پنجاب یونیورسٹی سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں نیشنل ایکشن پلان کے موضوع پر سیمینار

پنجاب یونیورسٹی سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں نیشنل ایکشن پلان کے موضوع پر ...

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ اور ادارہ برائے جمہوری تعلیم اینڈ ایڈوکیسی )آیڈیا(کے زیر اہتمام ’’نیشنل ایکشن پلان ،نوجوان اور یونیورسٹیوں کا کردار ‘‘کے موضوع پر سیمینار سے جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفی نے کہا ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ریاست او رحکومت کی جانب سے بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان وقت کی اشد ضرورت ہے ۔۔معروف صحافی افتخار احمد نے کہا کہ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی ایکشن پلان کے حوالے سے لوگوں میں نہ صرف معلومات فراہم کرے بلکہ رائے عامہ کی تشکیل میں بھی معاونت کرے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی رکن ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی نے کہا کہ انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے نوجوان نسل کو غیر نصابی سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کے مواقع دینا ہونگے ۔معروف فلم میکر سید نور نے کہا کہ انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم معاشرے میں آرٹ او رکلچر کو بنیاد بنا کر نئی نسل کو اس کی طرف راغب کریں صوبائی وزیر سمیع اللہ چوہدری نے کہا کہ حکومت کی ترجیح نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے ہے۔ہمیں ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام پیدا کرنا ہو گا،تجزیہ نگار سلمان عابد نے بھی خطاب کیا

او ر کوشش ہے کہ ہم تمام فریقین کو ساتھ ملا ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرسکیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1