پانچواں درویش ’’زندہ‘‘ رہے گا

پانچواں درویش ’’زندہ‘‘ رہے گا
پانچواں درویش ’’زندہ‘‘ رہے گا

  

’’سر، آپ بہت زیا دہ سگریٹ پیتے ہیں‘‘’’ عمر ، یہ سگریٹ ہی تو مجھے چلا رہے ہیں اگر سگریٹ بند کر دوں گا تو جی نہیں پاوں گا‘‘ ۔ جواد نظیر صاحب مجھ سمیت ہر ایسے شخص کو یہی جواب دیتے جو ان کی سگریٹ پہ سگریٹ پینے کی عادت پر تشویش کا اظہار کر تا۔میں ہمیشہ یہی سمجھتا کہ جواد نظیر صاحب اپنی ’’چین سموکنگ‘‘ کو جواز دینے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ سگریٹ نہیں پئیں گے تو زندہ نہیں رہ پا ئیں گے،مگر میرا سمجھنا غلط تھا اور جواد نظیر صا حب درست کہتے تھے، 29ستمبر کو ان کے انتقال سے تین ، چارروز پہلے انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اب وہ چائے اور سگریٹ کا استعمال چھوڑنے والے ہیں،مگر جواد نظیر صاحب شاید اپنا پرانادعوی ٰ بھول گئے تھے کہ سگریٹ نہیں، تو وہ بھی نہیں ایسا ہی ہوا 29ستمبر بروز ہفتہ جیو نیوز کے ’’ ایگزیگٹو ڈاریکٹر نیوز اینڈ کرنٹ افےئرز ‘‘ جواد نظیر صاحب61سال کی عمر میں ا چانک ہی زندگی کی یہ جنگ ہا ر گئے۔ 2012میں کراچی’’ جیو‘‘ آفس سے لا ہور شفٹ ہونے کے بعد بہت کم دن ہی ایسے ہوں گے کہ جب آواز بلڈنگ میں قائم’’ جیو نیوز‘‘ کے دفتر کی تیسری منزل پر جواد نظیر صاحب کی بیٹھک نہ لگی ہو۔دفتر آنے کے بعد کام کے با قا عدہ آغاز سے پہلے جواد صاحب تیسری منزل کے استقبالیہ سے ملحق کمرے میں سگریٹ اور چائے پینے کے لئے آتے تو دفتر میں موجود لوگ انکی صحبت سے فیض حا صل کرنے کے لئے ان کے ارد گرد بیٹھ جا تے۔ظاہر ہے میں بھی کیسے اپنے آپ کو جواد نظیر جیسے وسیع مطالعہ، علم و ادب کے رسیااور مکمل طور پر منطقی ذہن رکھنے والے شخص کی صحبت سے بچا سکتا تھا۔ جس روز کا م کا زیا دہ دبا و نہ ہو تا تو میں بھی جواد نظیر کی سنگت میں بیٹھ جا تا ۔شاید ہی کوئی ایسا موضوع ہو جس پر جواد نظیر صاحب کا اپنا مخصوص نقطہ نظر نہ ہو، سیاسی حالات، سیاسی راہنما، ملکی صورت حال، ادب، کتا بیں، شعر و شاعری ، تا ریخ، کرکٹ، عالمی صورت حال شاید ہی کو ئی ایسا مو ضوع ہو تا ہو جس پر جواد نظیر صاحب کی ان محفلوں میں با ت چیت نہ ہو تی ہو۔اپنے موقف کو انتہائی پر زور، بے لاگ اور کھرے انداز میں پیش کر نے کے بعد اگر کوئی ان کے موقف سے اختلاف کی جر ات کر تا تو جواد صاحب اپنے موقف کو مزید جارحانہ ،مگر منطقی انداز سے پیش کرتے۔کبھی کبھار تو وہ اپنے موقف کو اتنے زیا دہ جوشیلے انداز میں پیش کرتے کہ ان کو دیکھ کرہم لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر زیر لب مسکراتے اور ان کے ’’ جوش خطابت‘‘ سے مزید لطف اندوز ہوتے۔عبدالرؤف، رئیس انصاری سمیت جیو نیوز میں کام کر نے والے پروڈیوسرز، ریسر چرز، رپورٹرزجواد نظیر صاحب کی ان محفلوں کا حصہ بنتے، بلکہ کبھی کبھار جب سہیل وڑائچ اور افتخار احمد بھی ’’ جیو‘‘ کے دفتر آتے تو وہ بھی جواد صاحب کی سنگت سے لطف اندوز ہوتے۔حتیٰ کہ حامد میربھی جب اسلام آباد سے آتے تو وہ بھی جواد نظیر صاحب کے ساتھ کچھ وقت گزارتے۔جواد نظیر صاحب کی ان محفلوں کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ یہاں پر صرف سیاست ، فلسفہ یا عالمی امور جیسے خشک مو ضو عات پر ہی با ت ہو تی، بلکہ ہلکے پھلکے موضوعات اور بعض مرتبہ ایسی گفتگو بھی ہو تی جس کو شاید ہما رے مخصوص قدامت پسندانہ ما حول میں ’’مہذب ‘‘ نہ سمجھا جا تا ہو۔ خاص طور پر جواد نظیر صاحب کے پاس ’’ سکھوں ‘‘ کے لطا ئف کا ایسا ذخیرہ تھا جو ختم ہونے ہی میں نہ آتا تھا۔کبھی کبھار کسی خشک مو ضوع پر کوئی بات ہو رہی ہوتی تو درمیان میں جواد نظیرصا حب اپنے موقف کی مزید وضاحت کے لئے سکھوں کا کو ئی لطیفہ سنا کر سب کو ہنسے پر مجبور کر دیتے۔

