سرحدچیمبر نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹیفیکیشن مسترد کردیا

سرحدچیمبر نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹیفیکیشن مسترد کردیا

پشاور (آن لائن )سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فیض محمد نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)کی جانب سے انڈسٹریل ٗ کمرشل اور گھریلو صارفین کے لئے گیس کی قیمتوں میں 10 سے 143 فیصد اضافہ کا نوٹیفیکیشن مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ خیبر پختونخوا 18فیصد ٗ سندھ 69 فیصد اور بلوچستان 4 فیصد گیس پیدا کرنیوالے صوبے ہیں اور ان صوبوں کے عوام اور بزنس کمیونٹی کے لئے گیس کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 158 کی خلاف ورزی اور 18 ویں ترمیم کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے ۔ حکومت فوری طور پر گیس کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹیفیکیشن واپس لے ۔ گیس کے نرخوں میں اضافہ کے حوالے سے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سرحد چیمبر کے صدر فیض محمد نے کہا کہ ملک بھر کی بزنس کمیونٹی ہمیشہ سے حکومتوں کی غیر دانشمندانہ بزنس فرینڈلی پالیسیوں کا رونا روتی رہی ہے اور اب تحریک انصاف کی حکومت نے آتے ہی ٹیکسوں کی شرح اور گیس قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے جس سے ملک بھر بالخصوص خیبر پختونخوا کی صنعتی ترقی متاثر ہوگی ۔

انہوں نے کہاکہ سی این جی سیکٹر کے لئے بھی گیس قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ کیاگیا ہے جس سے عام عوام متاثر ہوں گے۔فیض محمد نے کہا کہ گیس صنعتوں کا اہم خام مال ہے اس کی قیمتوں میں اضافہ مینو فیکچرنگ سیکٹر کی گروتھ روک دے گا ۔ انہوں نے کہاکہ سیمنٹ کے کارخانوں کے لئے 30فیصد جبکہ کمرشل سیکٹر اور کھاد سمیت دیگر کارخانوں کے لئے 40فیصد اضافہ کیاگیا ہے جبکہ گھریلو صارفین کے لئے سلیب 3سے 7کردیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت پہلے ہی زبوں حالی کا شکار ہے اور اب گیس قیمتوں میں 143 فیصد اضافہ سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی جبکہ سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ کا براہ راست اثر غریب عوام پر پڑے گا اور ملک میں مہنگائی اور بے روزگار کی شرح بڑھے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گیس کی پیداوار میں خود کفیل صوبوں کو فوری طور پر گیس کی قیمتوں میں اضافہ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 158 پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے اقتصادی پالیسیوں کی تشکیل اور بجلی ٗ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل سے قبل چیمبرز اور بزنس کمیونٹی سے مشاورت کا عمل یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

مزید : کامرس