مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال

مقبوضہ کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال

دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے، جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔گزشتہ دو ہفتوں میں بھارت نے18کشمیریوں کو شہید کیا اور بھارتی افواج نے باندی پورہ میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا،مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی جاری ہے اور متعدد واقعات میں اب تک ہزاروں کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ڈاکٹر محمد فیصل نے یہ باتیں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتائیں۔دوسری جانب بلدیاتی انتخابات سے پہلے کشمیری نوجوانوں کی گرفتاریاں تیز ہو گئی ہیں۔ حالیہ دِنوں میں جنازوں پر بھی آنسو گیس پھینکی گئی اور میت اُٹھا کر چلنے والے لوگوں کو مشکلات پیش آئیں،اِن انتخابات میں سینکڑوں حلقے ایسے ہیں جن میں کوئی ایک امیدوار بھی انتخاب نہیں لڑ رہا،اِس لئے اِن انتخابات کی حیثیت اور حقیقت تو سامنے ہے،لیکن ظلم و ستم کا بازار بدستور گرم ہے،گرفتاریوں اور کریک ڈاؤن کا سلسلہ بھی ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔

مقبوضہ کشمیر کی جدوجہدِ ،آزادی و حریت کی تحریک ہے، جس کا حق اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کیا ہے۔ غیر ملکی تسلط میں ظلم کا شکار لوگوں کی جدوجہد اور دہشت گردوں کی کارروائیوں میں فرق ہونا چاہئے،اِس لئے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جو اتفاق رائے پایا جاتا ہے،اس کا اطلاق کشمیریوں کی جدوجہد پر نہیں کیا جا سکتا،لیکن بھارت چونکہ کشمیریوں کے اِس جذب�ۂ حریت کو سرد کرنے میں ناکام رہا ہے اور آٹھ لاکھ فوج کشمیر میں متعین کرنے کے باوجود اُسے اِس سلسلے میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی،کشمیری دھڑلے سے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگاتے اور اپنے شہیدوں کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفناتے ہیں، ایسے جذبوں پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کر کے بھارت کچھ حاصل نہیں کر پائے گا اور نہ ہی بلدیاتی انتخابات جیسے ناٹک اِس سلسلے میں کارگر ثابت ہوں گے، ریاستی انتخابات میں بھی جو لولی لنگڑی اسمبلی بنتی ہے وہ بھی بھارت کی مرکزی حکومت کو گوارا نہیں ہوتی اور جوڑ توڑ کے ذریعے مسلمان اکثریت کی ریاست کا ہندو وزیراعلیٰ بنانے کی کوششیں بھی بُری طرح ناکام رہی ہیں،آزادی کے بعد سے آج تک کبھی نہیں ہوا کہ مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی ہندو سیاست دان انتخاب جیت کر وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب ہوا ہو،لیکن نریندر مودی کو یہ نادر تصور سوجھا تو انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں1+44 فارمولا کے تحت ہندو وزیراعلیٰ بنانے کی کوشش کی جو بُری طرح ناکام ہوئی، بالآخر انہیں پہلے مولوی سعید اور پھر محبوبہ مفتی کی جماعت پی ڈی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانی پڑی۔

مودی کو یہ بات تسلیم کر لینی چاہئے کہ تشدد کی کارروائیاں کسی صورت مفید نہیں ہو سکتیں، بھارتی ظلم و ستم کی انتہا کے باوجود کشمیریوں کا جذبہ حریت سرد نہیں پڑا تو اب وادی میں کیمیائی ہتھیار استعمال کئے جا رہے ہیں،جو عالمی قوانین کے تحت ممنوع ہیں اور شام میں ایسے ہی ہتھیاروں کی شکایت پر امریکہ نے سرکاری فوجوں پر بمباری کر دی تھی،پاکستان کو ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانا چاہئے،جس کے سیکرٹری جنرل حال ہی میں بھارت کا دورہ کر کے واپس گئے ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اگرچہ جنرل اسمبلی میں کشمیر کے معاملے پر بھرپور نمائندگی کی تھی، لیکن کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف معاملہ الگ سے اقوام متحدہ میں اٹھانے کی ضرورت ہے،کیونکہ یہ انسانیت کے خلاف سنگین جرم تصور ہوتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بلدیاتی انتخابات 8 اکتوبر سے شروع ہو رہے ہیں، جو تین مرحلوں میں مکمل ہوں گے، حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے اِن انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اور پیر کو ہڑتال کی کال دی ہوئی ہے، حریت رہنماؤں کی انہی کوششوں کو ناکام بنانے اور دُنیا کو ڈھونگ انتخابات دکھانے کے لئے بھارتی حکومت نے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔کشمیر کی پوری سیاسی قیادت نے نریندر مودی کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اِس مسئلے کے حل کے لئے کشمیریوں سے مذاکرات کا آغاز کرے،لیکن وہ کبھی آئین سے دفعہ 35۔اے خارج کرنے کا ڈرامہ کرتے ہیں اور کبھی پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عوام تو انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اور کشمیر میں حالات نارمل ہیں۔ یہ تو ’’مٹھی بھر لوگ‘‘ ہیں جو دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں اور اِنہیں سرحد پار سے حمایت حاصل ہے،حالانکہ جو کشمیری نوجوان شہید ہو رہے ہیں اُنہیں پورے کشمیر میں لوگ جانتے ہیں،برہان وانی کوئی باہر سے گیا ہوا ’’دہشت گرد ‘‘ نہیں تھا وہ کشمیر کی سرزمین کا فرزند تھا، شہید کے والد مقبوضہ کشمیر کے محکمہ تعلیم کے ریٹائرڈ ملازم ہیں اور اُن کے خاندان کو کشمیر میں جاننے والے ہزاروں لوگ ہیں،اِس لئے یہ بات تو کوئی تسلیم نہیں کر سکتا کہ اگر کشمیریوں کو باہر کی امداد نہ ملے تو اُن کی تحریک دم توڑ جائے گی۔ کشمیریوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اس تحریک کا شعلہ بلند کیا ہوا ہے۔ بھارتی افواج کے عملیت پسند افسروں کو بھی صورتِ حال کا ادراک ہے اور وہ اپنی حکومت کو یہ مشورہ بھی دیتے رہتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کا کامیاب حل تلاش کیا جائے،لیکن مودی اسی طرح یہ مسئلہ طاقت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں،جس طرح صدر ٹرمپ افغان معاملے کا فوجی حل چاہتے ہیں،اِسی لئے امریکہ نے بھارت کو کشمیر میں خصوصی ٹاسک سونپا، لیکن جو مُلک اپنی سرحدوں کے اندر مسائل حل کرنے میں ناکام چلا آ رہا ہے وہ افغانستان کی سنگلاخ سرزمین میں سرپھوڑنے کے سوا کیا کر سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مودی نے امریکہ کے کہنے کے باوجود افغانستان میں فوج تو نہیں بھیجی،لیکن وہاں دہشت گردوں کی تربیت کا اہتمام ضرور کر رہا ہے،جس کا تذکرہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں بھی کیا اور کہا کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کے پیچھے بھارت ہے۔کشمیر پر طاقت کے ذریعے قبضہ برقرار رکھنا بھارت کے لئے ناممکن ہو رہا ہے،اِسی لئے اب مایوس ہو کر ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔پاکستان کو یہ معاملہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے اٹھانا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