برداشت اور تحمل کہاں؟

برداشت اور تحمل کہاں؟
برداشت اور تحمل کہاں؟

  

پاکستان کی70فیصد سے زیادہ آبادی دیہی ہے۔اگرچہ دیہات سے آبادی کی شہروں کو منتقلی مسلسل جاری ہے،اس کی بنیادی وجہ روزگار ہے کہ دیہات میں اب کھیت مزدور کے لئے بھی روزگار تنگ ہو چکا ہے، کہ زرعی آلات اور زرعی مشینری کے استعمال کی وجہ سے اب افرادی قوت کی ضرورت کم ہو گئی ہے، چنانچہ کھیت مزدور روٹی روزگار کے لئے شہروں کا رُخ کرتے ہیں،ان کی آمد کے باعث دیہی اور شہری معاشرت میں بھی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں، دیہات سے شہروں میں آ بسنے والے زیادہ تر اَن پڑھ ہوتے ہیں،جو مزدوری کے لئے تگ و دو کر کے کئی کام کرتے ہیں، ان میں جن حضرات کے عزیز پہلے سے شہروں میں موجود ہوتے ہیں،نئے آنے والے انہی کے تعاون سے روزگار بھی ڈھونڈھتے ہیں۔یوں شہروں میں ریڑھیوں، گدھا گاڑیوں اور چنگ چی کا بھی دباؤ بڑھ چکا ہے۔

یہ گزارش تو احوال واقعی کے لئے کی ہے اگرچہ بات کرنا ہے، عدم برداشت کے کلچر کی جو بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اور یہ اب سیاست میں دشمنی کی حد تک جا پہنچا ہے کہ آبادی میں مقامی اور دیہی آبادی کے تناسب میں فرق آ چکا ہے۔جنرل(ر) پرویز مشرف کی حکومت اور ان کی تنزلی سے اب تک انتخابی ماحول یکسر تبدیل ہو چکا ہے، مسلم لیگ (ق) اور پیپلزپارٹی پیٹریاٹ کے بعد اب مشرف با تحریک انصاف ہونے کے سلسلے کی وجہ سے بھی تناؤ ہے،اگر ہم لاہور کی بات کریں تو یہاں محلے داری اور رواداری کا احساس رہتا تھا،حتیٰ کہ فیلڈ مارشل ایوب کی بنیادی جمہوریت کے انتخابات نے بھی اسے زیادہ متاثر نہیں کیا تھا۔اگرچہ ابتدا وہاں سے ہوئی کہ حلقے بہت چھوٹے اور امیدوار بڑھ گئے تھے،چنانچہ 1962ء کے آئین کے نفاذ کے بعد جو انتخابات کرائے گئے ان کے دوران گلی محلوں میں جھگڑے ہوئے تاہم اس وقت علاقائی معاشرت اتنی زیادہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوئی تھی،اِس لئے یہ قابو سے باہر نہ ہوئے، اور جھگڑے ہوئے تو نمٹنا بھی دیئے گئے،لیکن دور پرویز مشرف میں یہ بعد زیادہ بڑھا اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے رجحان میں کمی آئی جو بڑھتی رہی۔2013ء کے انتخابات میں حالات اتنے زیادہ سنگین نہ ہوئے جو اب نظر آ رہے ہیں،اگر ذرا غور فرمائیں تو مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے میثاق جمہوریت نے بھی وہ اثرات مرتب نہیں کئے،جن کی توقع پر یہ معاہدہ ہوا،ہمارے خیال میں اس کی ایک وجہ محترم نوابزادہ نصر اللہ کا انتقال اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت بھی تھی،کہ مصالحت کنندہ بزرگ اور زیرک خاتون کے دُنیا سے چلے جانے کے بعد ان جماعتوں کے درمیان بھی بتدریج تناؤ پیدا ہو گیا اور میثاق جمہوریت کہیں پیچھے رہ گیا۔

