’’ ملک کو تعلیم دو‘‘

’’ ملک کو تعلیم دو‘‘
’’ ملک کو تعلیم دو‘‘

  


جنر ل ضیا الحق کے زمانے میں سرائیکی لیڈر تا ج محمد لنگا نے جنرل صاحب سے گلہ کیاتھا ’’حکومت ان پڑھ اور نا تجربہ کار لوگوں کو وزیروں کا عہدہ دے دیتی ہے۔ جو کہ پالیسی بنانے تو دور کی بات ہے، وُہ فائل بھی نہیں پڑھ سکتے‘‘ جنرل ضیاء کا کہنا تھا ’’ لنگا ہ صاحب جب تک عوام لڈو بنا نے والوں کو اسمبلیوں میں بھیجتے رہیں گے۔ مُلک میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آئے گی‘‘

واقعی حکومت انتخاب میں جیتے ہوئے اراکین کو عوام کے لیڈر ماننے کے لئے مجبور ہے۔ہمارے مُلک کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ رہی ہے کہ پاکستان کے معرض وجود آ جانے کے بعد پاکستان کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ قائد اعظم کی حیات میں مُلک اپنے اوائلی دور میں تھا۔ قائد اعظم کی خرابی صحت اور نوز انئیدہ مملکت کے بے شمار مسائل نے انہیں فر صت نہ دی کہ وُہ اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ اُنکے نزدیک پاکستان کے لئے جمہوریت بہتر طرز حکومت تھا۔ حالانکہ وُہ جانتے تھے کہ مُلک میں شرح خو اندگی بہت کم ہے۔ لیکن اُنکو امید تھی کہ وُہ اپنی زندگی میں شر ح خواندگی بڑھانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اُنکے نزدیک مُلک کی ترقی کا انحصار مُلک میں تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر بڑھانے میں تھا لیکن بد قسمتی سے مُلک کو اپنی دفاعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بجٹ کا خاطر خواہ حصہ افواج پاکستان کی دفاعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے خرچ کرنا پڑا۔ یہ پاکستان کی بد قسمتی رہی ہے کہ اِسے اپنی سر حدوں پر ہمیشہ چوکس رہنا پڑا ہے۔ اور بھارت کا مُقا بلہ کرنے کے لئے ہمیں اپنی افواج پر خطیر رقم صرف کرنا پڑتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہواہے کہ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طر ف زیادہ توجہ نہ دی جا سکی لیکن اِس عدم توجہ کی بنیادی وجہ یہ حقیقت ہے کی بھارت نے روزِ اوّل سے ہمیں ایک آزاد مُلک کی صورت میں قبول نہیں کیا۔ لہذا ملک کی سلامتی کے لئے مضبوط دفاع قائم رکھنا ایک مجبوری ہے۔ اِس کے علاوہ بھی کُچھ ایسے مسائل تھے کہ جس کی وجہ سے تعلیم مُلک میں زیاد ہ سُرعت کے ساتھ فروغ نہ پا سکی۔ ہمارے مُلک میں جاگیرداروں اور و ڈیروں نے اپنی چوہدراہٹ کو قائم رکھنے کے لئے اپنے مزارعوں کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے محروم رکھا۔ وُہ نہیں چاہتے تھے کہ اُنکے بچے پڑھ کر زمینداروں سے مزدوری اور قرض کے بارے میں باز پُرس کریں۔ لہذا وڈیروں نے اپنے مفادات کے لئے اور اپنی پوزیشن کو مستحکم رکھنے کے لئے علاقے میں تعلیمی سکول کھولنے پر بالکُل توجہ نہیں دِی۔ جاگیردار چاہتے تھے کہ حکومت ہمشیہ اُنکی ھی مر ہونِ منت رہے۔ تعلیم یافتہ معاشرے سے زمینداروں، جاگیر داروں اور صنعت کارو ں کے مُفادات پر زد پڑتی تھی۔ لہذا تعلیم کے فروغ کے لئے سنجیدگی سے کوشش نہیں کی گئی۔ جس سے مُلک کی معاشی تر قی رُک گئی۔ بھارت سے آزادی حاصل کئے ہوئے ہمیں ۶۹ سال ہو چکُے ہیں اور اِس دوارن تقریباً تعلیم کے فروغ کے لئے ۲۳ پلان بنائے گئے ہیں لیکن بد قسمتی سے کسی منصوبے پر بھی تسلی بخش کام نہیں ہو سکا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ محکمہ تعلیم کے لئے بہت کم رقم مُختص کی جاتی او ر نا کافی بجٹ ہونے کی وجہ سے تعلیمی ضرورتوں کو پورا نہیں کیا جا سکتا۔ دُنیا میں ہیومن ڈیویلپمنٹ رپورٹ کے مُطابق پاکستان کی تعلیمی اعتبار سے ۱۳۶ پوزیشن ہے ۔بیس کروڑ آبادی والے مُلک میں ابھی تک ۴۹ فیصد آبادی متعلم ہوسکی۔ یو نیسکو کی رپورٹ کے مُطابق ۴۳ فی صد مرد اور ۳۳ فصد خواتین کے پاس بنیادی تعلیم موجود ہے۔

