ہر تیر کا ہدف عمران خان کیوں؟

ہر تیر کا ہدف عمران خان کیوں؟
ہر تیر کا ہدف عمران خان کیوں؟

  

کہیں پتہ بھی گرتا ہے تو الزام عمران خان پر آتا ہے۔تحریک انصاف کا کوئی چوتھے پانچویں درجے کا عہدیدار بھی کسی تھانے یا دفتر میں جا کے دھونس جماتا ہے تو نزلہ عمران خان پر گرایا جاتا ہے کہ یہ ہے عمران خان کا وہ نیا پاکستان جس کا بہت ڈھنڈورا پیٹا گیا ہے۔لاہور میں میاں محمود الرشید کے بیٹے کی تھانے میں ہلڑ بازی کا کیس بنا تو ساری انگلیاں عمران خان کی طرف اُٹھ گئیں، پہلی بار ایسا وزیراعظم لوگوں کے ہاتھ آیا ہے جس پر ہر الزام تھونپا جا سکتا ہے۔اُدھر بلاول بھٹو زرداری سے لے کر میاں شہباز شریف تک سبھی اپنی توپوں کا رُخ بھی عمران خان کی طرف کئے ہوئے ہیں۔کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ عمران خان نے ہر طرف رونق لگا دی ہے، کسی کو چھینک بھی آ جائے تو اُس کی ذمہ داری نئے پاکستان پر ڈال رہا ہے اور نئے پاکستان سے یہ ذمہ داری عمران خان پر آ جاتی ہے۔ایک بری معیشت کے ہوتے نئی حکومت فوراً حالات کیسے بدل سکتی ہے، خزانہ خالی ہی نہیں، بلکہ قرضوں کا اتنا بوجھ ہے کہ سود دینے کے لئے بھی پیسے نہیں،اپوزیشن نے یہ کہا تھا کہ نئی حکومت کو چلنے دے گی،وقت دیا جائے گا،مگر اب تو لگ رہا ہے کہ بے صبری حد سے بڑھ گئی ہے۔ بس یہی خواہش ہے کہ کسی طرح موجودہ حکومت ناکام ہو کر گھر چلی جائے اور پھر وہی سیاسی عدم استحکام ملک کو اپنی لپیٹ میں لے، جس سے ہم بڑی مشکل سے نکل کر آئے ہیں۔

مجھے بھی اچھا نہیں لگ ر ہا کہ حکومت منی بجٹ پیش کر رہی ہے، گیس کی قیمتیں بڑھا چکی ہے، بجلی کی قیمتیں بڑھانے کے لئے پَر تول رہی ہے، مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے،غریب طبقہ پس رہا ہے،پہلے سے زیادہ مشکل معاشی حالات ہوتے جا رہے ہیں،مگر اس کا حل کیا ہے؟ اگر سخت فیصلے نہ کئے جائیں تو ملک دیوالیہ ہو جائے،کیا یہ رسک لیا جا سکتا ہے؟میری بھی خواہش تو یہی تھی کہ عمران خان وزیراعظم بنتے ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیتے،ہر شخص کی آمدنی میں اضافہ ہو جاتا، تیل،بجلی اور گیس کی قیمتیں کم ہو جاتیں۔یہی خواہشات اور ارادے وزیراعظم عمران خان کے بھی تھے جب وہ انتخابی مہم چلا رہے تھے،گھر کے باہر سے حالات کو دیکھنا اور ہوتا ہے اور گھر کے اندر آ کر صورتِ حال مختلف ہو جاتی ہے۔ عمران خان بھی اقتدار میں آئے ہیں تو انہیں اندازہ ہوا ہو گا کہ حالات کس قدر خراب ہیں۔دودھ اور شہد کی نہریں تو کجا یہاں تو دو وقت کی روٹی فراہم کرنے کے لالے پڑے ہوئے ہیں،غصہ مجھے بھی بہت آتا ہے کہ مَیں نے کیا اس دن کے لئے عمران خان کو ووٹ دیا تھا کہ وہ مجھ پر ٹیکسوں کا نیا بوجھ لاد دیں۔گیس کو بے تحاشا مہنگا کر دیں۔کوئی ریلیف نہ دیں، تاہم پھر یہ سوچ جنم لیتی ہے کہ عمران خان کو کیا پڑی ہے کہ اپنی اچھی خاصی مقبولیت کو اِس طرح داؤ پر لگائیں؟کیوں ایسے فیصلے کر رہے ہیں،جو اُنہیں غیر مقبول بنا رہے ہیں، گھوم پھر کے یہی جواب ذہن میں آتا ہے کہ حکومت ایک جال میں پھنس گئی ہے، جس سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ اپوزیشن کو بھی اس بات کا علم ہے کہ حالات ساز گار نہیں، مگر پاکستان میں چونکہ اپوزیشن کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ حکومت کے پاؤں اُکھاڑے جائیں، اِس لئے یہ راستہ کوئی نہیں بتا رہا کہ ملک جس معاشی گرداب میں گھرا ہوا ہے، اس سے نکلنے کا آخر راستہ کیا ہے؟ اگر حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے کا اشارہ دیتی ہے تو اُس پر تنقید کے نشتر چلائے جاتے ہیں، ٹیکس لگا کر خسارہ پورا کرنے کی راہ اختیار کرتی ہے تو اُسے عوام دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ سی پیک کے حوالے سے سعودی عرب سے معاہدہ کرتی ہے تو گردن زدنی ٹھہرتی ہے۔ گیس مہنگی کرے تو غریب دشمنی کے طعنے سنتی ہے، آخر فی الوقت شارٹ ٹائم حل کیا ہے کہ معیشت سنبھل جائے اور ملک دوبارہ معاشی خوشحالی کی پٹڑی پر چڑھ جائے۔

