دنیا کا وہ علاقہ جہاں سے اتنے ہزار افغانیوں کو ڈی پورٹ کیا جائے گا کہ انہیں واپس بھیجنے والے کابل میں نیا ائیرپورٹ بھی بنائیں گے، ناقابل یقین خبر آگئی

دنیا کا وہ علاقہ جہاں سے اتنے ہزار افغانیوں کو ڈی پورٹ کیا جائے گا کہ انہیں ...
دنیا کا وہ علاقہ جہاں سے اتنے ہزار افغانیوں کو ڈی پورٹ کیا جائے گا کہ انہیں واپس بھیجنے والے کابل میں نیا ائیرپورٹ بھی بنائیں گے، ناقابل یقین خبر آگئی

  


برسلز(مانیٹرنگ ڈیسک) شام و عراق میں جنگ کے باعث لاکھوں لوگ ہجرت کرکے یورپ پہنچ چکے ہیں۔ ان میں بہت بڑی تعداد افغان مہاجرین کی بھی ہے اور یورپی ممالک کسی بھی طرح اس بوجھ کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں اب یورپی یونین نے افغان حکومت کے ساتھ یورپ پہنچنے والے افغانی پناہ گزینوں کی واپسی کا ایک معاہدہ کر لیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت یورپی ممالک کو اختیار مل گیا ہے کہ وہ اپنے ہاں موجود افغان مہاجرین کو لامحدود تعداد میں واپس افغانستان بھیج سکتے ہیں اور افغان حکومت انہیں واپس لینے کی پابند ہو گی۔ ممکنہ طور پر واپس بھیجے جانے والے افغانی باشندوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہو گی کہ یورپی ممالک نے کابل ایئرپورٹ پر ایک نیا ٹرمینل بھی بنانے کا وعدہ کیا ہے کیونکہ موجودہ کابل ایئرپورٹ اس قدر افراد کی گنجائش ہی نہیں رکھتا۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ کئی ماہ سے زیرغور تھا اور اس پر کام جاری تھا۔ چند روز قبل یورپی یونین کی چند خفیہ دستاویزات منظرعام پر آئی تھیں جن میں تجویز دی گئی تھی کہ اگر افغانستان اپنے مہاجرین کو واپس لینے میں تعاون نہیں کرتا تو اس کی امداد بند کر دی جائے۔ اب یونین اور افغان حکومت یہ معاہدہ طے پا چکا ہے جسے تاحال منظرعام پر نہیں لایا گیا۔

روس اور امریکہ کے میں سرد جنگ تیز،پیوٹن نے اضافی پلوٹونیم کو تلف کرنے کا معاہدہ معطل کردیا

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس معاہدے میں افغانستان نے قبول کیا ہے کہ وہ اپنے ان تمام شہریوں کو واپس لینے کا پابند ہو گاجنہیں یورپی ممالک نے پناہ نہیں دی یا جو رضاکارانہ طور پر یورپی ممالک کو چھوڑنے پر رضامند نہیں ہیں۔واضح رہے کہ افغان شہری پناہ کے لیے یورپی ممالک میں پہنچنے والا دوسرا بڑا گروپ ہے۔ گزشتہ سال 1لاکھ 96ہزار 170 افغانیوں نے مختلف یورپی ممالک میں پناہ کے لیے درخواست دی تھی۔

مزید : بین الاقوامی