جواد نظیر صاحب کا صحافتی کیرئیر تیس سال سے زیادہ کے عرصے پر محیط تھا۔اس عرصے کے دوران وہ کئی بڑے اخبارات میں’’ ایڈیٹر‘‘ جیسے اہم عہدے پر بھی فائز رہے۔ بطور ایڈیٹر ان کا کمال یہ ما نا جا تا کہ وہ خبر کے الفاظ میں سیا سی نظریات شامل کر کے اس کو با قاعدہ ایک زاویہ دے دیتے تھے۔ جواد نظیر صاحب کا شمار ایسے صحافیوں میں ہو تا تھاجن کو اپنا لوہا منوانے کے لئے ڈگریوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔یہی وجہ ہے کہ واجبی سے تعلیمی کیر ئیر کے با وجود جواد نظیر صاحب نے صحا فت میں اپنا لوہا منوایا اور ثابت کیا کہ علم کے لئے یونی ورسٹیوں کی اعلیٰ ڈگریاں ہی کا فی نہیں ہوتیں۔علم کا کون سا ایسا موضوع تھا جس پر جواد نظیر صاحب کی گہری نظر نہ ہو۔ کلا سیکی ادب، جدید ادب، شعر و شاعری، تاریخ، فلسفہ ، سیاسیا ت کے نظریات پر جواد نظیر صاحب کا علم قابل رشک تھا۔

کتا بوں کے نہ صرف عا شق تھے، بلکہ ہم جیسے شاگردوں کی اس حوالے سے راہنمائی بھی کرتے رہتے۔جواد نظیر صاحب نے اپنے اس شاگرد کی بھی کتا بوں کے حوالے سے بہت راہنما ئی کی۔ غالباٰٰ یہ اگست 2016کی بات ہو گی ایک مر تبہ ان سے بھارتی سیاست پر بات ہو رہی تھی تو بولے’’ عمر ، جدیدبھارتی سیاست کو سمجھنے کے لئے Josy Josephکی تازہ کتاب A Feast of Vulturesکا مطا لعہ بہت ضر وری ہے ‘‘۔میں بولا ’’ ٹھیک ہے سر ، میں اس کتاب کو ضرور پڑھوں گا‘‘ میں نے کتا بوں کی ہر بڑی دکان پر اس کتاب کو تلاش کیا، مگر مجھے یہ کتاب نہ ملی۔ میں نے جواد نظیر کو ان کے کمرے میں جا کر بتایاکہ ’’ جواد صاحب یہ کتا ب تو ابھی پا کستان میں نہیں آئی‘‘انہوں نے کمپیوٹر پر اپنے کام کو جا ری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ اچھا، چلو کچھ کرتے ہیں‘‘ یہ سننے کے بعد بات آئی گئی ہوگئی۔ چند ہی روز بعد میں دفتر میں اپنے کمرے میں کام کررہا تھا کہ جواد نظیر صاحب تشریف لائے انہوں نے اپنے ہا تھ سے کتاب بلند کرتے ہوئے کہا کہ ’’ عمر، ہن گل کر‘‘ ( عمر ، اب بات کرو)۔