یہ تناؤ جاری تھا کہ تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنوں اور پھر دھرنوں کے اشتراک نے بھی مختلف کیفیت پیدا کی۔ اسی دوران سوشل میڈیا کا استعمال بھی بڑھ گیا اور محاذ آرائی جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے شروع ہو گئی اور حالات کہیں کے کہیں چلے گئے۔

یہ تناؤ اور کشیدگی اب بھی موجود اور اس کی شدت میں بھی کمی محسوس نہیں کی جا رہی،تحریک انصاف اقتدار میں آ چکی۔یہ مخلوط اقتدار ہے اگرچہ ان کو جو حضرات پیش کئے گئے ہیں وہ کوئی لیگ یا پیٹریاٹ کی طرح گروپ نہیں تھے اور آزاد اراکین سمیت دیگر حضرات کو براہِ راست جماعت میں شامل کرایا گیا۔اس سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اکثریت کا تاثر اُبھرتا اور دباؤ نہ رہتا،لیکن پنجاب اور وفاق کی کابیناؤں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دباؤ ہٹا نہیں، موجود ہے کوئی مانے یا نہ مانے یہ اس کی مرضی۔یہ تو اپنی جگہ،اب اسی ماہ ضمنی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور جتنی نشستوں پر ہو رہے ہیں اس کے باعث ایک منی الیکشن کا سماں بن گیا۔ضابطہ اخلاق،قانون اور قواعد ہونے کے باوجود کشیدگی موجود ہے اور اسی کے نتیجے میں حلقہ این اے 131 میں انتخابی مہم کے دوران تصادم ہو گیا، سر پھٹول کے بعد بات تھانے تک پہنچ گئی۔یہ رجحان اچھا نہیں اور اثرات دوسرے حلقوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ عدم برداشت والی بات ہے تو مجموعی طور پر ابھی تک تحریک انصاف بھی اپنے پرانے خول سے باہر نہیں آئی اور حکومت میں ہوتے ہوئے ان حضرات کا انداز اور رویہ حزب اختلاف جیسا ہے، خصوصی طور پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بہت شہرت اور اہمیت حاصل کی ہے کہ ان کا انداز آج بھی حزبِ اختلاف جیسا ہے۔اگرچہ اتنی اہم وزارت پر ہوتے ہوئے ان کے لہجے میں نرمی آ جانا چاہئے تھی،ہمیں ان کی طرف سے الزام لگانے پر اعتراض نہیں یہ ان کی اپنی سیاست ہے کہ دوسری طرف سے بھی ایسا ہوتا ہے،لیکن اِس حوالے سے ہنگامہ آرائی درست نہیں کہ اس سے کشیدگی بڑھتی ہے جو قطعاً مفید نہیں ہے۔ہر بات کہی جا سکتی ہے، فرق صرف انداز کا ہے اگر ایجی ٹیشن والے انداز میں کریں گے تو غلط ماحول پیدا ہو گا۔اگر یہی باتیں پارلیمانی جمہوریت کے انداز میں بہتر الفاظ اور نرم لہجے میں کہی جائیں تو جھگڑے کی نوبت نہیں آتی،ہماری بھی یہ رائے ہے اور گزارش بھی ہے کہ ایسا ماحول پیدا کریں جس میں دلائل سے بات کی اور سنی جائے،انتخابی جھگڑوں کے نتائج کچھ اچھے نہیں ہوتے۔ یہ تسلیم کہ مشاہد اللہ خان کا ٹریک ریکارڈ بھی اِس حوالے سے بہتر نہیں،لیکن فواد چودھری کو تو کچھ خیال کرنا ہو گا کہ ان کا تعلق ایک سیاسی خاندان سے ہے اور اللہ نے ان کو اب موقع بھی دیا ہے،ان کو اپنے اندر لیڈر شپ جیسا جذبہ پیدا کرنے کا ارادہ کرنا چاہئے کہ کبھی مشتعل نہیں ہوں گے اس سے سیاسی عمل کو نقصان پہنچتا ہے۔ اسی طرح نچلی سطح پر بھی ایسے ماحول کی اشد ضرورت ہے،جو اخلاق والا اور پُرسکون ہو۔

مزید : رائے /کالم