امریکی حمایت کے بغیرسعودی حکمرانوں کا مستقبل

امریکی حمایت کے بغیرسعودی حکمرانوں کا مستقبل
امریکی حمایت کے بغیرسعودی حکمرانوں کا مستقبل

  

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز امریکی فوج کی حمایت کے بغیر 2ہفتے بھی اقتدار میں نہیں رہ سکتے ہیں، انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ بات انہوں نے سعودی بادشاہ کو بتا دی تھی کہ انہیں امریکہ کا ممنون ہونا چاہئے، جس کی فوج انہیں تحفظ فراہم کر رہی ہے۔انہوں نے کہا امریکہ اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لئے کثیر رقوم خرچ کررہا ہے، ہم نے اپنے امیر اتحادیوں کو تحفظ دینے کے لئے خاصی رقوم خرچ کی ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ وہ اس احسان کا بدلہ چکائیں اور اپنے دفاع کو مزید بہتر بنائیں۔ اس سے پہلے ٹرمپ جنوبی کوریا اور جاپان سمیت اپنے اتحادیوں کو بتا چکے ہیں کہ وہ اب اپنے تحفظ کا بارخود اٹھائیں۔

 

امریکی اتحادی پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، کچھ اپنی ضروریات کے تحت امریکہ کے ساتھ ہیں، کچھ ممالک امریکی شر کے ڈرسے اس کے اتحادی بننے پر مجبور ہیں، بہت کم ممالک ایسے ہیں، جو برابری کی بنیاد پر امریکی اتحادی ہیں، سرد جنگ کے دوران دنیا دو متحارب بلاکس میں بٹی ہوئی تھی، فکری و نظری طور پر کمیونسٹ ممالک ایک طرف اور آزاد معیشت کے پیروکار دوسرے بلاک میں تھے۔ امریکہ آزاد معیشت یا سرمایہ دارانہ نظام کا سرخیل تھا، سرمایہ دارانہ نظم معیشت والے ممالک امریکی اتحادی تھے، مسلمان ممالک کی اکثریت امریکی سرپرستی میں اینٹی کمیونسٹ بلاک کا حصہ تھی، اشتراکی نظم سیاست اور ریاست کے حامل ممالک سوویت یونین کی قیادت میں دوسرے کیمپ میں شامل تھے، اس بلاک میں زیادہ تر غیرمذہبی /لامذہبی اقوام شامل ہیں۔

 

اشتراکی نظام کیونکہ الہام اور الہامی رہنمائی کی نفی کرتا ہے، اس لئے کسی بھی مذہب کے لئے اس نظم سیاست و ریاست میں گنجائش نہیں نکلتی، یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر مسلم ممالک سوویت یونین اور اس کے قائم کردہ بلاک سے دور ہی رہے۔ اشتراکیت سے قبل روس میں آرتھو ڈکس عیسائیوں کا مرکز یہاں واقع تھا، سینٹ پیرز برگ کے نام سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں عیسائیوں کی رسائی تھی، عیسائیت پھل پھول رہی تھی، 1917ء کے بالشویک انقلاب اور پھر 1923ء میں اشتراکی ریاست کے قیام کے ساتھ ہی یہاں سے عیسائیت کا بھی صفایا کردیا گیا، مسلم ریاستیں اشتراکی نظم ریاست و سیاست میں گم کردی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب امریکی قیادت میں اشتراکی روس کے خلاف مورچہ لگایا گیا تو عیسائی اقوام بڑے مذہبی جذبے کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہوگئیں، مسلمان ممالک کے پاس بھی کوئی دوسرا آپشن موجود ہی نہیں تھا کہ وہ اسے اختیار کرسکیں، اس لئے وہ سب مل جل کر امریکی کیمپ میں شامل ہوگئے۔

اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ نظام کی جنگ، سردجنگ نصف صدی تک جاری رہی، اس ڈرامے کا آخری ایکٹ افغانستان میں ظہور پذیر ہوا۔ اس معرکے سے پہلے روس نے سرمایہ داری کے علمبردار امریکہ کو یولینڈ میں شکست دی تھی، یولینڈ اس وقت کے پوپ جان پال کا آبائی ملک تھا، انہوں نے یہاں اشتراکیت کو قدم جمانے سے روکنے کی مقدور بھر کاوشیں کیں، لیکن سوویت افواج نے یہاں بغاوت کو کچل کے رکھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب 1979ء میں اشتراکی افواج افغانستان پر حملہ آور ہوئیں اور امریکی صدر جمی کارٹرنے افغانستان کو بھولی بسری داستان قرار دیا تھا، لیکن پاکستانی جنرل ضیاء الحق کی کمٹمنٹ اور افغان قوم کی عظیم الشان جرأت کے باعث اشتراکی یہاں کامیاب نہیں ہوسکے۔

 

سوویت یونین کے خلاف اس آخری ایکٹ میں پورا عیسائی یورپ، افغان تحریک مزاحمت کا داعی اور معاون تھا۔ پوپ جان پال نے اس جنگ کو ’’شیطان کے خلاف جنگ‘‘ قرار دے کر پوری دنیا کے عیسائیوں کو افغانوں کی تحریک آزادی کی معاونت کا راستہ دکھایا، پھر تاریخ نے دیکھا کہ سوویت افواج یہاں سے بے نیل و مرام واپس لوٹ گئیں، سرمایہ داری، نظام پہلے برطانیہ پھر امریکی سربراہی اور سرکردگی عالمی قبضے کے لئے کوشاں رہاہے۔ 90کی دہائی میں سوویت یونین کی شکست کے بعد اسے عالمی غلبے کے لئے زیادہ کاوشیں نہیں کرنا پڑیں، اسی دور میں چین ایک ’’جن‘‘ اور ’’دیو‘‘ کی شکل میں سامنے آگیا اور امریکی عالمی غلبے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔

’’تہذیبوں کی جنگ‘‘ کے فلسفے کے تحت اہل حرم اقوام مغرب کی بندوقوں کی نوک پر ہیں، جنگ عظیم اول کے دوران خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کی سیاسی عظمت کو ختم کرنے کے بعد ان کی تہذیبی قوت کو بھی پامال کیا جانے لگا۔ مشرق وسطیٰ اور عالم عرب کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے عربوں کی قوت کو پارہ پارہ کردیا گیا، پھر عربوں کے سینے پر اسرائیل کو ایک خنجر کی طرح گاڑ دیا گیا، برطانیہ نے یروشلم مسلمانوں سے چھین کر اسرائیل کے حوالے کیا، امریکہ نے اسرائیل کی تعمیر و ترقی کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لے لی۔ دونوں ریاستیں یہ کام مذہبی جذبے کے تحت کرتی رہی ہیں، اسرائیل کا قیام اگر برطانوی عیسائی اسٹیبلشمنٹ کا کارنامہ ہے تو اس کی تعمیر و تقویت کا ذمہ امریکہ نے اٹھایا ہوا ہے، اسرائیل، امریکی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہے، اب گریٹر اسرائیل کی تعمیر کا سلسلہ بغیر کسی تکلف کے شروع ہوچکا ہے، امریکہ کا یروشلم کو ریاست اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور پھر وہاں اپنا سفارت خانہ قائم کرنا، اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اب تکلفات ختم ہوتے چلے جارہے ہیں، سازشوں سے پردے بھی اُٹھ رہے ہیں، امریکہ افغانستان میں بُری طرح پھنس چکا ہے، پاکستان کو مدد کے لئے پکار رہا ہے، لیکن پاکستان اس کی پکار نہیں سن رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان پر شکنجہ کسا جارہا ہے۔ پاکستان مشکلات میں گھرا ہوا ہے، اس کی اقتصادی مشکلات بڑھتی چلی جارہی ہیں، امریکہ جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے، سعودی عرب ہمارے ریسکیو کے لئے آگے بڑھ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے سعودی عرب کے خلاف تضحیک آمیز بیان داغ دیا ہے۔

 

سعودی عرب روز اول سے ہی امریکی حلیف ہے، ریجنل اور گلوبل ایشوز پر وہ امریکی پالیسیوں کا ساتھ دیتا ہے، حال ہی میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکہ کے ساتھ اربوں ڈالر کے اسلحہ کی خریداری کے معاہدے بھی کئے ہیں، امریکی پالیسی ہے کہ وہ توازن طاقت کو ہمیشہ اپنے حق میں رکھنے کے لئے دشمن تخلیق کرتارہتا ہے، کبھی عربوں کو ’’شیعہ ایران‘‘ دکھا کر ڈرایا جاتا ہے، پھر خلیجی جنگ شروع کردی جاتی ہے۔ امریکی اسلحہ خوب بکتا ہے، امریکی فرمیں تباہ حال خلیج کی تعمیر نو کے ذریعے خوب ڈالر کماتی ہیں۔ کبھی ’’صدام حسین‘‘ دکھا کر عربوں کو ڈرایا جاتا ہے، پھر دہشت گردی کے خاتمے کی نام نہاد جنگ شروع کرکے عربوں کے خزانے خالی کئے جاتے ہیں، اب عربوں کو ایران دکھا کر سنی عرب ریاستوں کو اربوں ڈالر کا اسلحہ بیچا جارہا ہے، سنی سعودی عرب کے خلاف شیعہ متحرک کئے جاچکے ہیں، جنگ بھی جاری ہے سعودی عرب کو پاکستان کی امداد کرنے سے باز رکھنے کے لئے دھمکایا جارہا ہے، اس میں تو کوئی نئی بات نہیں ہے کہ امریکی فوجیں سعودی عرب میں موجود ہیں،

 

یہ امریکی فوجی اڈے آج کل نہیں 25/30سال سے یہاں قائم ہیں، دفاعِ سعودی عرب کے نام پر امریکی یہاں پنجے گاڑھے ہوئے ہیں، ٹرمپ نے بیان دے کر کوئی نئی بات نہیں کی، بلکہ حقیت عیاں کر دی ہے کہ سعودی عرب کی دفاعی ذمہ داریاں امریکی افواج پوری کررہی ہے اور اگر امریکی فوجیں ہٹ جائیں تو ایران سعودی عرب کے لئے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ ہاؤس آف سعود کے اندر کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں شاہ سلمان کی حکومت گر بھی سکتی ہے، خطے میں جنگ کی ایک نئی آگ نہیں الاؤ بھڑکا سکتی ہے، توازن طاقت کے بگاڑ کے نتیجے میں خطے کا امن خراب ہوسکتا ہے، طاقت ور گروہ جنگ و جدل کی آگ بھڑ کا سکتے ہیں، جس سے امریکی مفادات کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، اس لئے ہمیں پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے، امریکی فوجیں بدستور سعودی عرب کی حفاظت کرتی رہیں گی، ہاؤس آف سعود قائم رہے گا، شاہ سلمان کی حکومت قائم و دائم رہے گی۔ معاملات یونہی آگے بڑھتے رہیں گے۔

مزید : رائے /کالم