انتقامی کارروائی ہے : ن لیگ ، طریقہ کار غلط ، پیپلز پارٹی ، جو بو یا وہ کاٹ رہے ہیں : پی ٹی آئی

انتقامی کارروائی ہے : ن لیگ ، طریقہ کار غلط ، پیپلز پارٹی ، جو بو یا وہ کاٹ رہے ...

ملتان(نیوز رپورٹر،سٹی رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی سربراہ میاں شہباز شریف کی آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتاری پر تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے مقامی رہنماؤں نے ملا جلا رد عمل دیا ہے تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے مطابق آج عدالتیں اور نیب سمیت دیگر انصاف فراہم کرنیوالے ادارے آزاد و خودمختیار ہیں اور ان کے فیصلوں پر ماضی کی طرح کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے مطابق میاں شہباز شریف کی گرفتار(بقیہ نمبر13صفحہ12پر )

ی کا طریقہ کار غلط ہے اس قسم کے اقدامات کی روایت نہیں پڑنی چاہیے پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی حاجی جاوید اختر انصاری اور ظہیر الدین خان علیزئی نے کہا کہ (ن)لیگ نے پنجاب میں پچھلے دس سالہ اقتدار میں جو بیجا ہے آج وہ کاٹ رہے ہیں پاکستان میں اب بلاتفریق کرپشن کیخلاف کارروائی جاری ہے لیگی رہنماؤں کو عدالتوں کا سامنا کرتے ہوئے چلانا نہیں چاہیے اگر وہ ملوث نہیں ہوں گے تو عدالتیں آج آزاد ہیں ٹیلی فون پر رابطے کرکے فیصلے نہیں دے رہیں۔عمران خان نے کرپشن فری پاکستان کا تحیہ کررکھا ہے تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی محمد ندیم قریشی اور ضلعی صدر اعجاز حسین جنجوعہ نے کہا ہے کہ یہ سب اپنے انجام کو پہنچیں گے ابھی تو آغاز ہے ،سب سے بڑا کیس ماڈل ٹاؤن کیس ہے جس میں بے گناہ نہتے شہریوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا تھا اور ان کے لواحقین آج بھی انصاف کیلئکے دھکے کھارہے ہیں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی گرفتاری سے قومی اداروں میں اعتماد بحال ہوگا نیب ایک خود مختار ادارہ ہے شہباز شریف کی گرفتاری کو سیاسی مسئلہ بناکر ہمدردی حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے اربوں روپے کے اخراجات کے باوجود عوام کو ایک بوند صاف پانی کی میسر نہیں ہوئی ابھی مزید گرفتاریاں ہونا باقی ہیں پیپلزپارٹی کے مقامی رہنما ڈویژنل نائب صدر خواجہ رضوان عالم،سابق رکن صوبائی اسمبلی نفیس احمد انصاری،عثمان بھٹی،ملک نسیم لابر نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا مؤقف ہے کہ احتساب سب کا کیا جائے تاہم اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری جس انداز میں کی گئی ہے وہ غیرمناسب ہے طریقہ کار غلط ہے اگر اس طرح کی راویت پڑ گئی تو اس سے جمہوری نظام کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے انہوں نے کہا کہ سپیکر کی اجازت کے بغیر گرفتاری اور پھر ایک روز قبل اس نوعیت کے اعلانات کرنا کہ بڑی بڑی گرفتاریاں عمل میں آنے والی ہیں ان بیانات نے شہباز شریف کی گرفتاری کو شکوک و شبہات میں دھکیل دیا ہے اگ رنیب کے پاس ثبوت تھے تو اسے پہلے آگاہ کرنا چاہیے تھا انہیں لایا کسی اور کیس میں ہے اور گرفتاری کسی اور کیس میں ڈال دی ہیے۔سابق وزیر اعلی پنجاب ، صدر پاکستان مسلم لیگ اور اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف کی نیب کی طرف سے گرفتاری پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور رہنماوں مختلف ردعمل کا اظہار کیا ہے ، بعض سیاسی رہنماوں نے اس فیصلے کو درست ، بعض نے عجلت کا فیصلہ ، اور بعض سیاسی رہنماوں نے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے ، روزنامہ پاکستان موبائل فورم میں گفتگو کرتے ہوئے جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہاکہ شہباز شریف ایک پارٹی کے سربراہ ہیں اور اس وقت ضمنی الیکشن قریب ہے ایسے وقت میں میاں شہباز کی گرفتاری سے کئی سیاسی پہلو سامنے آئیں گے ملک میں شفاف احتساب یقینی بنایا جائے مشکوک احتساب نہیں ، ممتاز عالم دین جنرل سیکرٹری وفاق المدارس قاری حنیف جالندھری نے کہا کہ عدالت میں کیس کو مزید چلنے دیا جاتا تحقیقات کے بعد گرفتاری عمل میں لائی جاتی اب بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ انصاف کے تمام تقاضے ضرور پورے کیئے جانے چاہیءں کوئی بھی جماعت کوئی بھی لیڈر ہو ہر صورت احتساب شفاف ہونا چاہیئے ،پی ٹی آئی علما ونگ کے مرکزی رہنما مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ یہ نیب کا قابل تحسین فیصلہ ہے قوم نیب کے اس فیصلے کو سراہتی ہے کیونکہ شہباز شریف ملک وقوم او ر بالخصوص صوبہ پنجاب کے مجرم ہیں انکی گرفتاری بالکل درست ہے ،صوبائی رہنما مرکزی جمعیت اہل حدیث علامہ عنایت اللہ رحمانی نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں انتقام عام ہے انصاف نہیں ، ہونا یہ چاہیئے تھا کہ انصاف عام ہوتا ، مختلف اوقات میں مختلف فیصلے انصاف اور احتساب کو مشکوک بنادیتے ہیں ، گرفتاری میں عجلت کا مظاہرہ کیا گیا مگر اب شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے احتساب کے نام پر غیر سنجیدہ اور انتقامی کاروائیوں کو بند ہو نا چاہیئے احتساب سب کا بلاامتیاز اور ضرور ہونا چاہیئے ۔پاکستان مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر محمد بلال بٹ ،سابق ایم این اے شیخ طارق رشید نے کہاکہ یہ ٹوٹل انتقامی کاروائی ہے ،اور سیاسی انتقامی فیصلہ ہے ،یہ بات کھل کر واضح ہوچکی ہے کہ نیب آزاد نہیں ہے یہ گرفتاری اس بات کا منہ بولتاثبوت ہے کہ موجودہ حکومت نے نیب کو اپنے تابع کر رکھا ہے اس کا ثبوت وفاقی اور صوبائی وزرا کے انتقامی بدبو سے لبریز بیانات ہیں ۔ہم پارٹی فیصلے اور حکم کے منتظر ہیں اور اس بھونڈے انتقام کے خلاف بھر پور احتجاج کرینگے اس طرز کے ہتھکنڈوں سے ن لیگ کو کبھی بھی ضمنی الیکشن یا سیاست سے آوٹ نہیں کیا جاسکتا ۔پاکستان مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما محمد اسلم طاہر انصاری نے کہاکہ نیب کایہ اقدام مکمل آئینی ہے کہ ملک کے لٹیرے کو اس کے انجام کی طرف روانہ کیا ہے شہباز شریف کی گرفتاری نیب کا قابل تحسین فیصلہ ہے ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے قومی مجرموں کا کڑا احتساب ہونا چاہیئے اور ان سے ملک وقوم کی لوٹی گئی دولت واپس لینی چاہیئے ۔سینئر سرائیکی رہنما سربراہ سرائیکستان قومی کونسل ظہور دھریجہ نے کہاکہ نیب کا فیصلہ بالکل درست ہے ایسا ہی ہونا تھا بلکہ شہباز شریف کی گرفتاری کافی پہلے ہوجانی چاہیئے تھی ، وسیب کو محروم رکھنے پر شہباز کو یہ سزا ملی ہے انہوں نے سرائیکی وسیب سے زیادتی کی ہے اسلیئے مکافات عمل کا شکا ر ہوئے اور یہ ادارہ بنایا ہی ن لیگ نے تھا تو اب اس سے پریشانی کیسی اور کیوں ہے۔مستقبل پاکستان پارٹی کے مرکزی چیئر مین انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے پاکستان سے گفتگو میں کہا کہ کڑے سے کڑا احتساب اور بلاامتیاز ہونا چاہیئے مگر قانونی تقاضے ضرور پورے کئے جانے چاہیءں عجلت میں کوئی بھی اقدام اٹھانے سے گریز کیا جانا چاہیئے ۔پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی رہنما، جنوبی پنجاب کے زونل انچارج شیخ کرامت علی کا کہنا تھا کہ یہ سراسر انتقامی اور مکمل سیاسی کاروائی ہے نیب بالکل ٹھیک کام کرر ہا ہے مگر فیصلہ آنے سے پہلے گرفتاری عمل میں نہیں لانی چاہیئے تھی ، احتساب کے دائرے کو وسیع کیاجائے مشکوک احتساب ملک کے مفاد میں نہیں ہے پی ٹی آئی کو اپنے دعوں کے مطابق اپنے آپ کو بھی احتساب کے لئے پیش کرنا چاہیئے ۔

شہباز شریف گرفتاری

مزید : ملتان صفحہ آخر