کسی بھی مُلک کی ترقی کے آج کی دُنیا میں بینادی تعلیم کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ہمارے مُلک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم مناسب تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے اسمبلیوں میں بہتر اراکین نہیں بھیج سکتے۔ تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے لئے اچھی اور مفید قیادت کو چُن سکیں جو مُلک و قوم کے لئے بہتر پالیسیاں بنا سکے۔ ہم آج بھی بدقسمتی سے وڈیروں کے چُنگل سے آزاد نہیں ہوسکے۔ اِس کی بینادی وجہ یہ ہے کہ ہم آج بھی ووٹ صلاحیتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ برادری سسٹم کو مد نظر رکھ کر دیتے ہیں۔ ہم مُختلف سیا سی پارٹیوں کے منشور کو پڑھ نہیں سکتے۔ اِس لئے اپنے لئے غلط اراکین اسمبلی کا انتخاب کرتے ہیں۔ سیاسی لیڈروں کی باتوں میں آ کر اور برداری کے دباؤ میں اُن کا انتخاب کرتے ہیں۔ ہمارے مُلک میں وسائل کی کمی نہیں لیکن تعلیمی استعداد نہ ہونے کی وجہ سے ہم اپنے وسائل کو اچھے طریقے سے استعمال نہیں کر سکتے اور نہ ہی اُنکو بڑھانے کا گُر جانتے ہیں۔

وطن عزیز میں تعلیمی انحطا ط کے کئی اسباب ہیں۔ لیکن چند ایک اسباب کا ذکرکرنا ضروری ہے ۔

وسا ئل کی کمی۔ موجودہ نظامِ تعلیم جو وقت کے تقا ضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔محکمہ تعلیم میں نااہل لوگوں کی بھرتی۔ رشوت ستانی اور میرٹ کا نہ ہونا۔ پبلک اور انگلش میڈیم سکولوں میں نصاب کا فرق۔ غیر مستند اسا تذہ، پس مند ہ علاقوں میں لڑ کیوں کی تعلیم پر پابندی۔ مذہبی اداروں کی غیر معیاری تعلیم۔ ہم اپنے آئین کے مُطابق ابھی تک عوام کو بنیادی تعلیم بھی نہیں دے سکے۔ مناقع خوری نے ہماری آنکھیں اِسقدر چندھیا دی ہیں کہ ہم اپنے منافع کے بغیر مُلکی ترقی اور بہتری نہیں دیکھ سکتے۔ جب تک ہم مُلک میں تعلیم کو عام نہیں کرتے ہم بطور مُلک و قوم ترقی نہیں کر سکتے۔ بد عنوانی اور اقربا پروری اور رشوت ستانی نے ہمارے ذہنوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔

ہم تعلیم حاصل کرکے بھی جاہلوں کی طرح زندگی گُزارتے ہیں۔ ہمارے مُفادات ہم کو اندھا کر دیتے ہیں۔ ہم نے تعلیم کو علم حاصل کرنے کا ذریعہ کبھی نہیں سمجھا۔ بلکہ ہم تعلیم اِس لئے حاصل کرتے ہیں کہ ہم حکومت کے کسی محکمے میں افسر یا کلرک بھرتی ہو جائیں۔ یہی ہماری منفی سوچ ہمارے آنے والی نسلوں کے خون میں سرایت کر جاتی ہے۔

پاکستان کے سابقہ صدر جنرل مشرف نے ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ پا کستان میں نظام جمہوریت مُلکی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ٹھیک نہیں۔ اُن کی رائے کے مُطابق ناخو اندگی کے با عث آدھی سے زیادہ آبادی سیاسی پارٹیوں کے منشوروں کو پڑ ھنے سے قا صر ہے۔ اُن میں درست فیصلہ کرنے کی استطاعت موجود نہیں‘‘ جنرل مشرف کے خیال میں جاگیر دارانہ نظام نہیں چاہتا کہ عوام با شعور ہو سکیں۔ اقبال نے جمہوریت کے بارے میں کہا تھا کہ جمہوریت ایسا طرز حکومت ہے جس میں بندوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا۔ یہ بات بالکُل درست ہے۔ تولنے کی صلا حیت صرف اور صرف تعلیم ہی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ لہذا مُلکی مُفاد میں ہمیں اپنے نظامِ تعلیم کو وقتی تقاضوں کے ہم آہنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مُلک میں ترقی کے لئے عام تعلیم کی بجائے فنی تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دینا ضروری ہے ۔ اِسی لئے متعلم معا شرہ مُلک کی ترقی اور بہبود کے لئے ریڑھ کی ہڈی کے طرح اہمیت رکھتا ہے۔ غربت، بد عنوانی، بیماری اور مُفلسی کا علاج تعلیم سے ہی ممکن ہے۔

مزید : بلاگ