے بڑا ادارہ‘‘۔ مشاورتی کردار کے برعکس اس کا فیصلہ سازی کا یہ اختیار‘ ہماری رائے میں وفاقی کابینہ کا اختیار کم کرنے کے مترادف ہے اوراس پر ضرور نظرثانی ہونی چاہیے۔ تاہم اگر حکومت قومی سلامتی کمیٹی کی فیصلہ ساز حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اس کمیٹی کے امور کو پارلیمان کے قانون کے ذریعے منضبط کرنے کی ضرورت ہے۔ اس قانون کے ذریعے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاسوں کے باقاعدگی سے منعقد کرنے کیلئے عرصہ متعین کرنا چاہیے جو اگر ہر ہفتے نہیں تو کم از کم ایک ماہ میں ایک دفعہ اجلاس منعقد کرنا ضروری ہو۔مذکورہ بالا سے پیوستہ ایک معاملہ قومی سلامتی کمیٹی کی رکنیت کا بھی ہے جس میں کابینہ کے ارکان کے علاوہ بھی اس کے مستقل رکن ہیں جن میں چیئرمین‘ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور تینوں افواج کے سربراہان شامل ہیں۔ یہ تشکیل قومی اور عالمی تناظرمیں اصلاح طلب ہے ۔ دنیا کے دوسرے ممالک میں اس طر ح کی کمیٹیوں میں فو جی کمانڈرز کے پاس باقاعدہ رکنیت نہیں ہوتی بلکہ وہ دعوت دیئے جانے پر ہی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں۔ اس کو کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کا نام دینابھی غیر مناسب ہے‘ جیسا کہ وفاقی حکومت نے دیا ہے‘ کیونکہ اس کے تمام ارکان کابینہ کے ارکان نہیں ہیں۔ایک اور پہلو جس میں اصلاح کی ضرورت ہے‘ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی سے نہ ہونا ہے‘ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔ جنرل راحیل شریف کی نومبر2013 میں تقرری سے جولائی 2016 تک وزیر اعظم اور آرمی چیف نے بظاہر ون آن ون ملاقاتوں کے ذریعے معاملات چلانے کو ترجیح دی ہے (کل 99 ملاقاتوں میں سے 37 ون آن ون تھیں جبکہ تین سالوں میں قومی سلامتی کمیٹی کے 6 اجلاس ہوئے)۔ یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ باضابطہ مشاورت اور اسی مقصد کے لئے قائم کردہ ادارے میں فیصلہ سازی ترجیح نہیں ہے۔ مذکورہ بالا رجحانات‘ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات میں پائی جانے والے عدم توازن کی علامت ہیں جو‘ پلڈاٹ کے مطابق‘ بنیادی طور پر دو خصوصیات کے حامل ہیں:موجودہ منتخب سول حکومت اور اسی طرح ماضی کی حکومتیں بھی‘ قومی اہمیت کے حامل معاملات پر مشاورتی عمل کو بروئے کار لاتے ہوئے قومی سلامتی کے نظام کو باضابطہ شکل دینے میں ناکام رہی ہیں۔ اس امر نے اس تصور کو تقویت دی ہے کہ منتخب حکومتیں‘ قومی سلامتی کے اہم امور پر موثر اور قابل فہم فیصلے کرنے میں نہ تو سنجیدہ ہیں اور نہ منظم ہی ہیں۔فوجی قیادت یہ بات مسلسل محسوس کرتی چلی آ رہی ہے کہ ’’قومی مفاد‘‘ سے متعلق فیصلہ کرنے کی حتمی ذمہ داری اُنہیں پر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بعض اوقات معاونت کرنے اور معاملات کو ملک کی منتخب قیادت پر چھوڑنے کی بجائے اصرار کیا جاتا ہے کہ وہ ان معاملات جیسے بھارت‘ افغانستان‘ ایران اور امریکا سے تعلقات اور سکیورٹی پالیسی سے متعلق قومی مفادات پر اپنی تشریح کو دریج دیں۔ ان دونوں پہلوؤں کو ’سبب‘ اور ’اثر‘ کا عنوان تفویض کرنا مشکل ہے لیکن ہر دو ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔پلڈاٹ اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ فوج کو اس بات کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ قومی مفاد کے معاملات پر مختارِ کل‘ منتخب حکومت ہے۔ پاکستان کے عوام نے انہیں ایسا کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے۔ اگرچہ فوجی قیادت کے قومی سلامتی پر اپنے نظریات ہو سکتے ہیں اور اسے اپنے نظریات اتنے موثر انداز سے ہر مناسب فورم پر پیش کرنے چاہئیں جتنا وہ کر سکتی ہے‘ تاہم حتمی فیصلے کا مینڈیٹ مکمل طور پر صرف منتخب حکومت کے پاس ہی رہتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر منتخب حکومت اس سلسلے میں کوئی غلطیاں کرتی ہے تو انہیں فیصلہ سازی سے جڑے چیلنج کے طور پر لینا چاہیے۔ یہ وہ خطرہ ہے جس کا ماضی میں سول اور ملٹری ہر دو حکومتیں سامنا کر چکی ہیں ۔اسی طرح پلڈاٹ اس امر پر بھی یقین رکھتا ہے کہ منتخب حکومت کو بادشاہت کے لئے منتخب نہیں کیا جاتا اور اسے‘ خاص طور پر نیشنل سکیورٹی اور اعلیٰ قومی مفادت سے متعلق سوالات پر‘ فیصلہ سازی کیلئے مشاورتی نظام اپنانا چاہیے۔ یہ فیصلہ سازی‘ مختلف ادارہ جاتی فریم ورکس کے ذریعے کی جانی چاہیے؛ اس کی بجائے ایسا لگتا ہے کہ با ضابطہ فیصلہ سازی کے ادارے تقریباً غیر فعال ہو کر رہ گئے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر