دینی مدارس اسلام کے قلعے اور ملکی سالمیت کے ضامن ہیں :معراج الہدی

دینی مدارس اسلام کے قلعے اور ملکی سالمیت کے ضامن ہیں :معراج الہدی

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) جماعت اسلامی اورجے یوآئی سندھ ف ملک کے نظریاتی تشخص کی بقاء اورسندھ میں دینی مدارس کی نئی قانون سازی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے دینی مدارس اسلام کے قلعے اورسالمیت پاکستان کی حفاظت کی ضمانت ہیں جن کے خلاف کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔سندھ حکومت دینی مدارس کا راستہ روکنے سے باز رہے۔ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی اورجمعیت علمائے اسلام ف سندھ کے نائب صدر قاری محمد عثمان نے قباء آڈیٹوریم میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔جے یوآئی ف سندھ کے نائب صدر قاری محمد عثمان کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے صوبائی دفتر قباء آڈیٹوریم جماعت اسلامی سندھ کے امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی سے ملاقات کی ۔وفد میں مولانا غیاث،حماد شاہ،مولانارشید نعمانی،لطیف رحیم ودیگر شامل تھے جبکہ جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر وسابق رکن قومی اسمبلی محمد حسین محنتی، ڈپٹی جنرل سیکریٹری محمد عظیم بلوچ، سیکریٹری اطلاعات مجاہد چنا اور سوشل میڈیا والیکٹرانک میڈیا کے انچارج ریاض صدیقی بھی موجود تھے۔جے یوآئی وفد نے باہمی دلچسپی کے دیگر امور کے علاوہ 20اکتوبر کو پی ایس شکارپورمیں ہونے والے ضمنی انتخابات میں جے یو آئی امیدوار ناصرمحمود سومرو کی حمایت کرنے پر بھی زوردیا۔ ڈاکٹر معراج الہدیٰ نے پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ لادین، سیکولراور ملک دشمن عناصر کی جانب سے حج اور قربانی کیخلاف پی ٹی وی سمیت تمام الیکٹرانک چینلز پر منفی پروپیگنڈا دینی اقدار کو متاثر کرنے کی کوششوں اور طاغوتی قوتوں کی جانب سے اسلام کیخلاف ہونے والی سازشوں کا حصہ ہے۔جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام ان تمام سازشوں کا مل کر مقابلہ کریں گی۔کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور بربریت کیخلاف تمام سیاسی جماعتیں اور حکومت ایک ہی پیج پر ہیں اور مظلوم کشمیریوں کی نمائندگی کیلئے یکجان ہیں۔ بھارتی فوج اور مودی حکومت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کا بھانڈا بیچ چوراہے پر پھوٹ چکا ہے، بھارتی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے نریندر مودی سے سرجیکل اسٹرائیک کے ثبوت مانگنا اور مودی حکومت کا راہ فرار اختیار کرنا پاکستان کی بڑی کامیابی ہے جبکہ پاکستان میں تمام سیاسی اختلافات کے باوجود پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتیں حکومت، فوج ایک پلیٹ فارم پر متحد ومتفق ہیں۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام ایک سوچ، ایک نظریہ اور اسلامی اقدار کو نافذ کرنے کیلئے متفق ومتحد ہیں۔پیمرا کی جانب سے اسلامی اقدار اور مغربی تہذیب، سوشلزم، سیکولرازم کیخلاف اور ختم نبوت کے حق میں مؤثر آواز اٹھانے پر اوریامقبول جان کو نوٹس جاری کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ صوبائی امیر نے کہا کہ شہید خالدمحمود سومرو کی طرح ان کا بیٹا بھی ہمارے لیئے قابل قدر ہے تاہم مقامی نظم اورمرکزی پارلیمانی بورڈ سے منظوری کے بعد جلد فیصلے سے آگاہ کریں گے۔ جے یو آئی کیقاری محمد عثمان نے کہا کہ دونوں جماعتیں پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے متفق ومتحد اور ایک دوسرے کے فطری اتحادی ہیں۔ ملک کی موجودہ صورتحال، بھارتی جارحیت اور مؤثر جوابی حکت عملی اختیار کرنے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ بھارت مغربی آلہ کار بن کر سامنے آیا ہے،نریندر مودی امریکہ کے اشاروں پر چل رہا ہے۔پاکستان مسلم امت کا واحد ائٹمی قوت اور مسلم دنیا کی قیادت کرنے کی پوزیشن میں ہے اسلئے اس کو کمزور کرنے کیلئے طاغوتی قوتوں نے بھارت اور مودی کا انتخاب کیا ہے، پاکستانی قوم، فوج اور حکومت متحد ومتفق اور ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج جماعت اسلامی کے صوبائی رہنماؤں کے پاس پی ایس 11شکارپور کے ضمنی الیکشن میں تعاون کیلئے حاضر ہوئے ہیں جس پر جماعت کی طرف سے مثبت جواب ملا ہے امید ہے کہ تعاون کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔پی پی کی جانب سے دھاندلی نہ ہونے اور فوج کو پولنگ اسٹیشن کے اندر مقرر کرنے کی صورت میں ہماری جیت یقینی ہے۔ کراچی امن کا گہوارہ اور روشنیوں کا شہر تھا ایک بار پھر متحد ہوکر اس شہر کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔ دینی مدارس اسلام کا قلعہ ہیں، جن کیخلاف نئی قانون سازی کسی صورت میں بھی قبول نہیں ہے۔تمام مکاتب فکر اور دینی مدارس کی ترجمان دینی مدارس کی تنظیم اس معاملے پر متحد ومتفق ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر