”ہم جب بھی ان کے خلاف کارروائی کرنے لگتے ہیں آپ۔۔۔“ بڑے کمرے میں شہبازشریف نے ڈی جی آئی ایس آئی کو ایسی بات کہہ دی کہ سناٹا چھاگیا، کیا کہا؟جان کر آپ کا منہ بھی کھلے کا کھلا رہ جائے گا

”ہم جب بھی ان کے خلاف کارروائی کرنے لگتے ہیں آپ۔۔۔“ بڑے کمرے میں شہبازشریف ...
”ہم جب بھی ان کے خلاف کارروائی کرنے لگتے ہیں آپ۔۔۔“ بڑے کمرے میں شہبازشریف نے ڈی جی آئی ایس آئی کو ایسی بات کہہ دی کہ سناٹا چھاگیا، کیا کہا؟جان کر آپ کا منہ بھی کھلے کا کھلا رہ جائے گا

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پیر کے روز ہونے والی پارلیمانی رہنماوں کی کانفرنس کے دوران خفیہ میٹنگ میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی نوک جھونک کے بعد حکومت نے انتہائی محتاط اور غیر روایتی انداز میں عسکری قیادت پر پاکستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی واضح کرتے ہوئے کئی اہم ترین معاملات پر معاملات پر کارروائیوں کے لئے زور دیا ہے۔

انگریزی اخبار”ڈان“ کے مطابق پیر کے روز ہونے والی پارلیمانی رہنماوں کی کانفرنس کے علاوہ ایک خفیہ میٹنگ بھی ہوئی جس میں کم از کم دو امور پر اتفاق کیا گیا۔نمبر ایک، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ناصر جنجوعہ کے ساتھ چاروں صوبوں کا دورہ کریں اور ایپکس کمیٹیوں اور انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سیکٹر کمانڈرو کو پیغام پہنچائیں کہ فوج کے زیر کنٹرول کام کرنے والی خفیہ ایجنسیاں کالعدم تنظیموں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں مداخلت نہ کریں، ڈی جی آئی ایس آئی اپنے اس دورے کا آغاز لاہور سے کریں۔جس دوسرے نکتے پر اتفا ق ہوا وہ یہ تھا کہ وزیراعظم نوازشریف پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے کیلئے اقدامات کا حکم دیں اور ممبئی حملہ کیس سے متعلق انسداد دہشتگردی راولپنڈی کی عدالت میں دوبارہ کارروائی شروع کی جائے۔

اخبار نے اس اہم ترین اجلاس میں شریک رہنماوں کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں بڑے فیصلے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے درمیان زبردست بحث کے بعد کئے گئےاور یہ مسلم لیگ ن کی حکومت کی نئی حکمت عملی کے بھی مظہر ہیں۔اخبار کے مطابق اسی روز سیکریٹری خارجہ اعزاز چودھری نے وزیراعظم ہاوس میں سول اور عسکری حکام کو الگ الگ بریفنگز بھی دیں۔وزیراعظم کی زیر صدارتاجلاس میں کابینہ ارکان، صوبائی حکام بھی شریک تھے جبکہ عسکری نمائندوں کی قیادت ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر نے کی ۔سیکریٹری خارجہ نے پاکستان کی جانب سےحالیہ سفارتی کوششوں کے نتائج سے مختصر طورپر آگاہ کیا ، انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا سامنا ہے اور حکومت پاکستان کے موقف پر دنیا کے بڑے ملکوں نے بے اعتنانی کا اظہار کیا ہے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بھی قدرے خرابی آئی ہے اور یہ مزید بڑھنے کا امکان بھی ہے کیونکہ امریکہ پاکستان سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہا ہے۔بھارت کی جانب سے بھی پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات اور کالعدم جیش محمد کے خلاف کارروائیوں کے مطالبات آرہے ہیں ۔

چین نے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا تاہم پاکستان کی ترجیحات میں تبدیلی کا اشارہ بھی دیا۔انہوں نے بتایا کہ خاص طور پر جب چینی حکام نے جیش محمد کے رہنما مسعود اظہر پر اقوام متحدہ کی پابندی کے خلاف تکنیکی اعتراض برقرار رکھنے پر آمادگی ظاہر کی تو ساتھ ہی انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ بار بار ایسا کرنے کی منطق کیا ہے؟”ڈان“ کے مطابق اس بریفنگ کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی اور سول حکام کے درمیان غیرمعمولی تبادلہ خیال ہوا۔ڈی جی آئی ایس آئی نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا ئی سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں؟جس پر اعزاز چوہدری نے جواب دیا کہ عالمی برادری کا سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ جیش محمد، مسعود اظہر، حافظ سعید ,لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی جائے۔

کیا واقعی وہاں ایسی ہی صورتحال تھی یا کچھ توڑ مروڑ کر پیش کیا؟ حکومتی ترجمان کا موقف جاننے کیلئے یہاں کلک کریں۔

اس جواب پر ڈی جی آئی ایس آئی نے کہاکہ حکومت جسے ضروری سمجھتی ہے اسے گرفتار کرے۔تاہم یہ واضح نہیں کہ انہوں نے یہ بات مذکورہ افراد اور تنظیموں کے حوالے سے کہی یا پھر عمومی طور پر کالعدم تنظیموں کے ارکان سے متعلق بات کی تاہم اس بات کے دوران وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کی جانب سے غیرمتوقع طور پر مداخلت ہوئی اور انہوں نے ڈی جی آئی ایس آئی سے کہا کہ جب بھی سول حکام ان گروپوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں، سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پس پردہ ان کی رہائی کی کوششیں شروع کردیتی ہے۔شہباز شریف کی اس بات نے شرکا کو حیران کردیا ،کشیدگی کم کرنے کے لئے وزیراعظم نوازشریف نے مداخلت کی اور ڈی جی آئی ایس آئی کو مخاطب کرتے ہوئے بولے کہ ماضی میں جو کچھ ہوتا رہا وہ ریاستی پالیسیاں تھیں اور ڈی جی آئی ایس آئی کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جارہا۔ میٹنگ میں شریک شخصیات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی یہ مداخلت انتہائی غیر متوقع تھی جس کے بعد ہی دونوں اہم فیصلے بھی ہوئے۔

مزید : قومی /اہم خبریں