دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر تعمیرو تر قی کا عمل شروع کیا جائیگا : اسد قیصر

دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر تعمیرو تر قی کا عمل شروع کیا ...

صوابی( بیورورپورٹ) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ٹوپی شہر میں منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ سے کافی متاثر ہو چکا ہے یہاں کے تعلیمی اور سرکاری اداروں کے علاوہ سارا انفرا سٹرکچر تباہ ہو چکا ہے لیکن بد قسمتی سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر و ترقی اور بحالی پر سابقہ حکومتوں نے توجہ نہیں دی تھی لیکن اب ہماری حکومت نے تہیہ کر رکھا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں تر جیحی بنیادوں پر تعمیر و ترقی کا عمل شروع کرنے کے علاوہ یہاں کے عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کی جائے گی انہوں نے اس امر پر آفسوس کااظہار کیا کہ میاں نواز شریف کی سابقہ حکومت نے ہمارے دریائے سندھ کا پانی چھین کر اس پر غازی بھروتہ ڈیم بنایا جس کے تحت غازی بھروتہ کو 62ہزار کیوسک جب کہ دریائے سندھ میں صرف ایک ہزار کیوسک پانی چھوڑا جاتا ہے دریائے سندھ میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے وہاں موجود بیلا جات اور جنگلات ختم ہونے کے علاوہ مچھیروں کا روزگار ختم ہو چکا ہے تر بیلہ ڈیم سے اٹک تک ضلع صوابی اور اٹک کے اضلاع کا قدرتی حسن ختم ہو کر رہ گیا ہے دریائے سندھ میں پانی کی مقدار کو پورا کرنے کے لئے ہم نے وفاقی وزیر پانی و بجلی عمر ایوب خان کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو بہت جلد اس حوالے سے قانونی اقدامات اُٹھائے گی۔انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں مواصلات کے شعبے میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے گذشتہ ساٹھ سالوں سے کوئی کارکر دگی نہیں دکھائی ہے جس کی وجہ سے صوبہ بھر میں سڑکوں اور روڈز کی حالت ناگفتہ بہ ہے اور کافی علاقے سڑکوں اور روڈز سے محروم چلے آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چونکہ حکومتی سطح پر سرکاری ملازمتوں سے بے روزگاری کا خاتمہ نہیں ہو سکتا ہے اس لئے ہماری کوشش ہے کہ صوبے میں روزگار کے ایسے مواقع پیدا کئے جا سکے جس سے بے روزگاری پر قابو پالیا جا سکے انہوں نے کہا کہ پاک چائنہ مشترکہ سی پیک منصوبے کے تحت رشکئی انٹر چینج کے قریب جو اکنامک زون قائم کیا جارہا ہے اس میں مختلف شعبوں میں بیس لاکھ افراد کو روزگار مہیا ہونگے ۔ اور اس صنعتی زون کا رواں سال کے آخر میں افتتاح کیا جائیگا۔ اسی طرح گدون صنعتی بستی کی بحالی کے لئے مراعات بحال کرینگے اس بستی کی بحالی سے ضلع صوابی کے ہزاروں لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ صوابی کے گھر گھر گیس پہنچانے کا تہیہ کر رکھا ہے اسی طرح بجلی کا مسئلہ حل ہو رہا ہے۔ کھلی کچہری میں شرکاء نے علاقے کے مسائل پیش کر تے ہوئے مطالبہ کیا کہ متاثرین تر بیلہ ڈیم غازی بھروتہ کو پراپرٹی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے سرکاری محکموں میں ملازمتوں کا خصوصی کوٹہ مختص کیا جائے ۔ تربیلہ ڈیم کے لئے ٹوپی کے لوگوں نے اونے پونے اراضی فراہم کی تھی لیکن یہاں لوڈ شیڈنگ زیادہ کی جارہی ہے اسی طرح گدون لیبر کالونی اور ٹوپی کے بعض علاقوں میں گیس موجود نہیں ہے گدون صنعتی بستی میں لیبر لاء پر عملدر آمد کو یقینی بنایا جائے#

مزید : علاقائی