ہونا تو یہی چاہئے کہ حکومت نئے ٹیکس اہداف سیٹ کرے، مرے کو مارے شاہ مدار کی طرح پہلے سے موجود ٹیکس گزاروں پر بوجھ نہ ڈالے۔ نہ ہی بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے عوام کا لہونچوڑے، ملک میں جو اربوں روپے کمانے والے طبقے ہیں، اُنہیں ٹیکس نیٹ میں لائے، تاجروں کی بلیک میلنگ کا شکار ہونے کی بجائے ایک بار تو پورے عزم کے ساتھ اُنہیں ٹیکس دینے پر عبور کرے۔ اکثر تاجروں کی آمدنی ماہانہ لاکھوں کیا کروڑوں روپے ہے، مگر وہ ایک دھیلہ ٹیکس نہیں دیتے۔ اسی طرح پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے سینئر ڈاکٹرز روزانہ دس سے بارہ لاکھ روپے کماتے ہیں، لیکن ٹیکس صرف اپنی اُس تنخواہ پر دیتے ہیں، جو انہیں سرکار سے ملتی ہے، یہ ایف بی آر تو سوائے ٹیکس چوری کرانے کے اور کچھ کرتا ہی نہیں ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اگلے دن بہت صحیح کہا ہے کہ ایف بی آر ٹیکس چوروں کے خلاف خود کارروائی نہیں کرتا، بلکہ اُن کے کیسز عدالتوں میں بھیج کر خود بھول جاتا ہے۔ ایف بی آر کو اب ہر طرح کی ٹیکنالوجی کا تعاون میسر ہے،ہر شخص کے کاروبار، اثاثوں اور مالی معلومات تک اُسے رسائی حاصل ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ وہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے سے قاصر ہے، پچھلے دِنوں وزیر خزانہ نے یہ نوید سنائی کہ نان فائیلرز کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ پھر یہ خبر بھی اُٹھی کہ 96بڑے سرمایہ داروں کوجو نان فائیلرز ہیں، نوٹس بھیج دیئے گئے۔ اللہ کے بندو صرف 96یہاں تو 96لاکھ ایسے لوگ موجود ہیں،جن کے اثاثوں کی مالیت کروڑوں روپے میں ہے۔ لاہور کی کسی ایک بڑی مارکیٹ کے تاجروں کو لے لیں،ایک سے بڑھ کر ایک کروڑ، بلکہ ارب پتی نظر آئے گا، مگر جب آپ اُن کے ٹیکس گوشوارے دیکھنا چاہیں گے تو وہ ہوں گے ہی نہیں، اگر ہوں گے بھی تو اُن میں آمدن اتنی دکھائی گئی ہوگی، جو ٹیکس سے مستثنیٰ ہوتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کچھ نہ کچھ کرے گی، فی الحال اس نے جو قلیل مدتی فیصلے کئے ہیں، وہ صرف بحران سے نکلنے کے لئے ہیں، عمران خان خود اپنے انتخابی جلسوں میں کہہ چکے ہیں کہ 4ہزار ارب روپے سے ٹیکسوں کی آمدنی 8ہزار ارب روپے تک لے جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام ٹیکس گزاروں کی تعداد بڑھائے بغیر ممکن نہیں گویا اس طرف حکومت کو توجہ دینی پڑے گی، مگر عمران خان کو ہدف تنقید بنانے والے انہیں اتنا لمبا وقت دینے کو تیار نہیں وہ تو چاہتے ہیں کہ عمران خان عوام کو صرف ریلیف دیں، اُن پر بوجھ نہ ڈالیں، یہ سب کچھ تو پھر کسی الٰہ دین کے چراغ ہی سے ممکن ہے۔

