حافظ سعید انڈے دیتا ہے جو ہم اسے پال رہے ہیں :مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی بھارتی زبان بولنے لگے

حافظ سعید انڈے دیتا ہے جو ہم اسے پال رہے ہیں :مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی ...
حافظ سعید انڈے دیتا ہے جو ہم اسے پال رہے ہیں :مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی بھارتی زبان بولنے لگے

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے رکن اور حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے رہنما رانا محمد افضل  خان نے کہا ہے کہ حافظ سعید کونسے انڈے دیتا ہے جو ہم اسے پال رہے ہیں؟ ملک کی خارجہ پالیسی کا یہ حال ہے کہ ہم آج تک حافظ سعید جیسے لوگوں کو ختم نہیں کرسکے ، ملک میں موجود غیر ریاستی عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ ۔

’’برطانوی خبر رساں ادارے ‘‘کے مطابق ،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے اجلاس میں حکمران جماعت مسلم لیگ نواز اور اپوزیشن کی طرف سے ملک میں سرگرم حافظ سعید اور ان جیسے دیگر غیر ریاستی عناصر کے خلاف سخت اقدام اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی کے رکن اور مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی رانا محمد افضل  خان کا کہنا تھا کہ ملک کی خارجہ پالیسی کا یہ حال ہے کہ ہم آج تک حافظ سعید جیسے لوگوں کو ختم نہیں کرسکے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید سے متعلق ایسا تاثر قائم کیا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر سے متعلق پاکستانی وفد کسی ملک جائے تو وہاں کے حکام یہ کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات حافظ سعید کی وجہ سے خراب ہیں، جبکہ ہمیں ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے ہمیں شدت پسند ملک قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔رانا محمد افضل نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حافظ سعید کونسے انڈے دیتا ہے جو ہم اسے پال رہے ہیں؟ جبکہ حافظ سعید وہ شخص ہیں جو دنیا بھر میں تو دندناتے پھر رہے ہیں لیکن پاکستان میں وہ کہیں نظر نہیں آتے۔

یاد رہے کہ فیصل آباد سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے   رانا محمد افضل خان اس وفد میں شامل تھے جس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق آگاہی کے لیے فرانس کا دورہ کیا تھا۔قبل ازیں میڈیا رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ حکومت نے انتہائی محتاط اور غیر معمولی طور پر واضح طریقے سے عسکری قیادت کو یہ پیغام پہنچادیا ہے کہ عالمی سطح پر تیزی سے پاکستان تنہا ہورہا ہے جبکہ ریاستوں کی جانب سے کئی اہم معاملات پر کارروائیوں کے لیے اتفاق رائے کا بھی تقاضہ کردیا۔تاہم وزیر اعظم ہاس کی جانب سے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گیا کہ یہ رپورٹس من گھڑت ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں۔

مزید :

قومی -