کانگریس کاسابقہ دور میں سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ بھی جھوٹا نکلا ،سابقہ بھارتی ڈی جی ایم او نے بھانڈا پھوڑ دیا

کانگریس کاسابقہ دور میں سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ بھی جھوٹا نکلا ،سابقہ ...
کانگریس کاسابقہ دور میں سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ بھی جھوٹا نکلا ،سابقہ بھارتی ڈی جی ایم او نے بھانڈا پھوڑ دیا

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)مودی سرکارکے بعد بھارت کی سابقہ حکمران جماعت کانگریس کی جانب سے تین سال قبل پاکستانی حدود میں سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ بھی جھوٹا نکلا،انڈیا کے سابق ڈی جی ایم اونے سونیا گاندھی کی جماعت کے جھوٹ کا پول بیچ چوراہے میں پھوڑ دیا۔ ہندوستان کی بڑی سیاسی جماعت کانگریس کے اس دعوے کہ بھارتی فوج نے 2011ء،2013ء اور2014میں بھی لائن آف کنٹرول کے پار سرجیکل سٹرائیکس کی تھیں کی اُس وقت کے ڈاریکٹر جنرل ملٹری آپریشن جنرل ونود بھاٹیہ نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ دور میں کوئی سرجیکل سٹرائیک نہیں ہوئی تھی ،کراس بارڈر آپریشن کو سرجیکل سٹرائیک کا نام نہیں دیا جا سکتا ۔

بھارتی نجی چینل ’’این ڈی ٹی وی ‘‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جنرل (ر) ونود بھاٹیہ کا کہنا تھا کہ کراس بارڈر فائرنگ اور سرجیکل سٹرائیک کی پلاننگ اور نتائج میں بہت فرق ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر ہونے والے آپریشن انتہائی معمولی اور مقامی سطح کے ہوتے ہیں ،انہیں کسی طور پر بھی سرجیکل سٹرائیک کا نام نہیں دیا جا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ سرحد پر تعینات کی جانے والی فوج کے ذمے 4کام ہوتے ہیں ،سب سے پہلے ایل او سی کو برقرار رکھنا ،دوسرا سرحد وں کی حفاظت کرنا ،تیسرا تھرپارکر سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنا اور چوتھا دشمن کی فوج پر اپنا تسلط قائم رکھنا ہو تا ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے سابقہ دور میں سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے صرف مودی سرکار پر جوابی وار تھا ،اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -