سیاسی و عسکری قیادت کالعدم جماعتوں کے حوالے سے یک نکاتی ایجنڈے پر متفق ، جہادی تنظیموں کو سیاسی دھارے میں شامل کرنے کا فیصلہ

سیاسی و عسکری قیادت کالعدم جماعتوں کے حوالے سے یک نکاتی ایجنڈے پر متفق ، ...
سیاسی و عسکری قیادت کالعدم جماعتوں کے حوالے سے یک نکاتی ایجنڈے پر متفق ، جہادی تنظیموں کو سیاسی دھارے میں شامل کرنے کا فیصلہ

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جہادی تنظیموں کے حوالے سے سیاسی و عسکری قیادت نے تین جبکہ نام بدل کر کام کرنے والی کالعدم جماعتوں کیلئے یک نکاتی ایجنڈا اپنانے پر اتفاق کرلیا ہے۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق سیاسی و عسکری قیادت نے ایک اجلاس کے دوران اتفاق کیا ہے کہ سب سے پہلے جہادی تنظیموں کو غیر مسلح کیا جائے گا اور ان کو مالی امداد فراہم کرنے والے لوگوں کو فنڈنگ بند کرنے کا واضح پیغام دیا جائے گا۔ دوسرے نکتے کے تحت بڑی جہادی تنظیموں کو سیاسی دھارے میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا جائے گا اور انہیں اس طرف مائل بھی کیا جائے گا جبکہ تیسرے نکتے کے تحت ملک بھر میں اخلاقی اور امدادی سرگرمیاں پروان چڑھانے کے راستے نکالے جائیں گے۔

”ہم جب بھی ان کے خلاف کارروائی کرنے لگتے ہیں آپ۔۔۔“ بڑے کمرے میں شہبازشریف نے ڈی جی آئی ایس آئی کو ایسی بات کہہ دی کہ سناٹا چھاگیا، کیا کہا؟جان کر آپ کا منہ بھی کھلے کا کھلا رہ جائے گا

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ نام بدل کر کام کرنے والی کالعدم تنظیموں کے حوالے سے سیاسی و عسکری قیادت نے یک نکاتی حکمت عملی کے تحت کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ متفقہ طور پر مشیر قومی سلامتی جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو صوبوں میں جا کراس معاملے پر واضح احکامات دے گی۔ یہ کمیٹی دو ہفتوں میں اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر ے گی جس کے بعد وزیر اعظم نواز شریف 18 اکتوبر کو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کو بریفنگ دیں گے ۔

مزید : قومی /اہم خبریں