گیٹز فارما کے پہلے پیپر لیس گرین کلینک کی افتتاحی تقریب

گیٹز فارما کے پہلے پیپر لیس گرین کلینک کی افتتاحی تقریب

لاہور(پ ر)گیٹز فارما نے آگمینٹ کےئر کی شراکت کے ساتھ اپنی نوعیت کا پہلا پیپر لیس(Paper Less) " گرین کلینک" شروع کر دیا ہے۔" ہیلتھ کےئر انڈسٹری میں ٹیکنالوجی کا استعمال صلاحیت کار، حفظان اور خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کا موقع پیش کرتا ہے۔الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈ کی ڈیجیٹائزنگ اور اس پر عمل درآمد ایک ایسا اطلاعاتی نظام وضع کرنے کی جانب پہلا قدم ہے جو مریضوں کے متعلق ڈیٹا کی محفوظ طریقے سے دیکھ بھال کرتا ہے اور پراسیس ایفی شینسی اور حفاظت کے معیار کو بہتر بناتا ہے" ۔ان خیالات کا اظہار گیٹز فارما کے مینجنگ ڈائریکٹراور سی ای او، خالد محمود نے دستخط کرنے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب کی مہمان خصوصی ،پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے خطاب کرتے ہوئے اس کاوش کی تعریف کی ۔انھوں نے کہا کہ " پاکستان میں صحت کا شعبہ کئی سال سے جدوجہد کر رہا ہے ۔

پاکستان میں صحت کی سہولتوں کی فراہمی کا نظام سرکاری اور غیر سرکاری حکام، دونوں کی طرف سے چلایا جا رہا ہے۔اگرچہ اس نظام کو بہتر بنانے کی متعدد کوششیں کی گئی ہیں مگر ہنوز یہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔اگر متعدد مریضوں کا تھوڑا سا بھی ڈیٹا مربوط ہو کر ایک جگہ اکٹھا ہو جائے تو ریسرچ کرنے والے اور ڈاکٹرز اس ڈیٹا میں پیٹرنز کو دیکھ سکتے ہیں اور پیش گوئی کرنے کے نئے طریقے وضع کرنے میں مدد دے سکتے ہیں یا مرض کی تشخیص کر سکتے ہیں اور کلینیکل کےئر کو بہتر بنانے کے طریقوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک قوم کی حیثیت سے کاغذ کے استعمال کو کم کرنے کی ذمہ داری سنبھالیں پوری دنیا میں صنعتیں پیپر لیس طریقے کی طرف بڑھ رہی ہیں اور اس ضمن میں گیٹز فارما اور آگمینٹ کےئر نے بہت بڑا قدم اٹھایا ہے" ۔

اس پراجیکٹ کا مقصد ملک میں صحت کی دیکھ بھال کے لیے ایک ماحول دوست سلوشن لانا ہے مگر یہ ایک شےئر ایبل پلیٹ فارم پر مریضوں کا ڈیٹا بھی فراہم کرے گا، دوا تجویز کرنے میں غلطی کے خطرے کو کم کرے گا اور رجسٹریشن کے عمل کو زیادہ بہتر بنائے گا۔

خالد محمود نے کہا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہیلتھ کےئر سروسز ہر جگہ پہنچیں اورہر ایک کو دستیاب ہوں اور یہی وہ مقصد ہے جو گیٹز فارما اپنی فرنچائز" گرین کلینک" کے ذریعے پیش کر رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ " ہمیں امید ہے کہ ہماری یہ چھوٹی سی کاوش اس پراجیکٹ کی حوصلہ افزائی کر کے اسے بہت بڑا بنا سکتی ہے تاکہ تشخیص کے وقت غلطی کا کم سے کم امکان ہو اور معیاری دیکھ بھال تک ہر کسی کی رسائی ہو" ۔

مزید : کامرس