سیاسی میدان میں تیسرا کھلاڑی

سیاسی میدان میں تیسرا کھلاڑی
سیاسی میدان میں تیسرا کھلاڑی

  

ہمارے ہاں قومی سطح پر ایک طرح سے دو پارٹی سسٹم جڑ پکڑ چکا تھا۔ پاکستان مسلم لیگ وہ کبھی (ن) کبھی (ق) اور کبھی کچھ بن جاتی رہی ہے بہرحال وہ جوہری طور پر مسلم لیگ ہی رہی اور دوسری پاکستان پیپلزپارٹی۔اس کے بطن سے بھی پیٹریات گروپ نکل چکا ہے۔ ان کے علاوہ باقی پارٹیاں مثلاً اے این پی، ایم کیو ایم اور پشتون خوا ملی عوامی پارٹی وغیرہ ایک خاص علاقے اور کمیونٹی کی نمائندگی کرتی ہیں۔ انہوں نے کبھی قومی سطح پر سیاست کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ یہ کوئی حیرت کی بات بھی نہیں بلکہ دنیا کے بہت سارے ملکوں میں دو پارٹی سسٹم ہی چل رہا ہے مثلاً امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی ، برطانیہ اور کئی ملکوں میں بھی ایسا ہی ہے۔ ہمارے ہاں تقریباً چالیس سال پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے مسلم لیگ کو قومی سطح پر چیلنج کیا اور سٹیٹس کوکو توڑا ،یوں پاکستان پیپلزپارٹی وجود میں آئی ۔کافی عرصے سے اگرچہ یہ پارٹی زوال پذیر ہے تاہم وہ میدان میں موجود ہے۔ اب 22 سال کی جدوجہد کے بعد عمران خان نے سٹیٹس کوکو توڑا ہے اور پی ٹی آئی ایک تیسری قوت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ابھی وقت ہی بتائے گا کہ مستقبل میں یہ پارٹی کیا رنگ اختیار کرے گی اور خصوصاً اقتدار سے الگ ہو کر کس شکل میں اپنا وجود برقرار رکھ سکے گی۔

اس بات کا جائزہ لینا دلچسپی کا باعث ہو گا کہ ہماری سیاست میں تبدیلی کا یہ عمل کیوں کر ممکن ہوا۔ عام خیال تو یہی تھا کہ پیپلزپارٹی کے زوال کے بعد مسلم لیگ (ن) نے بہت گہرے قدم جما لئے ہیں اور اب انہیں کھیل سے باہر کرنا شاید کسی کے لئے ممکن نہ ہو لیکن یہ ہو چکا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے ’’غیبی امداد ‘‘کے علاوہ بھی کئی فیکٹرز ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی محترمہ بینظیر کی قیادت میں پہلی دو حکومتوں کی کارکردگی کوئی زیادہ اچھی نہیں رہی وہ کوئی ایسا ورثہ نہیں چھوڑ گئیں جس کا ہمارے معاشرے یا سیاست پر دیرپا اثر ہو۔ اگرچہ ایک خاتون کا اس زمانے میں حکمران بن جاناہی بڑی بات تھی ۔ محترمہ کو کئی Advantage حاصل تھے۔ ایک یہ کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی تھیں اور جو سلوک بھٹو کے ساتھ کیا گیا وہ ہمارے معاشرے نے ہضم نہیں کیا۔ اس کے علاوہ باپ کی وجہ سے ہی وہ عالمی سطح پر متعارف تھیں پھر یورپ کی تعلیم لہٰذا اُن کی شخصیت کا سحر تو کسی حد تک کام کر گیا لیکن وہ کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکیں بلکہ کرپشن کی شہرت سے اُن کا امیج داغدار ہو گیا لیکن اُن کی شہادت کے نتیجے میں اٹھے والی ہمدردی کی لہر نے پھر ایک دفعہ پیپلزپارٹی کو اقتدار سے ہمکنار کیا۔ یہ ایک موقع تھا کہ جناب آصف علی زرداری کچھ کام کر جاتے اور کرپشن کا داغ دھو دیتے اس سے ان کا ماضی پوری طرح صاف تو نہ ہوتا لیکن عوام کی اکثریت انہیں شاید شک کا فائدہ دے دیتی لیکن انہوں نے سیاسی جوڑ توڑ کرکے پانچ سال اپنی حکومت کوقائم رکھا لیکن ساتھ ہی اور کرپشن کا گراف بلند ترین سطح تک لے گئے نتیجہ یہ ہوا کہ انتخابات میں عام آدمی نے انہیں مسترد کر دیا اور وہ اقتدار سے باہر ہو گئے۔