میں نے ان کے ہاتھ سے کتاب لیکر دیکھی تو یہ وہی Josy Josephکی کتاب A Feast of Vulturesہی تھی ۔ میں نے حیر ت سے پو چھا کہ ’’ سر، آپ کو یہ کتاب کیسے ملی‘‘ جواد صاحب نے بتا یا کہ’’ یہ کتا ب میں نے انڈیا میں اپنے ایک دوست سے منگوالی ہے۔ تم اب اس کتاب کو پڑھو اور اس پر تبصرہ بھی لکھو‘‘۔ اب ان کے انتقال کے بعد ان کی دی گئی یہ کتاب مجھے ان کی یاد دلاتی رہے گی۔میں اپنے کالم، آرٹیکل اور مضامین کے لئے بھی کبھی کبھار ان سے راہنما ئی لے لیتا۔ اپنے کالم کا موضوع طے کرنے کے بعد اگر مجھے اندازہ ہو تا کہ جواد صاحب اس با رے میں اچھی راہنما ئی کر سکتے ہیں تو میں ضرور ان سے راہنما ئی لیتا اور پھر کالم شا ئع ہونے کے بعد خود ان کے پاس بیٹھ کر ان کو یہ کالم پڑھواتا۔وہ کئی مرتبہ میر ا کالم دیکھنے کے بعد کہتے ’’ عمر، کالم کا مطلب یہ نہیں کہ صرف اپنی علمیت کو ثابت کیا جائے، کالم کو سادہ اور ذرا conversational toneمیں لکھا کرو‘‘۔

جواد نظیر صاحب سے راہنمائی صرف کتابوں اور کالمز تک ہی محدود نہیں تھی، بلکہ دفتری اور بعض ذاتی کاموں میں بھی اگر ضرورت سمجھتا تو انکی راہنما ئی لینے کے لئے بلا دھڑک ان کے کمرے میں چلا جا تا اور ان سے کہتا کہ سر مجھے اس، اس معا ملے میں آپ کی راہنما ئی چا ہیے وہ ایک لمحے کے لئے مجھے دیکھتے پھر اپنی سگریٹ کی ڈبی اور لا ئٹر کو میز سے اٹھا تے اور کہتے کہ با ہر آجاو۔ باہر استقبالیہ کے ملحق کمرے میں بیٹھ کر سیگریٹ سلگاتے اور بیان کئے گئے مسئلے پر اپنے دانشمندانہ مشوروں سے نوازتے۔یہ سب با تیں لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ کئی درجن، بلکہ شاید سینکٹروں افراد نے جواد نظیر صاحب سے بہت کچھ سیکھا ہو گا اورمیں بھی ان خوش قسمت افراد میں شامل ہو ں جن کو ان کا شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔جواد نظیر صاحب اپنی نوجوانی میں انقلابی اور کا فی حد تک با ئیں بازو کی طرف رجحان رکھتے تھے،مگر زندگی کی دوڑ دھوپ اور روٹی روزی کے چکرمیں پھنس کر وہ عملیت پسند ہو نے لگے۔اس کے با وجود جواد صاحب سرمایہ دا ری نظام کی بے رحمی اورسفاکی کوبہت اچھی طرح سے سمجھتے تھے۔گزشتہ کئی ماہ سے ان کو اندازہ ہو رہا تھا کہ شاید انکی نوکری بر قرار نہ رہ سکے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اپنی وفات سے پہلے وہ ہر کسی سے نا راض ،نا راض سے رہنے لگے۔

استقبالیہ سے ملحق کمرے میں بیٹھ کر سگریٹ پر سگریٹ پیتے اور اپنے مو بائل فون پر گیمز کھیلتے رہتے۔کہتے ’’پتہ نہیں کیا وجہ ہے کہ اب مطا لعہ میں بھی دل نہیں لگتا‘‘۔شاید نوکری کی پریشانی ہی ان کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔ حیرت ہے کہ سرمایہ داری نظام کو اچھی طرح سمجھنے اوراس حقیقت کو جاننے کے با وجود کہ کا رپوریٹ سیکٹر میں چھوٹے سے لیکربڑے عہدوں پر کام کرنے والوں کی مثال اس مرغی کی سی ہوتی ہے جو جب تک انڈے دیتی رہے تو مالک اسے خوب دانے دیتا ہے اور جب مالک کا دل چاہے تو اس مرغی کو ذبح کر دیتاہے اس حقیقت کو سمجھے کے با وجودجواد صاحب نے نوکری کا دکھ کیوں پالا؟۔ جواد نظیر صاحب کے پاس اس سرمایہ داری نظام کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنا علم، صلاحتیں اور اہلیت ہی تو تھی۔ وہ صحافت کے اس مقام تک پہنچ چکے تھے کہ وہ کسی سیاسی جما عت یا ادارے کی لائن ’’ٹو‘‘ کر کے آسانی کے ساتھ کوئی بڑا فارم ہا ؤس یا عالی شان گھر ’’حاصل‘‘ کر سکتے تھے، مگر اس ایما ندار انسان نے سرمایہ داری نظام کے اس بازار میں اپنا سودا نہیں کیا۔جواد نظیر جسمانی طور پر اب ہم میں نہیں ہیں، مگر مجھ سمیت وہ اپنے مداحوں اور شاگردوں کے لئے ’’ پا نچویں درویش‘‘ کی صورت میں زندہ رہیں گے کیونکہ ہم اس ’’ پا نچویں درویش ‘‘ کی سکھائی ہوئی با توں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

مزید : رائے /کالم