اب تک کے حالات سے عمران خان اور اُن کی کابینہ کے ارکان کو اِس بات کا اندازہ ہوگیا ہوگا کہ سب کی نظریں صرف عمران خان پر جمی ہوئی ہیں۔ کوئی اچھا کام ہوتا ہے، تو اس کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے اور کوئی خرابی ہوتی ہے تو اُس کی ذمہ داری بھی اُن پر ڈالی جاتی ہے، چاہے اُس میں اُن کا کوئی ہاتھ ہو یا نہ ہو۔ سو اِس سے حکومتی وزیروں مشیروں کو اپنی اہمیت کا اندازہ ہو جانا چاہئے۔ بہتر تو یہی ہے کہ وہ ایسا کوئی کام نہ کریں، جس سے کپتان کو زیربار ہونا پڑے۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری غالباً اس پہلو پر توجہ نہیں دے رہے، وہ خواہ مخواہ ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،جو کسی بھی طرح تحریک انصاف کے لئے سود مند نہیں، مثلاً انہیں بار بار یہ بڑھک مارنے کی کیا ضرورت ہے کہ ڈاکو کو ڈاکو نہ کہوں تو اور کیا کہوں؟ اِس سے کون سا مسئلہ حل ہو سکتا ہے یا سیاسی طور پر تحریک انصاف کیا فائدہ حاصل کر سکتی ہے۔ ایک بار قومی اسمبلی کا ماحول خراب ہوا اور دوسری بار سینیٹ کا، وہ کام جو بڑے سہل اور پُرامن انداز میں ہونا چاہئے، اگر آپ اُسے انتشار پھیلا کر کرنا چاہیں گے تو نقصان اپوزیشن کا نہیں حکومتی بینچوں کا ہوگا۔ حیرت ہے کہ ابھی تک کپتان نے فواد چودھری کے اس رویئے کا نوٹس نہیں لیا۔

حکومت کی حتی الامکان یہ کوشش ہوتی ہے کہ کام رولز آف بزنس کے مطابق چلتا رہے۔ رکاوٹ آئے تو حکومت کو مشکل پیش آتی ہے، جس دن سینیٹ میں منی بجٹ پیش ہونا تھا،اُسی دن فواد چودھری نے سینیٹ میں آ کر ہنگامے کی فضا پیدا کر دی۔ اپوزیشن نے معافی مانگنے تک بائیکاٹ کیا اور معافی مانگنے کے بعد جب دوبارہ تقریر اُسی انداز میں کرنے کی کوشش کی تو اپوزیشن نے ہنگامہ کھڑا کر دیا، جس کے باعث چیئرمین سینیٹ کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا اور وہ منی مالیاتی بل جسے منظور ہو جانا چاہئے تھا، اگلے دن پر چلا گیا۔

عمران خان کی مقبولیت آج بھی پہلے دن کی طرح قائم ہے، مَیں اِس میں یہ اضافہ کردوں گا کہ عمران خان پر عوام کا یہ اعتماد بھی برقرار ہے کہ وہ بدعنوان نہیں ہیں۔ اُن کی حکومت میں جو پیسہ جمع ہوگا، وہ لوٹا نہیں جائے گا، وہ ایک ایک پیسے کی حفاظت کریں گے۔یہ بہت بڑی قوت ہے،جو اِس حکومت کے پاس موجود ہے، تاہم اس کے سہارے پانچ برس نہیں گزارے جاسکتے۔ اِس کے لئے عملی طور پر بہت کچھ کرکے دکھانا پڑے گا، میڈیا اور اپوزیشن حکومت کو کوئی رعائیت دینے کے لئے تیار نہیں، اِس لئے ہر قدم پھونک کر رکھنا ہوگا، یہ اُسی صورت میں ممکن ہے جب پوری ٹیم کپتان کے ویژن پر چلے اور اپنے ذاتی مفادات کی دوڑ میں نہ اُلجھ جائے۔

مزید : رائے /کالم