پیپلزپارٹی کے آگے پیچھے اقتدار میں آنے والی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) کو بہت سارے Advantage حاصل تھے ایک تو اس پارٹی کی قیادت کا تعلق پنجاب سے تھا پھر حالات نے نوازشریف کو اینٹی بھٹو ووٹ کا وارث بھی بنا دیا تھا۔ اس کے علاوہ ہمارے منافقانہ معاشرے کے اصولوں کے مطابق شریف فیملی کو کسی حد تک قبول عام حاصل تھا ایک تو وہ نماز روزے کے پابند ہیں اور دوسرا بہت سی اونچ نیچ کے باوجود فیملی متحد ہے۔ یہ اُن کی بہت بڑی قوت ہے جس دن اُن کے خاندان میں دونوں بھائیوں نے اپنی راہیں جدا کیں اُس دن سے گویا اُن کا زوال شروع ہو جائے گا پھر کسی باہر کی طاقت کی ضرورت نہیں ہو گی ۔ ان باتوں کے علاوہ مسلم لیگ (ن) دراصل پاکستان اور خصوصاً پنجاب کی اشرافیہ پر مشتمل ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان سارے پلس پوائنٹس کے ہوتے ہوئے وہ کھیل سے باہر کس طرح ہوئی یہ مطالعہ دلچسپ ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ جب حکومت مسلسل ایک پارٹی یا پھر ایک خاندان کے قبضے میں رہے تو قدرتی بات ہے کہ اُس سے بہت سے لوگوں کو جائز یا ناجائز شکایات پیدا ہو جاتی ہیں اس صورت حال کو Incumbancy Factor کہا جاتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ جب کوئی پارٹی برسراقتدار ہوتی ہے تو ایک خاص طبقہ اُس کے قریب آ جاتا ہے اور اقتدار کے فوائد سے مستفید ہوتا ہے۔ مسلم لیگ سے آبادی کے ایک بڑے طبقے کو فائدہ پہنچتا رہا ہے اور اسی طبقے کا اطمینان قلب مسلم لیگ کے اقتدار کا ضامن رہا ہے۔ جمہوریت اور آمریت میں ایک بنیادی فرق یہی ہوتا ہے کہ آمریت کی صورت میں حکومت کا خوشہ چین طبقہ ذرا چھوٹا ہوتا ہے اور جمہوریت میں اقتدار کے ثمرات نسبتاً وسیع طبقے کو حاصل ہو جاتے ہیں لیکن ایک پارٹی کے مسلسل اقتدار میں رہنے سے ایک طبقہ بہرحال اقتدار سے باہر تھا اس طبقے کی بے چینی کو عمران خان نے کیش کیا۔

مسلسل اقتدار میں رہنے کی اور بھی کئی خرابیاں ہیں مثلاً حکمرانوں میں ضرورت سے زیادہ اعتماد پیدا ہو جاتا ہے جو بعض دفعہ تکبر کی حدوں کو چھو لیتا ہے ۔ پھر حکمرانوں میں ایک گونہ اطمینان سا بھی پیدا ہو جاتا ہے جو بعض دفعہ اس غلط فہمی کی شکل اختیار کر لیتا ہے کہ یہاں اُن سے بہتر یا اُن کا کوئی متبادل موجود نہیں اور یہ کہ انہوں نے ملکی مسائل پر قابوپا لیا ہے اور اُن کی پالیسیوں اور طرز حکومت کو عوامی حمایت حاصل ہے۔یعنی حکمران Initiative اور تحرک کی قوت سے محروم ہو جاتے ہیں یہی کچھ مسلم لیگ کے ساتھ ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ میاں نوازشریف نے اپنے آپ کو عقل کل سمجھ لیا تھا اور انہوں نے اپوزیشن اور میڈیا کی چیخ و پکاراور عام آدمی کی بے چینی کو بالکل اہمیت نہیں دی اور اپنی رفتار اور طریقہ کار پر اصرار جاری رکھا لہٰذا ان کی حکومت بہت سارے اچھے کام کرنے کے باوجود بُری طرح سٹیٹس کو کا تاثر دینے لگی۔ پنجاب میں شہباز شریف نے کافی کام کئے اور ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر کا امیج پیدا کرنے میں کامیاب رہے لیکن جاتی امرا کے اردگرد کہانیوں ، حمزہ شریف کا نائب وزیراعلیٰ کا تاثر اورمیگا پراجیکٹس کے گرد کرپشن کی سچی جھوٹی کہانیوں نے شہباز شریف کی حکمرانی کو بری طرح مجروح کیا اور پھر کرپشن کے نام پر زبردست تحریک چلائی گئی جس سے عام آدمی اس بات پر ایمان لے آیا کہ کرپشن اورشریف خاندان پاکستان کے تمام مسائل کی بنیاد ہیں۔کرپشن کے خلاف اس کام کا رخ تو شریف خاندان کی طرف مرکوز رکھا گیا کیونکہ اقتدار انہی سے چھننا تھا لیکن ماضی میں پیپلزپارٹی کی کرپشن کی کہانیوں سے بھی اس مہم کو تقویت حاصل ہوئی۔ اس ساری حکمت عملی میں عمران خان کی مستقل مزاجی اور جدوجہد کا بھی بڑا دخل تھا اور یوں تیسرے کھلاڑی کی انٹری ہو گئی۔

اب اس تبدیلی کے نتائج اور عرصے کے بارے میں قیاس آرائی خاصی مشکل ہے لیکن غور کریں تو مستقبل کی کچھ دھندلی سی تصویر دیکھی جا سکتی ہے۔ ’’تبدیلی‘‘ کا یہ دور پانچ سال چلے یا دس سال اس دوران بہت کچھ بدل جائے گا تاہم کچھ رحجانات باقی رہیں گے مثلاً وراثتی سیاست اور اقرباء پروری ، الیکٹ ایبل کا Phenomenon بھی کچھ عرصہ اور چلے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران کے بعد اگلا مقابلہ دو قدرے نوجوان کھلاڑیوں میں ہو گا وہ ہیں بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز۔میرٹ ، نظریے اور اُصول کی سیاست ابھی عرصے تک خواب ہی رہے گی۔

ہمیں عملیت پسندی پر ہی گزارہ کرنا ہو گا۔سیاست میں اداروں کی مداخلت کم ہو تی جائے گی۔ ایسا لگتا ہے کہ آئندہ مسلم لیگ سمیت کسی سیاسی پارٹی کو بہت زیادہ وقت نہیں ملے گا کیونکہ وقت کی رفتار کئی فیکٹرز کی بنا پر کچھ تیز ہو گئی ہے لہٰذا عمران خان کے لئے بھی وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔

مزید : رائے /کالم