سرجیکل سٹرائیک جعلی ہے ،مودی سرکار ثبوت دکھائے،کانگریس

سرجیکل سٹرائیک جعلی ہے ،مودی سرکار ثبوت دکھائے،کانگریس

نئی دہلی(صباح نیوز)آزادکشمیر میں سرجیکل سٹرائیک کے مودی سرکار کے جھوٹے دعوے پر بھارت میں سیاسی طوفان اٹھ کھڑاہوا۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ثبوت مانگنے پر مودی سرکار کے اوسان خطا ہوگئے۔ اروند کیجریوال کے بعد اب کانگریس نے بھی سرجیکل سٹرائیک کے ثبوت مانگ لئے۔ مودی سرکار نے ثبوت مانگنے والوں کو پاکستان چلے جانے کا بھاشن دیدیا۔ممبئی میں کانگریس کے سربراہ سنجے نیروپم کی پریس کانفرنس سے بھارت میں کھلبلی مچ گئی۔ نیروپم نے کہا کہ پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک جعلی ہے،مودی حکومت عوام کی ہمدردی اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے جھوٹے دعوے کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ دعوی صرف سیاست چمکانے کیلئے کیا گیا ہے۔جب تک مودی حکومت ثبوت پیش نہیں کرتی میں سرجیکل سٹرائیک کو جعلی ہی کہتا رہونگا۔انکا کہنا تھا اس کارروائی پر دنیا بھر کے میڈیا اور پاکستان کی جانب سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں اس لیے حکومت کو ثبوت دنیا کے سامنے پیش کرنے چاہئیں۔ کانگریس کے رکن اور سابق وزیر داخلہ چدمبرم کا کہنا تھا مودی سرکار بڑھکیں نہ مارے بلکہ پاکستان کو بے نقاب کرنے کے لیے ثبوت سامنے لانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہمارے دور میں بھی سرجیکل سٹرائیک کی گئی تھی جو خاموشی سے ہوئی لیکن اب پہلی بار مودی سرکار نے اسکا سیاسی کریڈٹ لیا ہے تو ثبوت بھی دینا پڑینگے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ جنوری 2013 میں جنرل بکرم سنگھ نے ایک سرجیکل سٹرائیک کی تصدیق کی تھی۔ کانگریس کے ترجما ن ر ندیپ سنگھ سورجے والا نے اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی کو فوج پر مکمل اعتبار ہے لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت ان کارروائیوں کے شواہد پیش کرے۔اس طرح کی کارروائیاں تین مرتبہ کانگریس کے دور میں بھی ہوئی تھیں لیکن کبھی ان سے اس انداز میں سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی گئی ،جیسے اب کی جا رہی ہے۔کانگریس کے جنرل سیکرٹری دگ وجے سنگھ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مشاہدین بھی سر جیکل سٹرائیک پرسوال اٹھا رہے ہیں اور ایسے حالات میں ہمیں فوج کی معتبریت کو برقرار رکھنے کے لیے جو بھی ضروری ہو کرنا چاہیے۔ پنجاب میں کانگریس کے سربراہ امریندر سنگھ کا کہنا تھا کبھی بھی کسی جماعت نے سرجیکل سٹرائیک کو سیاسی مقصد کیلئے اتنا استعمال نہیں کیا جتنا بی جے پی کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ بتائیں کیا بھارت پاکستان سے جنگ کرنے جا رہا ہے ، سرحدی علاقوں سے لوگوں کو زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے۔امریندر سنگھ نے کہا ایک طرف مودی پاکستان کیساتھ کشیدگی کم کرنے کی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب ان دیہاتیوں کو گھروں سے بیدخل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کی طرف جنگ کی کوئی نشانی نظر نہیں آرہی ہے نہ اسکی فوج کی نقل وحرکت دکھائی دے رہی ہے لیکن بھارت میں بی جے پی صرف اترپردیش(یوپی )میں الیکشن جیتنے کیلئے جنگی ماحول پیدا کر رہی ہے۔کانگریس کے رہنما دکشت نے منموہن سنگھ کو خط لکھا ہے جس میں ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے دور میں پاکستان میں کی جانیوالی سرجیکل سٹرائیکس کے حوالے سے قوم کو مطلع کریں۔ادھر بی جے پی سے تعلق رکھنے والے وزیر روی شنکر پرساد نے ثبوت مانگنے پر کانگریسی رہنماؤں کی مذمت کی ،انہوں نے کہا کیا کانگریس کو اپنی فوج کی بہادری اور صلاحیت پر کوئی شک ہے۔ روی شنکر کا کہنا تھا کیجریوال کا بیان پاکستان کے اخبارات کی سرخی بنا اور انہیں پاکستان کے موقف کی تائید نہیں کرنی چاہیے تھی۔مودی سرکار کی وزیر اوما بھارتی نے سرجیکل سٹرائیک کے ثبوت مانگنے والوں کو بھارت سے چلے جانے اور پاکستان کی شہریت لینے کا بھاشن دیدیا۔ وزیر ترقی وینکیاہ نائیڈو نے کہا کہ ثبوت پیش کیا جائے گا۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو سرجیکل سٹرائیک کا ثبوت مانگنے پر سیاہی سے نہلا دیا گیا۔ راجستھان کے علاقے بیکنار میں ایک نوجوان نے ان پر سیاہی پھینک دی۔بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے سیاہی پھینکنے والے دونوں افراد کو گرفتار کر لیا۔ کیجریوال نے اپنے ردعمل میں کہا کہ میں سیاہی پھینکنے والوں کا خیر خواہ ہوں۔ نئی دہلی میں کیجریوال کے گھر کے باہر ہندو انتہا پسندوں نے ثبوت مانگنے پر احتجاج کیا۔ کیجریوال نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ پاکستان کے پراپیگنڈے کا اثر زائل کرنے کیلئے ثبوت سامنے لانے کی بات کی تھی ۔

مزید : ملتان صفحہ اول